گرپتونت سنگھ پنّوں قتل معاملہ: گستاخی اُسی وقت تک ٹھیک ہے، جب تک پکڑے نہ جائیں... آشیش رے
اپنی زمین کے باہر اس طرح کے مشکل آپریشن کو صرف اعلیٰ سطح سے ہی منظوری دی جا سکتی تھی۔ حالانکہ تب ’را‘ کے چیف سامنت گویل تھے، لیکن حکم اوپر سے ہی آئے ہوں گے اس میں کوئی شبہ نہیں۔

ہندوستانی کاروباری اور مبینہ منشیات اسمگلر نکھل گپتا نے امریکہ میں 3 معاملوں میں اپنا جرم قبول کر لیا ہے۔ یہ معاملے ہیں ’کرائے پر قتل، کرائے پر قتل کی سازش اور منی لانڈرنگ کی سازش‘۔ یہ جڑا ہے نیویارک میں رہنے والے امریکی شہری گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی کوشش سے۔ پنوں ’سکھس فار جسٹس‘ کے جنرل کاؤنسل ہیں۔ یہ تنظیم ہندوستان سے الگ آزاد ’خالصتان‘ ملک کا مطالبہ کرتی ہے۔ قابل غور ہے کہ نکھل گپتا کو 2023 میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ اس وقت نیویارک میں حراست میں ہے۔
حکومت ہند نے نکھل گپتا یا غیر ملکی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے سابق ملازم وکاس یادو سے کسی بھی تعلق سے انکار کیا ہے۔ نکھل گپتا نے مبینہ طور پر بتایا کہ کسے نشانہ بنانا ہے اور اس کے لیے امریکہ میں کرایہ کے قاتل کا انتظام کرنے کے لیے رقم فراہم کی۔ اگر نکھل گپتا نے جرم قبول نہ کیا ہوتا تو انہیں فوجداری ٹرائل کا سامنا کرنا پڑتا اور ان کے خلاف شواہد پیش کر کے انہیں مجرم ثابت کیا جاتا۔ گپتا کے اعتراف جرم کے بعد امریکی اٹارنی آفس سے جاری پریس نوٹ کا بولڈ سب ٹائٹل تھا: ’نکھل گپتا نے امریکہ میں موجود سکھ علیحدگی پسند لیڈر کا قتل کرانے کا انتظام ایک ہندوستانی سرکاری ملازم کے کہنے پر کیا۔‘ ایف بی آئی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ان چارج، جیمز بارنکل جونیئر کے حوالے سے کہا گیا کہ ’ایک ہندوستانی سرکاری ملازم کے کہنے پر نکھل گپتا نے امریکہ میں ایک امریکی شہری کے قتل کی سازش رچی۔‘ نوٹ میں ’وکاس یادو‘ کو ہندوستانی سرکاری ملازم اور کیس میں ’شریک ملزم‘ بتایا گیا ہے۔ اسے ’وکیل اور سیاسی کارکن (پنوں) کے قتل کی سازش رچنے والا‘ قرار دیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ’یادو کو حکومت ہند کے کابینہ سکریٹریٹ نے ملازمت پر رکھا تھا، جہاں را کا دفتر ہے۔‘
اس میں آگے کہا گیا ہے کہ ’’جون 2023 میں یا اس کے آس پاس، یادو نے امریکہ میں (پنوں کی) قتل کی سازش رچنے کے لیے گپتا کو مقرر کیا۔ یادو کے کہنے پر گپتا نے ایک ایسے شخص سے رابطہ کیا جسے وہ ایک مجرمانہ ساتھی سمجھتا تھا تاکہ نیویارک میں ’وکٹم‘ کا قتل کرنے کے لیے ہٹ مین تلاش کرنے میں مدد مل سکے۔ لیکن وہ شخص دراصل ڈی ای اے (ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن) کے ساتھ کام کرنے والا ایک قابل اعتماد ذریعہ تھا۔‘‘ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’’بعد میں یادو، گپتا کی جانب سے کی گئی ڈیل میں انڈرکور افسر کو قتل کے لیے ایک لاکھ ڈالر دینے پر آمادہ ہو گیا۔ 9 جون 2023 یا اس کے آس پاس، یادو اور گپتا نے انڈرکور ایجنٹ کو قتل کے لیے ایڈوانس ادائیگی کے طور پر 15,000 ڈالر نقد پہنچانے کا انتظام کیا۔ جون 2023 کے آس پاس قتل کی سازش کو آگے بڑھانے کے لیے یادو نے گپتا کو ’وکٹم‘ کی ذاتی معلومات دیں، جن میں نیویارک شہر میں اس کے گھر کا پتہ، فون نمبر اور اس کے روزمرہ معمولات کی معلومات شامل تھیں۔ گپتا نے یہ معلومات انڈرکور ایجنٹ کو دے دیں۔ اس کے بعد گپتا نے یادو کو قتل کی سازش کے بارے میں مسلسل اپ ڈیٹس دیں، جن میں وکٹم کی نگرانی کی تصاویر بھی شامل تھیں۔‘‘
اس انکشاف پر پنوں کا رد عمل یہ تھا: ’’مودی حکومت کا یہ دعویٰ کہ کرایہ پر قتل کی سازش ایک ’بدمعاش ایجنٹ‘ کا کام تھا، وفاقی عدالت میں پیش شواہد کے سامنے بے معنی ہو جاتا ہے۔‘‘ 16 فروری کو ’اکنامک ٹائمز‘ نے رپورٹ کیا کہ ’’ہندوستانی عہدیداروں نے دہرایا کہ نئی دہلی اس مبینہ سازش میں شامل نہیں تھی…۔‘‘ اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ عہدیدار کون تھے۔
گپتا کا جرم قبول کرنا کہانی کا اختتام نہیں۔ یادو اب بھی شریک ملزم ہے، اور استغاثہ واضح طور پر حکومت ہند کے ایک محکمہ کی طرف اشارہ کر رہا ہے جو مودی اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال کے ماتحت کام کرتا ہے۔ اپنی سرزمین کے باہر اس طرح کے دشوار آپریشن کو صرف اعلیٰ ترین سطح سے ہی منظوری دی جا سکتی تھی۔ اگرچہ اُس وقت را کے سربراہ سامنت گوئل تھے، لیکن احکامات اوپر سے ہی آئے ہوں گے، اس میں کوئی شبہ نہیں۔ 1968 میں اپنے قیام کے بعد سے را ایک قابل بیرونی انٹیلی جنس تنظیم رہی ہے، جو کم از کم 2014 تک ریمبو اسٹائل کارروائیوں کے لیے تو نہیں جانی جاتی تھی۔
ہندوستان کے انٹیلی جنس بیورو کے ڈائریکٹر کے طور پر 6 ماہ گزارنے کے بعد ڈووال نے وہ طریقہ اپنایا جسے سادہ لوح لوگوں نے ’ڈیفینسو-آفینسو‘ نظریہ کے نام سے قبول کر لیا۔ ان کے بے بنیاد خیالات موساد کی پلے بک سے لیے گئے تھے اور مودی کی من گھڑت ’مسلر فارن پالیسی‘ سے ہم آہنگ تھے۔ نتیجتاً ہندوستانی انٹیلی جنس افسران کو نارتھ امریکہ، برطانیہ اور آسٹریلیا میں ناپسندیدہ قرار دے دیا گیا جو ہندوستان کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا۔
یادو پر بھی گپتا کی طرح 3 معاملات میں فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ امریکی عہدیداروں نے اکتوبر 2024 میں گرفتاری وارنٹ جاری کیا، اور وہ اب بھی ایف بی آئی کی ’موسٹ وانٹیڈ‘ فہرست میں ہے۔ اس کے سر پر انٹرپول ریڈ کارنر نوٹس معلق ہے۔ یہ معلوم نہیں کہ 20 سال قید کی ممکنہ سزا کم ہونے کی امید میں گپتا کتنا انکشاف کر چکا ہے یا کرنے والا ہے۔ (امریکہ میں ملزم اپنا گناہ قبول کر کے ’پلی بارگین‘ کر سکتے ہیں اور عموماً وہ ہلکی سزا کے لیے شریک ملزم کے بارے میں سب کچھ بتا دیتے ہیں۔)
اب جب گپتا نے اپنا جرم قبول کر لیا ہے، تو امریکہ یادو کے بارے میں باقاعدہ حوالگی کی درخواست کر سکتا ہے۔ یادو کو یا تو ملازمت سے نکال دیا گیا ہے یا انہوں نے باہمی رضامندی سے سرکاری عہدہ چھوڑ دیا ہے۔ مودی حکومت کا ایک مشکل قدم یہ ہو سکتا ہے کہ یادو پر پنوں یا کسی اور معاملے میں مقدمہ چلایا جائے (دہلی پولیس نے مبینہ طور پر ان کے خلاف بھتہ خوری کا مقدمہ درج کیا ہے)۔ اگر انہیں عدالتی حراست میں لیا جاتا ہے تو ساؤتھ بلاک انہیں حوالگی سے بچانے کے لیے 1997 کی ہند-امریکہ حوالگی معاہدے کا استعمال کر سکتا ہے۔ ظاہر ہے، یادو کے پاس اس بارے میں کہنے کے لیے بہت کچھ ہو سکتا ہے کہ پنوں کے قتل کا حکم کس نے دیا تھا۔
انٹیلی جنس ایجنسیوں کی تاریخ رہی ہے کہ وہ مشتبہ افراد، ملزمان یا سزا یافتہ مجرموں کے ساتھ لین دین کے معاہدے کرتی ہیں، انہیں گندے کاموں کے لیے بھرتی کرتی ہیں، اور عوامی طور پر اس سے انکار کرتی رہتی ہیں۔ حکومت ہند گپتا سے فاصلہ بنا سکتی تھی، لیکن یادو کے ساتھ ان کے واضح روابط کے شواہد کو جھٹلایا نہیں جا سکتا، جس سے مودی حکومت مشکل میں پڑ گئی ہے۔
امریکی اٹارنی آفس کے بیان میں جون 2023 میں وینکوور کے مضافات میں گرودوارے کے باہر سکھ علیحدگی پسند ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کا بھی ذکر ہے۔ اُس وقت کناڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا بھی تھا کہ ’قابل اعتماد الزامات‘ ہیں کہ حکومت ہند کے ایجنٹ اس میں شامل تھے۔ مودی حکومت نے اس الزام کو ’لغو‘ قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔ تاہم، پچھلے سال امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے باعث کناڈا کو جو معاشی نقصان اٹھانا پڑا، اس نے نئے وزیر اعظم مارک کارنی کو نجر معاملے کو فی الحال سرد خانے میں ڈالنے پر مجبور کر دیا ہے۔ نجر کیس میں زیادہ تر شواہد، جن میں ہندوستانی عہدیداروں کے درمیان مبینہ گفتگو کے انٹرسیپٹس بھی شامل ہیں، امریکہ نے کناڈا کے ساتھ شیئر کیے تھے۔ ٹرمپ کا ناقابل اعتماد ہونا اور امریکی انٹیلی جنس تنظیموں کے موجودہ سربراہان (نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر تلسی گبارڈ اور ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل) پر اعتماد کی کمی نے کناڈائی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو محتاط کر دیا ہے۔
بیرون ملک خالصتانیوں کو مار ڈالنے کا رویہ شاید انتہا پسندانہ ہے۔ پنجاب میں علیحدگی پسند جذبات کم ہونے کے باعث ایسا طرز عمل نہ صرف ہتھوڑے سے مکھی مارنے کے مترادف ہے بلکہ اس سے ایک مرتی ہوئی تحریک کے دوبارہ زندہ ہو جانے کا بھی خطرہ ہے۔ پنوں کو زیادہ اہمیت دینے سے وہ ہیرو بن گیا ہے۔ جارحانہ کاؤنٹر جاسوسی تبھی کام کرتی ہے جب آپ پکڑے نہ جائیں۔ جیمز بانڈ کے بارے میں سوچیں، جو ہر بار کسی نہ کسی طرح بچ نکلتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ گپتا 007 جتنا خوش قسمت ہونے کی امید کر رہا تھا۔
(آشیش رے سی این این کے ایڈیٹر-ایٹ-لارج رہ چکے ہیں)
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔