زمین کا پانی نگلنے والا کاروبار...ہرجندر

ہندوستان میں ڈیٹا سینٹرز کے باعث پانی، بجلی، زمین اور ماحولیات پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، وسائل کے شفاف استعمال اور مضبوط ماحولیاتی ضوابط کے بغیر ڈیجیٹل ترقی پائیدار نہیں رہ سکتی

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اےآئی</p></div>
i
user

ہرجندر

ہندوستان کے ڈیجیٹل انقلاب کو اکثر ایک ایسے روشن مستقبل کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جو صاف ستھرا، جدید اور گویا مادی بوجھ سے آزاد ہو۔ مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ڈیجیٹل خدمات بظاہر ایک ایسی غیرمرئی دنیا کا حصہ محسوس ہوتی ہیں جس کا حقیقی وسائل سے کوئی تعلق نہیں۔ لیکن اس تصور کے پس منظر میں ایک وسیع مادی ڈھانچہ موجود ہے، جس میں سروروں سے بھرے بڑے کمپلیکس، ریفریجریشن کے جدید نظام، بجلی گھر اور ٹرانسمیشن لائنیں شامل ہیں۔

دوسری جانب امریکہ، یورپ اور جنوب مشرقی ایشیا میں مقامی برادریاں نئے ڈیٹا سینٹر منصوبوں کے خلاف آواز بلند کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ صنعت پانی، بجلی اور زمین جیسے قدرتی وسائل کی بے تحاشا کھپت پر قائم ہے۔ اس کے برعکس ہندوستان تیزی سے دنیا کے بڑے ڈیٹا سینٹر مراکز میں شامل ہونے کی راہ پر گامزن ہے۔ ایسے میں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ڈیجیٹل ترقی کے بلند عزائم کو صاف اور پائیدار ماحول کے ساتھ ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے؟

مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ خدمات کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث ہندوستان میں ڈیٹا سینٹرز کی گنجائش میں غیر معمولی اضافے کی توقع ہے۔ اندازوں کے مطابق 2025 میں تقریباً 1.4 گیگاواٹ صلاحیت رکھنے والا یہ شعبہ 2030 تک بڑھ کر تقریباً 17 گیگاواٹ تک پہنچ سکتا ہے۔

مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے گوگل، ایمیزون اور مائیکروسافٹ جیسی عالمی کمپنیوں کو راغب کرنے کے لیے متعدد مراعات کا اعلان کیا ہے۔ ان میں طویل مدت تک ٹیکس میں چھوٹ، بجلی کے نرخوں میں رعایت، کم قیمت پر زمین کی فراہمی اور پانی پر سبسڈی شامل ہیں۔ بعض معاملات میں ماحولیاتی تحفظ کے ضوابط میں بھی نرمی برتی گئی ہے۔ آندھرا پردیش میں گوگل کے مجوزہ منصوبے سے متعلق رپورٹس میں اشارہ دیا گیا ہے کہ ماحولیاتی اثرات کے جائزے کی شرائط کو کمزور کیا گیا یا ان سے استثنا دیا گیا۔


وزیر اعظم نریندر مودی متعدد مواقع پر ڈیٹا سینٹرز کو بڑے پیمانے پر روزگار پیدا کرنے والا شعبہ قرار دیتے ہوئے یہ اپیل کر چکے ہیں کہ ’’دنیا کا پورا ڈیٹا ہندوستان میں محفوظ ہونا چاہیے۔‘‘ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس دعوے کو حقیقت سے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ ایک بار کام شروع ہونے کے بعد ہائپر اسکیل ڈیٹا سینٹرز کو عموماً صرف محدود تعداد میں ٹیکنیشنز، انجینئروں اور دیکھ بھال کے عملے کی ضرورت رہ جاتی ہے۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے کے مقابلے میں یہ وسیع زمین اور وسائل استعمال کرنے کے باوجود طویل مدت میں بہت کم روزگار پیدا کرتے ہیں۔

سب سے بڑی تشویش پانی کے استعمال کو لے کر ہے۔ ڈیٹا سینٹرز میں بڑی مقدار میں حرارت پیدا ہوتی ہے اور آلات کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے مسلسل ریفریجریشن ضروری ہوتی ہے۔ بھاپ پر مبنی کولنگ سسٹم رکھنے والا 100 میگاواٹ کا ایک عام ڈیٹا سینٹر روزانہ تقریباً 8 لاکھ سے 20 لاکھ لیٹر پانی استعمال کرتا ہے، جو ہزاروں خاندانوں کی یومیہ ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔

تشویش کی بات یہ بھی ہے کہ متعدد ڈیٹا سینٹر ایسے علاقوں میں قائم کیے جا رہے ہیں جہاں پہلے ہی پانی کا شدید بحران موجود ہے۔ ممبئی کے بعد حیدرآباد ہندوستان کا دوسرا بڑا ڈیٹا سینٹر مرکز بنتا جا رہا ہے، جہاں تقریباً 42 ڈیٹا سینٹرز یا تو کام کر رہے ہیں یا زیر تعمیر ہیں۔ اندازہ ہے کہ آئندہ برسوں میں پہلے ہی پانی کی قلت سے دوچار اس شہر کو روزانہ تقریباً 90 کروڑ 90 لاکھ لیٹر پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ان خدشات کے باوجود بڑی کلاؤڈ کمپنیاں اپنے توسیعی منصوبوں پر عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق طویل گرمیوں اور شدید ہیٹ ویو کے دوران ڈیٹا سینٹر محدود آبی وسائل کے لیے شہریوں، صنعتوں اور زراعت کے ساتھ براہِ راست مقابلے کی صورت حال پیدا کر سکتے ہیں۔

ویسا ہی منظر وشاکھاپٹنم میں بھی دیکھنے کو مل رہا ہے، جہاں گوگل اور ریلائنس کی سرمایہ کاری اس شہر کو ایک بڑے ڈیجیٹل مرکز میں تبدیل کر رہی ہے۔ ضلع کے بعض علاقوں میں زیر زمین پانی کی سطح پہلے ہی کافی نیچے جا چکی ہے، جس سے مستقبل میں پانی کی دستیابی اور پائیداری کے بارے میں خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔


ممبئی اور نوی ممبئی ملک میں ڈیٹا سینٹرز کے سب سے بڑے مرکز کے طور پر ابھرے ہیں، جہاں تقریباً 84 مراکز یا تو فعال ہیں یا تعمیر کے مراحل میں ہیں۔ صنعت سے وابستہ نمائندے اکثر یہ دلیل دیتے ہیں کہ ساحلی علاقوں میں قائم ڈیٹا سینٹر کولنگ کے لیے سمندری پانی استعمال کر سکتے ہیں، جس سے میٹھے پانی پر انحصار کم ہو جاتا ہے۔ تاہم صنعت کی جانب سے پانی کے حقیقی استعمال کی تفصیلات واضح طور پر سامنے نہیں لائی جاتیں۔

سمندری پانی کا استعمال بھی ماحولیاتی اعتبار سے مکمل طور پر محفوظ نہیں سمجھا جاتا۔ کولنگ کے بعد واپس چھوڑا جانے والا گرم پانی سمندر کے ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچا سکتا ہے، جبکہ پانی کی کیمیائی صفائی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے فضلے سے بھی اضافی ماحولیاتی خطرات جنم لے سکتے ہیں۔

اس سلسلے میں گروگرام اور نوئیڈا کا تقابل خاصا دلچسپ ہے۔ گروگرام، جسے شمالی ہندوستان کا سائبر سٹی کہا جاتا ہے اور جہاں متعدد بین الاقوامی آئی ٹی کمپنیوں کے دفاتر قائم ہیں، وہاں صرف چند ہی ڈیٹا سینٹر کام کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس نسبتاً محدود آئی ٹی ڈھانچے کے باوجود نوئیڈا اور گریٹر نوئیڈا ملک میں ڈیٹا سینٹرز کے نمایاں مراکز کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔

اس کی وجہ سمجھنے کے لیے صرف زمین کے نیچے جھانکنے کی ضرورت ہے۔ گروگرام میں زیرِ زمین پانی کی سطح زمین سے تقریباً 34 سے 38 میٹر نیچے جا چکی ہے، جبکہ نوئیڈا کے بعض علاقوں میں یہ تقریباً 20 میٹر کی گہرائی پر دستیاب ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ پانی کی دستیابی ہی ہندوستان کی ڈیٹا معیشت کے جغرافیے کا تعین کر رہی ہے۔

بجلی بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ ڈیٹا سینٹرز کو چوبیسوں گھنٹے بلا تعطل بجلی درکار ہوتی ہے۔ اگرچہ کمپنیاں قابلِ تجدید توانائی کے استعمال کے دعوے کرتی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان مراکز کی مسلسل بنیادی بجلی کی ضرورت صرف ایسے ذرائع سے پوری کرنا آسان نہیں۔

ممبئی میں ڈیٹا سینٹرز کی بڑھتی ہوئی بجلی کی طلب نے پرانے کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کو بدستور فعال رکھنے کے فیصلوں پر بھی اثر ڈالا ہے۔ اس کے ماحولیاتی اثرات کا سب سے زیادہ بوجھ ان آبادیوں پر پڑتا ہے جو ان بجلی گھروں کے اطراف میں رہتی ہیں۔ ماہُل جیسے علاقوں کے مکین طویل عرصے سے صنعتی آلودگی کے باعث سانس کی بیماریوں، سرطان اور دیگر صحت کے مسائل کی شکایت کرتے رہے ہیں۔


بجلی کی فراہمی میں تعطل کی صورت میں کمپنیاں بڑی تعداد میں صنعتی ڈیزل جنریٹر بھی نصب کرتی ہیں، جو پورے ڈیٹا سینٹر کو چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ماہرینِ ماحولیات کے مطابق یہ جنریٹر پہلے ہی خطرناک حد تک بڑھ چکی شہری فضائی آلودگی کو مزید سنگین بنا سکتے ہیں۔

ڈیٹا سینٹرز کا جسمانی پھیلاؤ سماجی اثرات بھی مرتب کر رہا ہے۔ ان منصوبوں کے لیے زرعی زمین، باغات اور یہاں تک کہ رہائشی بستیوں تک کا حصول کیا جا رہا ہے۔ تلنگانہ میں ان زمینوں کے حصول پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے جو اصل میں بے زمین درج فہرست ذات (ایس سی) اور درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کے خاندانوں میں تقسیم کی گئی تھیں۔ جیسے جیسے ڈیجیٹل مراکز کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے، روزگار کے تحفظ اور بے دخلی جیسے مسائل بھی زیادہ اہم ہوتے جا رہے ہیں۔

پانی، زمین اور توانائی کے علاوہ ایک اور بڑھتا ہوا چیلنج الیکٹرانک کچرا (ای ویسٹ) ہے۔ مصنوعی ذہانت سے متعلق ہارڈویئر تیزی سے تبدیل ہوتے ہیں اور ان میں استعمال ہونے والے پروسیسر عموماً دو سے پانچ برس کے اندر پرانے پڑ جاتے ہیں۔ محققین کا اندازہ ہے کہ صرف جنریٹو اے آئی ہی 2030 تک دنیا بھر میں لاکھوں ٹن الیکٹرانک کچرا پیدا کر سکتی ہے۔

ہندوستان میں غیر منظم شعبہ زیادہ تر ای ویسٹ کو غیر محفوظ طریقوں سے توڑنے اور جلانے کا کام انجام دیتا ہے۔ اس عمل سے خارج ہونے والی بھاری دھاتیں اور زہریلے کیمیائی مادے زیرِ زمین پانی اور فضا کو آلودہ کر سکتے ہیں۔ ایک محقق کے مطابق، ’’ممکن ہے مصنوعی ذہانت کا موجودہ بوم ختم ہو جائے، لیکن اس سے پیدا ہونے والا کچرا کئی دہائیوں تک باقی رہے گا۔‘‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ ماحولیات کے تئیں حساس رویہ، قدرتی وسائل کے استعمال میں شفافیت اور مقامی حکومتوں کی مؤثر شمولیت اس بات کو یقینی بنا سکتی ہے کہ مقامی برادریوں کو اپنی زمین اور وسائل سے متعلق فیصلوں میں مناسب نمائندگی حاصل ہو۔ ماحولیات کے ماہرین ایک اور اہم سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ کیا یہ ڈیٹا سینٹر واقعی قومی خودمختاری کو مضبوط بنا رہے ہیں یا پھر یہ محض ہندوستانی سرزمین پر بین الاقوامی کارپوریشنوں کی میزبانی تک محدود ہیں؟

اسی سوال کا جواب ہندوستان کے ڈیجیٹل مستقبل کی سمت متعین کرے گا۔ مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی جانب ملک کی پیش رفت زیرِ زمین پانی کے مسلسل زوال، کوئلے پر بڑھتے ہوئے انحصار اور ماحولیاتی عدم مساوات کی قیمت پر نہیں ہونی چاہیے۔ آئندہ دہائی میں کیے جانے والے فیصلے طے کریں گے کہ آیا ہندوستان میں ڈیٹا سینٹرز کا تیزی سے پھیلتا ہوا شعبہ پائیدار ڈیجیٹل ترقی کی مضبوط بنیاد بنے گا یا پھر یہ محض ایک ایسا سلیکون سراب ثابت ہوگا، جو خشک ہوتی زمین اور تیزی سے ختم ہوتے آبی وسائل پر کھڑا ہے۔