بنگلہ دیش میں خسرہ کا قہر جاری: مزید 4 بچوں نے توڑا دم، اموات کی تعداد ہوئی 712
’ڈی جی ایچ ایس‘ کے مطابق 10 اپریل سے اب تک ملک بھر کے اسپتالوں میں 82844 مشتبہ خسرہ کے مریضوں کو داخل کیا جا چکا ہے۔ ان میں سے 79152 مریض صحت یاب ہو کر اسپتال سے ڈسچارج ہو چکے ہیں۔

بنگلہ دیش میں خسرہ کا قہر جاری ہے۔ اتوار کی صبح 8 بجے تک گزشتہ 24 گھنٹوں میں 4 معصوم بچوں نے دم توڑ دیا۔ اس کے ساتھ ہی خسرہ جیسی علامات کی وجہ سے اب تک 712 بچوں کی جان جا چکی ہے۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز (ڈی جی ایچ ایس) نے ان چاروں اموات کو مشتبہ خسرہ کی موت کے زمرے میں رکھا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ 4 میں سے ایک بھی خسرہ کا تصدیق شدہ کیس نہیں تھا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مشتبہ انفیکشن کی وجہ سے اب تک 619 بچوں نے دم توڑا ہے، جبکہ لیب سے تصدیق شدہ خسرہ سے ہونے والی اموات کی تعداد 93 پر برقرار ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں خسرہ کے 941 نئے مشتبہ کیسز سامنے آئے۔ اسی دوران 889 متاثرین کو اسپتال میں داخل کرایا گیا اور 865 بچوں کو چھٹی دے دی گئی۔ اسی مدت میں (گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران) 116 نئے تصدیق شدہ معاملات درج کیے گئے۔
ملک بھر میں مشتبہ کیسز کی مجموعی تعداد بڑھ کر 99207 ہو گئی ہے۔ جبکہ لیب ٹیسٹڈ تصدیق شدہ کیسز کی مجموعی تعداد 11710 تک پہنچ گئی۔ ’ڈی جی ایچ ایس‘ کے مطابق 10 اپریل سے اب تک ملک بھر کے اسپتالوں میں 82844 مشتبہ خسرہ کے مریضوں کو داخل کیا جا چکا ہے۔ ان میں سے 79152 مریض صحت یاب ہو کر اسپتال سے ڈسچارج ہو چکے ہیں۔
بنگلہ دیش کے معروف اخبار ’دی ڈیلی اسٹار‘ نے صحت کے ماہرین کے حوالے سے بتایا کہ بنگلہ دیش میں خسرہ کے کیسز میں کمی نہ آنے کی 2 اہم وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ تمام علاقوں میں 95 فیصد ویکسینیشن کوریج کا ہدف حاصل نہیں ہو سکا ہے، اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اسپتالوں اور برادریوں میں انفیکشن کی روک تھام اور کنٹرول کے اقدامات پر مناسب عمل نہیں کیا جا رہا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ نے الزام عائد کیا تھا کہ ’’محمد یونس کی قیادت والی عبوری حکومت نے ویکسین کی خریداری کا نیا نظام نافذ کر کے ملک کے ویکسینیشن پروگرام کو متاثر کیا، جس سے خسرہ کی وبا کی صورتحال مزید سنگین ہو گئی۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
