
سوویندو ادھیکاری / آئی اے این ایس
مغربی بنگال میں پہلی بار حکومت قائم کرنے کے بعد بی جے پی بہت عجلت میں ہے۔ اس کی کوشش ہے کہ وہ جلد از جلد ریاست کی شکل و صورت بدل دے۔ وہ ایک سیکولر اسٹیٹ کو ہندو اسٹیٹ بنانے کے لیے بے چین ہے۔ لہٰذا اتنی تیزی سے احکامات جاری کیے جا رہے ہیں اور کارروائیاں ہو رہی ہیں کہ دیکھنے والے حیرت زدہ ہیں۔ اپوزیشن ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے رہنما سوویندو ادھیکاری حکومت کے احکامات اور اقدامات کو انتقامی سیاست کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔ بظاہر اس الزام میں صداقت نظر آتی ہے۔ جس طرح ٹی ایم سی رہنماؤں، کارکنوں اور اس سے ہمدردی رکھنے والوں کے خلاف ایکشن لیا جا رہا ہے وہ اس الزام کو حق بجانب ثابت کرتا ہے۔
جب انتخابی نتائج کا اعلان ہوا اور ٹی ایم سی کی شکست اور بی جے پی کی فتح ہوئی تو اس کے فوراً بعد ہی تشدد کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ بی جے پی کے کارکنوں نے ٹی ایم سی کے دفاتر پر حملے کیے۔ ان کو نذر آتش کیا اور بہت سے دفاتر کو تہس نہس کر دیا۔ حالانکہ بی جے پی کی جانب سے جو بیانات دیے گئے ان میں ٹی ایم سی کے کارکنوں کو قصوروار بتایا گیا۔ تشدد میں ملوث بی جے پی کارکنوں کے خلاف ایکشن نہ لینا پڑے اس لیے یہ بہانہ بنایا گیا۔ ادھر ٹی ایم سی کے متعدد رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاری بھی عمل میں آرہی ہے۔ ان پر مختلف قسم کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ ممتا بنرجی اور ابھیشیک بنرجی نے اس کارروائی کو انتقامی سیاست قرار دیا ہے۔ ادھیکاری حکومت نے ممتا حکومت کے دوران خواتین کے خلاف مظالم کی جانچ کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔
Published: undefined
بی جے پی حکومت نے جو احکامات جاری کیے ہیں ان میں سب سے نیا آرڈر سالٹ لیک اسٹیڈیم میں فٹبال کی علامت کے طور پر بنائے گئے دو دیو ہیکل پیروں کو ہٹانا ہے۔ یہ علامت ممتا بنرجی نے 2017 میں تعمیر کروائی تھی جو کہ ریاست میں فٹبال کے تئیں عوام کی دیوانگی کا پتا دیتی ہے۔ اس کے علاوہ فوج نے کولکاتا میں گاندھی جی کے مجسمے کے قریب احتجاج کے لیے ٹی ایم سی کے ذریعے بنائے گئے ایک اسٹیج کو گرا دیا ہے۔ اس پر ٹی ایم سی نے حکومت پر مرکزی ایجنسیوں کے استعمال کا الزام عائد کیا ہے۔ اپوزیشن لیڈروں کا کہنا ہے کہ ممتا بنرجی کے بھتیجے اور پارٹی کے ایک بڑے رہنما ابھیشیک بنرجی سمیت پارٹی کے دیگر لیڈروں کے خلاف سی بی آئی اور ای ڈی جیسی مرکزی ایجنسیوں کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔
بی جے پی اپنے ایجنڈے کے مطابق ثقافتی تبدیلی کو بہت اہمیت دیتی ہے۔ یعنی وہ چاہتی ہے کہ سیکولر روایات کا خاتمہ ہو اور ہندوتو وادی روایات کا بول بالا ہو۔ اس کے لیے فلموں کا بھی غلط استعمال کیا جاتا ہے۔ بالی ووڈ میں ایسی فلمیں بنوائی جاتی ہیں جو بالخصوص سیکولر نظریات کے خلاف ہوں اور جن سے اقلیتوں کو بدنام کیا جا سکے۔ ایسی متعدد فلمیں بنی ہیں جو مسلمانوں کے خلاف ہیں۔ اب یہی سب کچھ بنگال میں بھی دہرایا جا رہا ہے۔ ریاست کے انٹرٹینمنٹ سیکٹر کو بھی بھگوا رنگ میں رنگنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لہٰذا ٹی ایم سی کی طرف جھکاو رکھنے والے بہت سے اداکاروں کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ فلمی ماحول تبدیل کریں۔ ٹی ایم سی سے سیاسی وابستگی رکھنے والے اداکاروں کا بائیکاٹ کیا جا رہا ہے اور انھیں مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی سیاسی وفاداری بدلیں۔
Published: undefined
وزیر اعلیٰ سوویندو ادھیکاری نے حکومت میں آنے کے نو دن بعد ہی اماموں اور پجاریوں کو حکومت کی جانب سے دیا جانے والا بھتہ بند کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ یکم جون سے بھتہ بند کر دیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس دہندگان کا پیسہ عوامی فلاح و بہبود میں استعمال کیا جائے گا۔ کابینہ نے ایک کمیشن تشکیل دیا ہے جو انتظامیہ میں مبینہ بدعنوانیوں کی جانچ کرے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اطلاعات و ثقافتی محکمہ اور اقلیت اور مدرسہ محکمہ تعلیم کے تحت جو اسکیمیں مذہب کی بنیاد پر چلائی جا رہی تھیں ان سب کو ختم کیا جا رہا ہے۔
ظاہر ہے کہ یہ فیصلہ صرف مسلمانوں کے خلاف نہیں بلکہ ہندوؤں کے خلاف بھی ہے۔ اگر ممتا حکومت اماموں کو بھتہ دیتی تھی تو وہ پجاریوں کو بھی دیتی تھی۔ لیکن اب دونوں کو ہی نہیں ملے گا۔ دہلی، یوپی، بہار اور اتراکھنڈ وغیرہ میں شروع کیا جانے والا بلڈوزر کلچر اب بنگال میں بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے انتخابی مہم کے دوران اعلان کیا تھا کہ اب بنگال میں بھی بلڈوزر چلے گا اور وہی ہو رہا ہے۔ جبکہ سپریم کورٹ بلڈوزر کلچر اور بلڈوزر انصاف کے خلاف سخت فیصلہ صادر کر چکا ہے۔ لیکن اس کے فیصلے کا کوئی اثر نہیں ہے اور بلڈوزر سے لوگوں کے مکانات منہدم کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
Published: undefined
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ بی جے پی مسلمانوں کی مخالفت میں ہندوؤں کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ بنگال میں گائے کا ذبیحہ عام تھا۔ عام دنوں میں بھی گائے کا ذبیحہ ہوتا تھا اور عیدالاضحی کے موقع پر بھی۔ اس پر نہ تو کانگریس حکومت نے پابندی لگائی تھی نہ کمیونسٹ حکومت نے اور نہ ہی ٹی ایم سی حکومت نے۔ لیکن اب بی جے پی حکومت نے اس پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس کے لیے 1950 کے ایک قانون کا سہارا لیا گیا ہے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ مسلمان عیدالاضحی کے موقع پر قربانی نہ کر سکیں۔ لیکن اس کا جو الٹا اثر پڑا وہ بی جے پی کے گلے کی ہڈی بن گیا۔ وہاں گائے عام طور پر ہندو پالتے ہیں۔ وہ پورے سال گائے کی پرورش کرتے ہیں اور عیدالاضحی پر مسلمانوں کے ہاتھوں فروخت کرتے رہے ہیں۔ لیکن اب اس پابندی کا اثر گائے پالنے والے ہندوؤں پر پڑ رہا ہے۔
مسلمانوں نے انتہائی دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا کہ وہ گائے کی قربانی نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس پر پابندی لگا دی ہے اور ہم حکومتی حکم پر عمل کریں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر کسی مسلمان نے گائے کی قربانی کی تو اسے فوراً پولیس گرفتار کر لے گی اور سلاخوں کے پیچھے بھیج دے گی۔ لہٰذا مسلمان اس آفت سے بچنے کے لیے گائے کی قربانی سے دور ہو گئے ہیں۔ اس کا اثر گائے پالنے والے ہندوؤں پر پڑ رہا ہے۔ وہ رو رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی روزی روٹی کے لالے پڑ گئے ہیں۔ وہ سال بھر اسی لیے گائے پالتے ہیں تاکہ بقرعید کے موقع پر انھیں مسلمانوں کے ہاتھوں فروخت کرکے اچھی کمائی کریں۔ لیکن اب ان کی گائیں فروخت نہیں ہو رہی ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ لوگ بی جے پی حکومت کو کوس رہے ہیں۔
Published: undefined
بی جے پی اور ٹی ایم سی کے سابق لیڈر ہمایوں کبیر نے اس معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔ انھوں نے بیان دیا ہے کہ مسلمان گائے کی قربانی کریں گے دیکھتے ہیں کون روکتا ہے۔ بلا شبہ یہ ایک اشتعال انگیز بیان ہے۔ اگر ناسمجھ اور جذباتی مسلمان اس بیان کے جھانسے میں آگئے اور انھوں نے گائے کی قربانی کی تو لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔ لہٰذا مسلمانوں کو اس بیان سے دور رہنا چاہیے۔ ویسے ابھی تک تو مسلمان ہمایوں کبیر کے جھانسے میں نہیں آئے ہیں اور توقع ہے کہ نہیں آئیں گے۔ ہمایوں کبیر مسلمانوں کے ہمدرد نہیں ہیں۔ انھوں نے مسلمانوں کے اکثریتی ضلع مرشد آباد میں بابری مسجد کا سنگ بنیاد رکھا ہے۔ جس کی وجہ سے فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔ ان کے بارے میں مسلمانوں اور عام لوگوں کا یہ پختہ خیال ہے کہ وہ بی جے پی کے ایجنٹ ہیں۔ انھوں نے بی جے پی ہی کے اشارے پر بابری مسجد کا شوشہ چھوڑا۔ انتخابی مہم کے دوران ان کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں وہ ٹی ایم سی کو ہرانے کے لیے بی جے پی سے دو ہزار کروڑ روپے کا سودا کرتے نظر آرہے ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق ان کو بی جے پی سے ایک ہزار کروڑ روپے ملے تھے۔ لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس جال میں نہ پھنسیں۔
بہرحال نئی حکومت کے ان اقدامات سے دو باتیں واضح ہوتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ بی جے پی انتقامی کارروائیاں کر رہی ہے اور دوسرے ایک سیکولر اسٹیٹ کو بھگوا اسٹیٹ میں بدلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اس کے ان اقدامات کا کیا نتیجہ برآمد ہوتا ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined