
مہاراشٹر نونرمان سینا (ایم این ایس) کے صدر راج ٹھاکرے کو بیرون ریاست سے آ کر مہاراشٹر میں ٹیکسی اور آٹو رکشا چلانے والے ڈرائیورس کو مراٹھی سکھانے کے سرکاری فیصلے پر سخت اعتراض ہے۔ وہ اپنے مخصوص انداز میں غیر مقامی افراد کے خلاف سخت بیانات دے رہے ہیں اور انہیں مار پیٹ کر ریاست سے باہر نکالنے کی بات کر رہے ہیں۔ گزشتہ جمعرات (30 اپریل) کو پونے میں ’وسنت لیکچر سیریز‘ کے دوران راج ٹھاکرے نے سوال اٹھایا کہ ان ٹیکسی اور رکشا ڈرائیورس کو مراٹھی نہ بولنے کی ہمت کہاں سے آتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ایم این ایس کی سخت پالیسی ہی انہیں قابو میں رکھتی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے مراٹھی عوام سے اپیل کی کہ وہ مہاجرین، یعنی غیر مقامی افراد کے خلاف متحد ہو جائیں۔
Published: undefined
راج ٹھاکرے کے اس اشتعال انگیز بیان کے بعد ریاست کی سیاسی فضا گرم ہو گئی ہے۔ ان کے بیانات سے ممبئی سمیت پورے مہاراشٹر میں حالات بگڑنے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ان کی دھمکی آمیز زبان کو ریاستی حکومت کے لیے ایک چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مراٹھی زبان کے نام پر مہاجرین کے خلاف کسی بھی قسم کے تشدد کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تشدد کے ذریعہ زبان کے مسئلے کو اٹھانا مہاراشٹر کی ثقافت نہیں ہے اور چھترپتی شیواجی مہاراج کی تعلیمات تنگ نظری کی اجازت نہیں دیتیں۔
Published: undefined
فڑنویس کا کہنا ہے کہ مہاراشٹر سب کا ہے اور یہاں سبھی کو مراٹھی زبان سیکھنی چاہیے، اس پر سب کا اتفاق ہے، لیکن اس معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے راج ٹھاکرے سے یہ سوال بھی کر ڈالا کہ انہوں نے مراٹھی زبان کے فروغ کے لیے اب تک کیا عملی اقدامات کیے ہیں؟
Published: undefined
واضح رہے کہ ٹیکسی اور آٹو رکشا ڈرائیورس کے لیے مراٹھی زبان کو لازمی قرار دینے کے فیصلے کے بعد یہ مسئلہ زور پکڑ گیا ہے۔ راج ٹھاکرے اس معاملے کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرتے ہوئے جارحانہ موقف اختیار کیے ہوئے ہیں۔ تاہم ریاستی حکومت نے مراٹھی سیکھنے کی آخری تاریخ 15 اگست مقرر کر دی ہے، جس سے راج ٹھاکرے کو جھٹکا لگا ہے۔
Published: undefined
اب راج ٹھاکرے مراٹھی زبان کے نام پر مراٹھی عوام کو یکجا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے ان پر غیر مقامی افراد کے خلاف نفرت کو ہوا دینے کا الزام لگ رہا ہے۔ دوسری جانب فڑنویس نے ان کی لسانی سیاست پر روک لگانے کی کوشش کی ہے اور واضح کیا ہے کہ مہاراشٹر سب کے لیے ہے اور مراٹھی زبان سیکھنا ایک مثبت قدم ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined