
سویندو ادھیکاری / آئی اے این ایس
مغربی بنگال میں 2026 کے اسمبلی انتخابات سے پہلے جب سویندو ادھیکاری ریاست میں قائدِ حزبِ اختلاف تھے تو وہ ممتا بنرجی کی فلاحی اسکیموں کا مذاق اڑاتے ہوئے اکثر ’اسٹیکر بدل‘ کی اصطلاح استعمال کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ مرکزی حکومت کی اسکیموں، جیسے پردھان منتری آواس یوجنا اور پردھان منتری گرام سڑک یوجنا، کو ممتا حکومت نے صرف ’بنگلار باڑی‘ اور ’پتھ شری‘ جیسے نئے نام دے کر پیش کیا ہے۔ ادھیکاری کا الزام تھا کہ ترنمول کانگریس کا کام صرف "مرکز کا اسٹیکر ہٹا کر اپنا اسٹیکر چپکانا" ہے۔
اب وزیر اعلیٰ بننے کے بعد سویندو ادھیکاری خود ان اسکیموں میں صرف معمولی ترمیم کرنے کے بجائے یا تو انہیں مرحلہ وار ختم کر رہے ہیں یا ان کے نام تبدیل کر رہے ہیں۔ ترنمول حکومت کی متعدد اسکیموں کو مکمل طور پر مرکزی ماڈل، مثلاً ’سواستھیا ساتھی‘ کی جگہ ’آیوشمان بھارت‘، سے بدل کر نئی حکومت یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ محض ’اسٹیکر‘ نہیں بدل رہی بلکہ فلاحی اسکیموں کی مالی اعانت اور ان کے مقاصد طے کرنے کے طریقۂ کار میں بنیادی تبدیلی لا رہی ہے۔ سابق حکومت کی تقریباً 90 سماجی بہبود کی اسکیمیں، جن پر سالانہ لگ بھگ 1.8 لاکھ کروڑ روپے خرچ ہوتے تھے، بھی اسی تناظر میں زیر بحث ہیں۔ یہ رقم ریاست کے مجموعی بجٹ اخراجات کا تقریباً 45 فیصد بنتی ہے۔
Published: undefined
بی جے پی حکومت نے اگرچہ فلاحی اخراجات کی مجموعی سطح کو برقرار رکھا ہے، لیکن ترنمول کانگریس کے دور کی بنگالی شناخت رکھنے والی اسکیموں، جیسے لکشمی بھنڈار، سواستھیا ساتھی اور بنگلار یوا، کی جگہ سنسکرت یا ہندو روایت سے جڑے نام، مثلاً ’انّاپورنا‘، یا پھر وزیر اعظم کے نام سے منسوب مرکزی اسکیمیں متعارف کرائی ہیں۔ مجموعی طور پر فلاحی اقدامات کا دائرہ تقریباً وہی ہے، البتہ ان کا سیاسی کریڈٹ لینے کا انداز تبدیل ہو گیا ہے۔
ریاستی وزیر خزانہ سپن داس گپتا نے 22 جون کو پیش کیے گئے اپنے پہلے بجٹ میں ان تبدیلیوں کی واضح جھلک دکھائی۔ بجٹ کا بنیادی زور مرکزی حکومت کی پالیسیوں کے ساتھ ہم آہنگی، تیزی سے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور رئیل اسٹیٹ و صنعتی شعبوں میں ضابطوں کو آسان بنانے پر تھا۔ اس نئی حکمت عملی میں ’ڈبل انجن‘ حکومت کے تصور کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔ حکام کا اندازہ ہے کہ اس کے نتیجے میں مرکز کی جانب سے وہ تقریباً 40 ہزار کروڑ روپے کے فنڈز جاری ہو سکیں گے جو پہلے رکے ہوئے تھے یا منظوری کے منتظر تھے۔
Published: undefined
مثال کے طور پر خواتین میں بے حد مقبول ’لکشمی بھنڈار‘ نقد امدادی اسکیم کا نام بدل کر اب ’انّاپورنا یوجنا‘ رکھ دیا گیا ہے، جس کے تحت ماہانہ امداد ایک ہزار روپے سے بڑھا کر تین ہزار روپے کر دی گئی ہے۔ تاہم اس تبدیلی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس کے مستحقین کی تعداد میں نمایاں کمی آ گئی ہے۔ بایومیٹرک اور ووٹر ڈیٹا کی سخت جانچ پڑتال کے بعد تقریباً 30 لاکھ افراد کے نام فہرست سے خارج کر دیے گئے ہیں اور انہیں ’فرضی‘ یا ’غیر اہل‘ " قرار دیا گیا ہے۔
اس پالیسی میں اصل تبدیلی اہلیت کے نئے معیار کے نفاذ سے آئی ہے۔ ’لکشمی بھنڈار‘ نسبتاً زیادہ جامع اسکیم تھی، جبکہ "انّاپورنا یوجنا" میں متعدد سابق مستحقین کو باہر کیا جا رہا ہے۔ ترقیاتی معیشت کے ماہر ابھی روپ سرکار کے مطابق دنیا بھر میں براہِ راست مالی امداد (ڈی بی ٹی) کی اسکیمیں اس اصول پر چلتی ہیں کہ کسی اہل شخص کے محروم رہ جانے کے بجائے اگر چند غیر اہل افراد بھی شامل ہو جائیں تو اسے زیادہ قابلِ قبول سمجھا جاتا ہے۔ ان کے بقول سخت اور پیچیدہ اہلیت کے اصولوں کی وجہ سے بڑی تعداد میں حقیقی مستحقین بھی فلاحی منصوبوں سے محروم ہو سکتے ہیں۔
Published: undefined
تقریباً 30 لاکھ خواتین کے نام فہرست سے خارج کیے جانے کے بعد یہ خدشہ مزید نمایاں ہو جاتا ہے۔ ایک سادہ حساب کے مطابق 36 ہزار کروڑ روپے کے بجٹ سے "انّاپورنا یوجنا" کے تحت تقریباً ایک کروڑ خواتین کو ماہانہ تین ہزار روپے دیے جا سکتے ہیں، جب کہ ’لکشمی بھنڈار‘ اسکیم سے پہلے تقریباً 2.4 کروڑ خواتین مستفید ہو رہی تھیں۔
اسی طرح ریاستی حکومت کی مکمل مالی اعانت سے چلنے والی ’سواستھیا ساتھی‘ اسکیم کی جگہ اب مرکزی حکومت کی ’آیوشمان بھارت‘ اسکیم نافذ کی جا رہی ہے، جس کے تحت تقریباً 1.43 کروڑ کم آمدنی والے خاندان مرکز اور ریاست کے درمیان 60:40 کے مالی اشتراک کے نظام میں شامل ہو جائیں گے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اس اقدام کے ذریعے انشورنس پر مبنی صحت کے نظام (سواستھیا ساتھی) سے یقین دہانی (ایشورنس) پر مبنی ماڈل کی طرف منتقلی ہوگی۔ اگرچہ دونوں ماڈلز کے اپنے اپنے فوائد اور خامیاں ہیں، لیکن اس تبدیلی کا مؤثر اور منظم طریقے سے نفاذ نہایت اہم ہوگا۔
Published: undefined
دیگر فلاحی اقدامات کے ساتھ ساتھ مغربی بنگال نے اب مرکز کی پردھان منتری آواس یوجنا (دیہی) کو بھی اختیار کر لیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت دیہی علاقوں میں 25 لاکھ مکانات کی تعمیر کے لیے 13 ہزار کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اسی طرح مرکز کی وی بی-گرام جی اسکیم کے تحت 14 ہزار کروڑ روپے کی مالی اعانت سے دیہی روزگار کو بڑے پیمانے پر فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ ایک نمایاں تبدیلی ہے، کیونکہ 2021 میں مرکزی حکومت نے منریگا کے لیے فنڈ جاری کرنا روک دیا تھا۔
سب سے زیادہ متنازع تبدیلی اسکولی بچوں کے دوپہر کے کھانے (مڈ ڈے میل) سے متعلق ہے، نہ صرف اس لیے کہ یہ ایک بڑا انتظامی فیصلہ ہے بلکہ اس لیے بھی کہ اس کے ساتھ سماجی اور سیاسی مضمرات بھی وابستہ ہیں۔ بجٹ میں اعلان کیا گیا ہے کہ کولکاتا میونسپل علاقے کے سرکاری اسکولوں میں مڈ ڈے میل کی تیاری، تقسیم اور انتظام کے لیے اسکون (انٹرنیشنل سوسائٹی فار کرشنا کانشیسنیس) کے اشتراک سے ایک پائلٹ پروجیکٹ شروع کیا جائے گا۔
Published: undefined
تاریخی طور پر ریاستی حکومت نے بڑے پیمانے پر مرکزی اور خودکار کچن کے بجائے غیر مرکزی اور مقامی نظام کو ترجیح دی ہے، جس میں کھانا اسکولوں کے باورچی خانوں میں مقامی خواتین کے سیلف ہیلپ گروپس (ایس ایچ جی) اور باورچیوں و معاون عملے کے ذریعے تیار کیا جاتا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ دیہی بنگال میں مڈ ڈے میل کا انتظام ایک بڑا لاجسٹک چیلنج ہے اور صرف بڑی کمپنیاں ہی مرکزی نظام کو مؤثر انداز میں چلا سکتی ہیں۔ اس کے مطابق مڈ ڈے میل حکومت کی ذمہ داری ہے، جبکہ اسکون جیسے غیر سرکاری اداروں کو اپنی بنیادی سرگرمیوں تک محدود رہنا چاہیے۔
اس کے علاوہ انڈے کی جگہ سویابین اور راجما استعمال کرنے سے متعلق اسکون کے سخت سبزی خور اصول نے بھی تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ ریاست کے وزیر برائے اسکولی تعلیم دیپک برمن نے سبزی خور غذا کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ "انڈا اسکولی بچوں کے لیے پروٹین کا واحد ذریعہ نہیں ہے۔ دنیا بھر میں کروڑوں لوگ سبزی خور ہیں اور انہیں پروٹین کی کمی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔"
Published: undefined
جہاں بی جے پی میں حال ہی میں شامل ہونے والے بعض افراد اس اقدام کا خیر مقدم کر رہے ہیں، وہیں بہت سے بنگالی اسے ہندی بولنے والے شمالی ہندوستان کی ثقافتی بالادستی کی کوشش اور ایک ایسی آبادی کی غذائی عادات بدلنے کی مہم قرار دے رہے ہیں، جس کے تقریباً 99 فیصد لوگ گوشت خور ہیں۔ کولکاتا کے ایک سرکاری اسکول کے استاد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ "اگر ابتدائی جماعتوں کے بچوں پر سبزی خور غذا مسلط کی گئی تو ان کی غذائی عادات بدل سکتی ہیں۔ جب اسکول میں ملنے والا کھانا گھر کے کھانے سے مختلف ہو تو اس سے بھی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔"
سی پی آئی (ایم) کی ریاستی کمیٹی کے رکن شتروپ گھوش کے مطابق پرائمری اسکولوں میں سبزی خور غذا متعارف کرانے کا منصوبہ بی جے پی کے ہندوتوا ایجنڈے کا حصہ ہے۔ انہوں نے سنڈے نو جیون سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی جہاں بھی اقتدار میں آتی ہے وہاں ایک مخصوص ثقافت، مذہبی رسوم اور طرزِ خوراک کو فروغ دینے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے بقول معاملہ صرف مینیو کی تبدیلی تک محدود نہیں بلکہ بی جے پی بنگال کے بچوں کی غذائی عادات کو بھی تبدیل کرنا چاہتی ہے۔
(مضمون نگار سوربھ سین کولکاتا سے تعلق رکھنے والے آزاد صحافی اور مبصر ہیں، جو سیاست، انسانی حقوق اور خارجہ امور پر لکھتے اور تبصرہ کرتے ہیں)
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined