
ایران واقع جوہری تنصیب، تصویر @AdameMedia
اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے گزشتہ سال کیے گئے تباہ کن فضائی حملوں کے بعد ایک بار پھرایران کی جوہری تنصیبات پر سرگرمیاں دیکھی جارہی ہیں۔ تازہ سیٹلائٹ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ ایران نے اپنی دواہم جوہری تنصیبات، اصفہان اور نطنز میں تباہ شدہ ڈھانچوں کے اوپر نئی چھتیں (روف اسٹرکچر) اور کور تیار کرلئے ہیں۔
Published: undefined
پلانیٹ لیبز پی بی سی کی طرف سے جاری کردہ حالیہ سیٹلائٹ تصاویر کے بعد بین الاقوامی برادری میں ان خدشات میں اضافہ ہونے لگا ہے کہ تہران شاید حملوں کے بعد بچے ہوئے حساس جوہری وسائل کو چھپانے یا دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
Published: undefined
جون میں اسرائیل اور ایران کے درمیان 12 روزہ جنگ کے بعد یہ پہلا بڑا تعمیری کام ہے جو کسی بھی بمباری متاثرہ جوہری سائٹ پر دیکھا جارہا ہے۔ نئی چھتوں کی وجہ سے سیٹلائٹ کے لیے زمین پرہورہی سرگرمیوں کو دیکھ پانا مشکل ہوگیا ہے۔ یہ اس لیے اہم ہے کیونکہ ایران نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے معائنہ کاروں کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی ہے اور ایسے میں ریموٹ مانیٹرنگ ہی نگرانی کا واحد ذریعہ بچا ہے۔
Published: undefined
ماہرین کا خیال ہے کہ ان چھتوں کا مقصد کسی نئی جوہری تعمیر سے زیادہ ملبے کے نیچے دبے حساس آلات اور یورنیم کے ذخیرے کو دنیا کی نظروں سے محفوظ نکالنا (سالویج آپریشن) ہو سکتا ہے۔ فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز کی اینڈریا اسٹرائیکر کے مطابق ایران اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ اسرائیل یا امریکہ یہ نہ دیکھ سکیں کہ ان کے حملوں میں کیا کیا محفوظ رہ گیا ہے۔
Published: undefined
تہران سے تقریباً 220 کلومیٹر کے فاصلے پر نظنز، ایران کا سب سے اہم یورینیم افزودگی مرکز رہاہے جہاں 60 فیصد تک افزودہ یورینیم تیار کیاجاتا تھا۔ جون میں اسرائیل نے یہاں کی زمین کے اوپر واقع افزودگی کی اہم مرکزی یونٹ کو تباہ کر دیا تھا جب کہ بعد میں امریکہ نے زیر زمین حصوں پر بنکر بسٹر بموں سے حملہ کیا۔
Published: undefined
سیٹلائٹ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ نطنز میں دسمبر میں ایک نئی چھت کی تعمیر شروع ہوئی تھی اور مہینے کے آخر تک مکمل ہو گئی تھی، حالانکہ بجلی کا نظام اب بھی ناکام بتایا جارہا ہے۔ اسی طرح کی چھت جنوری کے اوائل میں اصفہان میں بھی تعمیر کی گئی تھی۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ ان حملوں میں سینٹری فیوز بنانے والی یونٹوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ کچھ سرنگوں کو مٹی سے بھرتے دیکھا گیا اور ایک سرنگ کو مضبوط بناتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔
Published: undefined
تصاویر میں نطنز کے قریب پکیکس ماؤنٹین نامی جگہ پر مسلسل کھدائی بھی دکھائی دیتی ہے جہاں تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایران ایک نئی زیر زمین جوہری تنصیب تعمیر کر رہا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام سے منسلک سائٹس پر دوبارہ کام شروع کر دیا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined