اے آئی سمٹ میں احتجاج خلل اندازی نہیں بلکہ بامقصد مظاہرہ تھا، ہم مظاہرین کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں: کانگریس
کانگریس کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں ایسا کوئی فورم نہیں بچا جہاں خدشات کو سنجیدگی سے سنا گیا ہو۔ جب ہم نے پارلیمنٹ میں مسائل اٹھائے تو مودی حکومت نے خاموشی اور ٹال مٹول کو ترجیح دی۔‘‘

اے آئی سمٹ میں یوتھ کانگریس کارکنان کے ذریعہ کیے گئے احتجاج نے ملک میں سیاسی ہلچل کو بڑھا دیا ہے۔ کئی یوتھ کانگریس کے خلاف دہلی پولیس کے ذریعہ کارروائی ہوئی ہے اور انھیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس کارروائی کے خلاف یوتھ کانگریس کے ساتھ ساتھ کانگریس بھی آواز اٹھا رہی ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ ’’اے آئی سمٹ میں احتجاج کوئی خلل اندازی نہیں بلکہ ایک بامقصد مظاہرہ تھا۔ یوتھ کانگریس کے اراکین نے اے آئی سمٹ میں بے روزگاری اور دیگر حل طلب مسائل کا سامنا کر رہے کروڑوں نوجوان ہندوستانیوں کی آواز بلند کی۔‘‘
یہ بیان آج ایک پریس کانفرنس کے دوران کانگریس لیڈر ششی کانت سینتھل نے دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’گزشتہ چند برسوں میں ایسا کوئی فورم نہیں تھا جہاں موجودہ خدشات کو سنجیدگی سے سنا گیا ہو۔ جب ہم نے پارلیمنٹ میں یہ مسائل اٹھائے اور باقاعدہ بحث کا مطالبہ کیا تو مودی حکومت نے خاموشی اور ٹال مٹول کو ترجیح دی۔‘‘۔ ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’اب جبکہ وزیر اعظم نے ایک ایسا معاہدہ کیا ہے جو ملک کے ڈاٹا کو فروخت کرنے کا دروازہ کھول دیتا ہے، تو نوجوان بھی اس حقیقت کو سمجھ کر پریشان ہو جاتے ہیں۔ وہ سمجھ جاتے ہیں کہ ایک ’کمپرومائزڈ‘ وزیر اعظم کے رہتے ان کا کوئی مستقبل نہیں۔‘‘ وہ یہ بتانا بھی نہیں بھولتے کہ نوجوانوں کا احتجاج جمہوری، پُرامن، مختصر اور مکمل طور پر عالمی معیارات کے مطابق تھا۔
یوتھ کانگریس کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ کھڑے رہنے کا عزم ظاہرے کرتے ہوئے ششی کانت سینتھل نے کہا کہ ’’ہم اپنے یوتھ کانگریس اراکین کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں، جنہوں نے حوصلہ اور عزم کا مظاہرہ کیا۔ حقیقی معنوں میں شرم کی بات یہ ہے کہ مودی حکومت نے انہیں دبانے کے لیے اپنی پوری مشینری جھونک دی ہے۔‘‘ مظاہرین کے خلاف ہوئی کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’یوتھ کانگریس کے 4 ساتھیوں پر سنگین دفعات عائد کی گئی ہیں۔ یہ معاملہ صرف دہلی تک محدود نہیں ہے۔ یوتھ کانگریس کے اراکین کو پورے ملک میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مدھیہ پردیش میں 4 ساتھیوں کو حراست میں لیا گیا ہے، اور کل اتر پردیش میں 3 کو حراست میں لیا گیا۔ یہاں تک کہ وہ افراد بھی نشانہ بنائے جا رہے ہیں جو وہاں موجود نہیں تھے۔‘‘ وہ آگے کہتے ہیں کہ ’’کل ایک یوتھ کانگریس ایڈمنسٹریٹر کو بھی حراست میں لیا گیا۔ یہ سب اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مودی حکومت ملک کی سب سے طاقتور نوجوان تنظیم کے خلاف ایک منصوبہ بند اور وسیع تر سازش تیار کر رہی ہے۔‘‘
دہلی میں یوتھ کانگریس کے دفتر کا پولیس کے ذریعہ گھیراؤ کیے جانے کا ذکر بھی پریس کانفرنس میں ششی کانت سینتھل نے کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’اس وقت تقریباً 300-200 پولیس اہلکار یوتھ کانگریس کے دفتر کو گھیرے ہوئے ہیں، جبکہ قومی ایگزیکٹیو کی میٹنگ جاری ہے۔ آج یوتھ کانگریس کے قومی صدر اودے بھانو کو بھی پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔ ہماچل سدن سمیت کئی مقامات پر چھاپے مارے گئے ہیں۔ ان چھاپوں کی وجہ حیران کر دینے والی حد تک صاف ہے، اور وہ ہے ایک جملہ– پی ایم کمپرومائزڈ ہے۔‘‘ وہ بتاتے ہیں کہ ’’گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران دہلی پولیس نے سوشل میڈیا ہینڈلز کی جانچ کی، پوسٹر ضبط کیے اور صرف اس جملہ (پی ایم کمپرومائزڈ ہے) کی اشاعت پر پرنٹنگ پریسوں پر چھاپے مارے۔ ضلع یوتھ کانگریس صدور کو ان الفاظ والے پوسٹر دکھانے پر حراست میں لیا گیا۔ اب ہمیں اطلاع دی جا رہی ہے کہ یوتھ کانگریس کے ساتھیوں کے والدین تک کو اٹھایا گیا ہے۔ ایسے میں یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ مودی حکومت اس بیان سے اتنی خوفزدہ کیوں ہے۔ ظاہر ہے اس میں کوئی ناگوار سچائی پوشیدہ ہے، اور یہی وہ مسئلہ ہے جسے یوتھ کانگریس اٹھانا چاہتی تھی۔‘‘
ششی کانت سینتھل نے پریس کانفرنس میں پارٹی کی طرف سے کچھ اہم مطالبات حکومت و انتظامیہ کے سامنے رکھے، جو اس طرح ہیں:
یہ ہراسانی بند ہونی چاہیے۔ پُرامن احتجاجی مظاہرہ کو جرم یا خطرہ نہ سمجھا جائے۔
نوجوانوں کو سوال پوچھنے کا حق ہے، خاص طور پر جب حالات جوابدہی کا تقاضا کریں۔ کسی تنظیم یا اس سے وابستہ افراد کے خاندانوں کو نشانہ بنانے کا کوئی جواز نہیں۔
ہم تمام حراست میں لیے گئے افراد کے خلاف درج ایف آئی آر کی مکمل تفصیلات، بشمول گرفتاری کی ٹھوس بنیادوں کو سامنے لانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
حکومت سی سی ٹی وی فوٹیج اور وہ تمام شواہد منظر عام پر لائے جن کی بنیاد پر اتنی سنگین دفعات عائد کی گئی ہیں۔
تمام حراست میں لیے گئے افراد اور ان کے اہل خانہ کو فوری قانونی رسائی فراہم کی جائے۔
حکام اس بات کو یقینی بنائیں کہ جمہوری اور پُرامن احتجاج میں حصہ لینے والوں کے خاندانوں کے خلاف ریاستی طاقت کا غلط استعمال نہ ہو۔
اس پریس کانفرنس سے کانگریس کے کچھ دیگر سرکردہ لیڈران نے بھی خطاب کیا۔ راجستھان کے ٹونک سے رکن پارلیمنٹ ہریش چندر مینا نے کہا کہ ’’مودی حکومت نوجوانوں کی آواز سننے کو تیار ہی نہیں ہے۔ جمہوریت میں سب کو اپنی بات رکھنے کا حق ہے۔ ایسے میں وہ نوجوان بے روزگاری جیسے تمام ضروری ایشوز پر اپنی بات پُرامن انداز میں رکھ رہے تھے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’اس احتجاجی مظاہرہ کے دوران نہ ہی کوئی تشدد ہوا، اور نہ توڑ پھوڑ۔ وہ لوگ صرف ملک کے نوجوانوں کی حالت پر مودی حکومت کی توجہ کھینچنا چاہتے تھے۔‘‘
انبالہ سے رکن پارلیمنٹ ورون چودھری نے بھی اس پریس کانفرنس میں اپنی بات رکھی۔ انھوں نے کہا کہ ’’آج ملک کے نوجوانوں کو تاریکی نظر آ رہی ہے، اس لیے انھوں نے پُرامن مظاہرہ کر اپنی بات رکھی۔ اقتدار کے خلاف ایسے مظاہرے پہلے بھی ہوئے ہیں، لیکن نوجوانوں پر ایسا ظلم کبھی نہیں کیا گیا۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’یوتھ کانگریس کے ساتھی دیکھ رہے ہیں کہ آج ملک کا نوجوان کتنا پریشان ہے، اس لیے انھوں نے نوجوانوں کی آواز اٹھائی ہے۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔