کرکٹ

سورج کی وجہ سے روکنا پڑا بین الاقوامی میچ، کرکٹ کی تاریخ کا پہلا واقعہ

لنچ کے بعد سورج کی روشنی کی وجہ سے میچ کا کھیل روکنا پڑا۔ دراصل میکلین پارک کے میدان پر سورج کی تیز روشنی سیدھے بلے بازوں کی آنکھوں پر پڑ رہی تھی جس کی وجہ سے ان کا گیند کو دیکھ پانا مشکل ہو رہا تھا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا 

بدھ کے روز ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلا گیا سیریز کا پہلا ایک روزہ بین الاقوامی میچ سورج کی روشنی کی وجہ سے روک دینا پڑا، ایسا کرکٹ کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔

ہندوستان کی ٹیم اس وقت نیوزی لینڈ میں ہے اور وہاں کے نیپیر میں بدھ کے روز 5 میچوں کی سیریز کا پہلا ایک روزہ بین الاقوامی میچ کھیلا گیا۔ ڈنر کے بعد سورج کی روشنی کی وجہ سے اس میچ کا کھیل روک دینا پڑا۔ دراصل میکلین پارک کے میدان پر سورج کی تیز روشنی سیدھے بلے بازوں کی آنکھوں پر پڑ رہی تھی جس کی وجہ سے ان کا گیند کو دیکھ پانا مشکل ہو رہا تھا۔ ایسا بین الاقوامی کرکٹ میں پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔

Published: undefined

تصویر سوشل میڈیا

میدانی امپایر شان جارج نے کہا کہ کھلاڑیوں کی سلامتی کے پیش نظر کھیل کو روک دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ امپایر نے کہا، ’’غروب ہوتے سورج کی روشنی کھلاڑیوں کی آنکھوں پر پڑ رہی تھی اورہمیں ان کی اور امپایروں کی سلامتی کا سوچنا تھا۔ ‘‘

Published: undefined

ماضی میں سورج کی وجہ سے کئی گھریلو مقابلوں کے دوران بھی کھیل روکا گیا ہے۔ مبینہ طور پر انگلیڈ کے کچھ میدانوں پر بھی ایسا ہو چکا ہے لیکن ان میں سے کوئی بھی بین الاوقوامی میچ نہیں تھا۔

Published: undefined

نیوزی لینڈ کے اسٹار بلے باز روس ٹیلر نے کہا کہ ہم نے سیریز سے پہلے اس پر بات کی تھی۔ عموماً اس طرح کی صورت حال سے بچنے کے لئے کرکٹ کی پچوں کو شمال-جنوب سمت میں بنایا جاتا ہے لیکن میکلین پارک کی پچ مشرق-مغرب کی جانب بنی ہے۔

Published: undefined

ادھر نیپیر کے میئر ڈالٹن نے کہا، ’’ہم اس مسئلہ سے نمٹنے کا طریقہ ڈھونڈ رہے ہیں۔ جس وقت کھیل روکا گیا ہندوستان نے نیوزی لینڈ کے 157 رنوں کے جواب میں 10 اوور میں ایک وکٹ پر 44 رن بنائے تھے۔ آخر کار 30 منٹ کی تاخیر کے بعد کھلاڑی میدان پر واپس لوٹے۔ بعد ازاں ہندوستان نے نیوزی لینڈ کو 8 وکٹوں سے کراری شکست دی۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined