فکر و خیالات

132 سال قبل ہمالیہ میں آئی آفت سے ہم نیپال میں آئے اچانک سیلاب کے بارے میں کیا سیکھ سکتے ہیں!

1894 کی گوہنا جھیل کی آفت دکھاتی ہے کہ جب ہمالیہ کو قابو میں نہیں کیا جا سکتا، تب بھی وقت پر ملنے والی وارننگ سے جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>نیپال میں سیلاب کا منظر، تصویر/آئی اے این ایس</p></div>

نیپال میں سیلاب کا منظر، تصویر/آئی اے این ایس

 

بدھ (26 اکتوبر) کی صبح نیپال کے رسوا ضلع میں آئے اچانک بھیانک سیلاب نے یہ یاد دلا دیا کہ جو ہمالیہ کبھی زندگی کا ذریعہ ہوتا تھا، وہ کتنی تیزی سے تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔ اس سیلاب کا پانی، گاد اور بڑے بڑے پتھر بھوٹے کوشی اور تریشولی ندی نظام میں تیزی سے بہے، جس سے راستے میں آنے والی بستیاں اور بنیادی ڈھانچے تباہ ہو گئے۔ سائنس دانوں کے ابتدائی اندازوں سے پتہ چلتا ہے کہ بھوٹے کوشی کی معاون ندی، لینڈے کھولا میں برف اور چٹانوں کا ملبہ (آئس راک ایولانچ) گرا ہوگا، جس سے پانی کا بہاؤ اچانک بڑھ گیا۔

اس فلیش فلڈ میں پانی کی رفتار بہت زیادہ تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ تریشولی ندی کے بہاؤ کی سمت میں آگے گلچی نام کی جگہ پر صرف 30 منٹ میں ندی کی سطح آب 9 میٹر تک بڑھ گئی۔ سائنس دان اس بات کی بھی جانچ کر رہے ہیں کہ کیا برفانی تودے کے ملبے نے کچھ وقت کے لیے ندی کا راستہ روک دیا تھا، جس سے آگے کی طرف اچانک پانی کے تیزی سے بہنے کی صورت حال بن گئی۔

ایسے ارضیاتی واقعات کو روکنے کے لیے انسان بہت کچھ نہیں کر سکتے۔ لیکن وہ کچھ چیزیں ضرور کر سکتے ہیں، یعنی خطرے کو سمجھنا، اس پر مسلسل نظر رکھنا، وارننگ دینا اور لوگوں کو خطرے والی جگہ سے محفوظ باہر نکالنا۔ اس سبق کی ایک انتہائی شاندار مثال موجود ہے، جدید سیٹلائٹ یا مصنوعی ذہانت سے نہیں، بلکہ 130 سال سے بھی پہلے گڑھوال ہمالیہ میں انجینئروں، ماہرین ارضیات اور منتظمین کی اجتماعی کوشش سے۔

21 ستمبر 1893 کو، آج کے اتراکھنڈ میں الکنندا کی معاون ندی، برہی گنگا کا راستہ ایک زبردست لینڈ سلائیڈ کی وجہ سے رک گیا تھا۔ پہاڑ کی اونچی ڈھلان سے ہونے والی اس لینڈ سلائیڈ نے ایک بہت بڑا قدرتی بند بنا دیا تھا۔ اس کے پیچھے پانی جمع ہونے لگا اور آخرکار گوہنا جھیل بن گئی۔ یہ ایک بہت بڑے پیمانے کا ارضیاتی واقعہ تھا۔ ماہرین ارضیات کے اندازوں کے مطابق لاکھوں ٹن چٹانیں وادی میں گر گئی تھیں، جس سے کئی کلومیٹر لمبی اور سینکڑوں میٹر گہری جھیل بن گئی تھی۔ حکام کو تقریباً فوراً ہی سمجھ آ گیا کہ جھیل بہت بڑا خطرہ ہے۔ اگر قدرتی بند ٹوٹ جاتا، تو پانی کی بھاری مقدار برہی اور الکنندا وادیوں سے ہوتی ہوئی نیچے کی طرف بہتی اور شاید سری نگر اور اس سے آگے تک پہنچ جاتی۔

اس کے بعد جو ہوا، وہ ہمالیہ میں منظم آفت کے خطرے کے انتظام کی ابتدائی سب سے قابل ذکر مثالوں میں سے ایک ہے۔ جھیل پر نظر رکھنے کے لیے آرمی انجینئر لیفٹیننٹ کروک شینک اور انجینئر تھامس ہالینڈ کو بھیجا گیا۔ گوہنا اور چمولی کے درمیان ایک عارضی ٹیلی گراف لائن بچھائی گئی تاکہ جھیل کے بارے میں معلومات تیزی سے بھیجی جا سکیں۔ پانی کی سطح کو باقاعدگی سے ریکارڈ کیا گیا اور انجینئروں نے غیر مستحکم قدرتی بند کے رویے کا مطالعہ کیا۔

حکام صرف نگرانی تک ہی محدود نہیں رہے۔ ندی کے بہاؤ کی سمت میں آگے کی طرف نگرانی چوکیاں بنائی گئیں۔ الکنندا اور گنگا کی وادیوں میں خطرے کی سطحیں طے کی گئیں۔ جب ندی کی سطح آب مقررہ حد سے اوپر پہنچ جاتی، تو خطرے والے علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو وہاں سے ہٹنے کی ہدایات دی جاتی تھیں۔ سسپنشن برج (جھولتے پل) ہٹا دیے گئے اور مسافروں کے راستے تبدیل کر دیے گئے۔ سیلاب کے خدشے والے علاقوں میں آباد گاؤں خالی کرا لیے گئے۔ سب سے خاص بات یہ تھی کہ انجینئروں نے یہ اندازہ لگانے کی کوشش کی کہ قدرتی بند کب ٹوٹے گا۔

22 اگست 1894 کو کروک شینک نے خبردار کیا کہ 2 دن کے اندر سیلاب آنے کا امکان ہے۔ یہ پیش گوئی بہت درست ثابت ہوئی۔ 26-25 اگست کی نصف شب کے آس پاس جھیل کا پانی لینڈ سلائیڈ سے بنے بند کے اوپر سے بہنے لگا اور بند جزوی طور پر ٹوٹ گیا، جس سے پانی کا ایک بہت بڑا بہاؤ نیچے کی طرف بہہ نکلا۔ تباہی بہت زیادہ تھی۔ سری نگر، جو اس وقت گڑھوال کا ایک اہم شہر تھا، پوری طرح برباد ہو گیا۔ کھیت، گھر، پل اور دوسرے بنیادی ڈھانچے بہہ گئے۔ اس وقت کے اندازوں کے مطابق چھوڑے گئے پانی کی مقدار 10,000 ملین کیوبک فٹ سے زیادہ تھی۔ پھر بھی، سب سے اہم اعداد و شمار پانی کی مقدار یا تباہ ہونے والی املاک کے نہیں تھے۔ یہ مرنے والے لوگوں کی تعداد تھی۔ اس حادثے میں تقریباً کسی کی جان نہیں گئی۔

اس وقت کے بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ وادی میں وارننگ بھیج دی گئی تھی اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچا دیا گیا تھا۔ بعد کی ایک تفصیل میں ایک ایسے خاندان کے 5 افراد کی موت کا ذکر ہے جس نے وہاں سے ہٹنے کی وارننگ کو نظرانداز کر دیا تھا۔ حالانکہ، تاریخ کے دوسرے بیانات میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے میں کسی کی جان نہیں گئی۔

اس سے ملنے والا سبق یہ نہیں ہے کہ آفات کو روکا جا سکتا ہے۔ گوہنا کی کہانی فطرت پر فتح حاصل کرنے کی نہیں ہے۔ لینڈ سلائیڈ کو روکا نہیں جا سکا۔ جھیل کو صرف چاہنے بھر سے ختم نہیں کیا جا سکتا تھا۔ جب آخرکار بند ٹوٹا، تو سیلاب کو روکا نہیں جا سکا۔ جس چیز کو کنٹرول کیا جا سکتا تھا، وہ خطرے کی زد میں آنا تھا۔

گوہنا جھیل اگلے 77-76 سالوں تک چھوٹی شکل میں بنی رہی۔ جولائی 1970 میں الکنندا بیسن میں ایک اور زبردست سیلاب آیا، جس سے جھیل گاد سے بھر گئی اور آخرکار وہ پوری طرح تباہ ہو گئی۔ 1970 کی اس آفت میں سینکڑوں لوگ مارے گئے اور پوری وادی میں زبردست تباہی ہوئی۔ 1894 اور 1970 کے واقعات کے فرق سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ ہمالیہ کا مزاج تو ویسا ہی غیر یقینی بنا رہا۔ جو چیزیں بدلیں، وہ تھیں واقعے کی نوعیت اور پیمانہ، زمینی حالات اور لوگوں اور بنیادی ڈھانچے کی کمزوری۔

آج ہمارے پاس ایسی ٹیکنالوجی ہے، جس کے بارے میں 1894 کے منتظمین شاید ہی سوچ سکتے تھے۔ سیٹلائٹ پہاڑ کی ان ڈھلانوں کو بار بار اسکین کر سکتے ہیں، جہاں پہنچنا مشکل ہے۔ زلزلے کی پیمائش کرنے والے آلات اچانک ہونے والی ہلچل کا پتہ لگا سکتے ہیں۔ ندی کے گیج پانی کی سطح کا ڈاٹا ریئل ٹائم میں بھیج سکتے ہیں۔ ہائی ریزولوشن والی تصاویر لینڈ سلائیڈ، غیر مستحکم ڈھلانوں اور گلیشیئر کی بدلتی ہوئی حالتوں کی شناخت کر سکتی ہیں۔ سائنس داں یہ ماڈل بنا سکتے ہیں کہ کس طرح کوئی رکاوٹ سینکڑوں کلومیٹر دور نشیبی علاقے میں سیلاب کی لہر میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ لیکن ٹیکنالوجی تبھی کارآمد ہوتی ہے، جب اسے حقیقی کام میں تبدیل کیا جائے۔

1894 میں ایک عارضی ٹیلی گراف لائن ابتدائی وارننگ دینے والے نظام کا حصہ بنی۔ آج ہمارے پاس سیٹلائٹ، موبائل فون، خودکار سینسر اور ڈیجیٹل کمیونیکیشن موجود ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے ایسا نظام بنایا ہے جو اس ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے وارننگ کے لیے کچھ قیمتی منٹ دے سکے... اور ان منٹوں کی مدد سے لوگوں کی جانیں بچائی جا سکیں؟

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔