فکر و خیالات

اتراکھنڈ پر انسانی اسمگلنگ اور جنسی تجارت کا سایہ... رشمی سہگل

ریاستی حکومت مقامی لوگوں کو بڑی تعداد میں شراب لائسنس دے رہی ہے، جبکہ مذہبی مقامات کے قریب شراب بندی کا اعلان کر رکھا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر، اے آئی</p></div>

علامتی تصویر، اے آئی

 

انکیتا بھنڈاری کا قتل 2022 میں ہوا تھا، لیکن اس معاملہ میں دسمبر 2025 میں جو عوامی اشتعال دیکھنے کو ملا، وہ نئے سال میں بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ 19 سالہ اس لڑکی نے ایک وی آئی پی کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے سے انکار کیا تو اسے قتل کر دیا گیا، لیکن یہ قتل ایک ایسے طویل المدتی خواب کے ٹوٹنے کی علامت بن گیا جو اتراکھنڈ کے عوام نے برسوں سے سنبھال کر رکھا تھا۔

Published: undefined

مسلسل اور طویل تحریک کے بعد 25 برس قبل وجود میں آنے والے اتراکھنڈ کا مقصد گاندھی وادی حکمرانی کے تصور کو عملی جامہ پہنانا تھا، لیکن اس کے برعکس ہوا۔ آج یہ ریاست شدید تجارت کاری کے ساتھ ایسے ترقیاتی ماڈل کی گرفت میں ہے جس نے زراعت کو تباہ کر دیا ہے، گھر برباد ہو رہے ہیں اور سماجی تانا بانا کمزور پڑ چکا ہے۔

Published: undefined

انکیتا کا قتل بی جے پی کے وزیر ونود آریہ کے بیٹے اور وننترا ریسورٹ کے مالک پلکت آریہ نے کیا تھا، جہاں وہ بطور رسپشنسٹ کام کرتی تھی۔ پلکت کو مجرم قرار دیے جانے کے بعد ریسورٹ کے ملازمین نے کھلے عام اس ریسورٹ کو منشیات، شراب اور جسم فروشی کا اڈہ بتایا۔ یہ سب عوام کے ذہن میں گہرائی تک بیٹھے خوف کی تصدیق کے لیے کافی تھا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ پوری ریاست میں ہزاروں ریسورٹ اور ہوم اسٹے کھل چکے ہیں اور ان میں سے کئی سیاست دانوں اور ریٹائرڈ نوکرشاہوں کے ہیں۔ عام تاثر یہ ہے کہ یہ سب جسم فروشی کے ایسے مراکز ہیں جہاں نوجوان لڑکیوں کو بہلا پھسلا کر اور بعد میں بلیک میل کر کے جنسی کارکن بننے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

Published: undefined

انکیتا کے آنے سے پہلے وننترا میں بطور رسپشنسٹ کام کرنے والی رشیتا نے کہا کہ ’’مجھے لگا کہ وہ مجھے اس میں (جنسی کام میں) دھکیلنا چاہتے تھے۔ میں نے رضامندی نہیں دی تو مجھے گندی گندی گالیوں کے ساتھ ہراساں کیا گیا۔‘‘ ملازمت شروع کرنے کے 2 ماہ بعد ہی رشیتا اور اس کے شوہر وویک نے استعفیٰ دے دیا۔ پلکت آریہ نے تنخواہ تو نہیں دی، الٹا وویک پر چوری کا الزام لگا دیا۔ وویک شکایت درج کرانے پولیس کے پاس گیا تو اسے علاقہ میں قانون و انتظام سے متعلق پٹواری سے ملنے کو کہا گیا۔ پٹواری نے پلکت ہی کا ساتھ دیا۔

Published: undefined

انکیتا کے والدین کے ساتھ ہر جدوجہد میں ان کے شانہ بشانہ کھڑی اتراکھنڈ مہیلا منچ کی کملا پنت اس ریاست کے تھائی لینڈ کی راہ پر چل پڑنے کے خدشہ پر فکرمند ہیں۔ تھائی لینڈ میں اگرچہ جسم فروشی غیر قانونی ہے، لیکن گو گو بارز، مساج پارلرز اور نائٹ کلبوں میں یہ کھلے عام جاری ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’ہمیں ڈر ہے سیاستداں اس طرح کے اڈے قائم کرنا چاہتے ہیں۔ جنسی تجارت بڑھ رہی ہے، یہاں تک کہ چھوٹی چھوٹی کرانہ دکانوں کو بھی شراب بیچنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ اتراکھنڈ کبھی ایک پُرسکون جگہ ہوا کرتی تھی، جہاں لوگ ریٹائرمنٹ کے بعد رہنے آتے تھے۔ اب یہ سستے سے لے کر مہنگے تک ہزاروں ریسورٹس، ہوٹلوں اور ہوم اسٹیز سے بھرا ایک غیر اخلاقی اڈہ بن چکا ہے۔‘‘

Published: undefined

دہرادون کے راج پور روڈ پر ایک چھوٹا سا بُٹیک ہوٹل چلانے والے ہوٹل مالک کا کہنا ہے کہ ’’ان دنوں جوڑے گھنٹوں کے حساب سے کمرے کرایہ پر لینا چاہتے ہیں۔ یہ چھوٹے ہوٹل مالکان کے لیے فائدہ مند بھی ہے کیونکہ اس سے آمدنی میں تیزی آتی ہے۔‘‘ سرکاری اعداد و شمار اتراکھنڈ میں انسانی اسمگلنگ میں تشویش ناک اضافہ کی تصدیق کرتے ہیں۔ اس حوالے سے انتباہی اشارے 2016 میں ہی ظاہر ہونے لگے تھے، جب ’اتراکھنڈ پریورتن پارٹی‘ کی خواتین شاخ نے اس مسئلے پر بیداری پھیلانے کے لیے شمع بردار جلوس نکالا تھا۔ الموڑہ ضلع کی کئی خواتین اپنے گھروں سے لاپتہ ہو گئی تھیں۔ کارکنوں کا ماننا ہے کہ ان میں سے کئی خواتین کو جنسی تجارت کے دھندے میں دھکیل دیا گیا۔ مارچ کے دوران ہی دہرادون کے ایک شیلٹر ہوم کی انتظامیہ کے ساتھ مبینہ ملی بھگت کے ذریعے کچھ بااثر افراد کی جانب سے مجبور خواتین کے جنسی استحصال کا معاملہ بھی سامنے آیا تھا۔

Published: undefined

2016 اور 2022 کے درمیان بچوں کے تحفظ کے قانون (پی او سی ایس او) کے تحت درج نوجوان خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم میں 4 گنا اضافہ ہوا۔ قومی جرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کے مطابق ہمالیائی ریاستوں میں عصمت دری کے سب سے زیادہ معاملات اتراکھنڈ میں درج ہوئے اور 2023 میں ’پاکسو‘ کے سب سے زیادہ کیس بھی یہیں درج ہوئے۔ ہندو انتہاپسند گروہوں کے دباؤ میں پولیس بین المذاہب تعلقات میں مسلم کم سن لڑکوں کو نشانہ بنانے کے لیے بھی اس قانون کا کھلا غلط استعمال کر رہی ہے۔

Published: undefined

این سی آر بی کی جانب سے جاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں 2024 میں اغوا، قتل اور چوری کے معاملات میں تشویش ناک اضافہ ہوا ہے۔ اس جرائم میں اضافے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے، آر ٹی آئی کارکن اور وکیل ندیم الدین نے بتایا کہ ’’چوری میں 9 فیصد، قتل کے معاملات میں 5 فیصد، قتل کی نیت سے اغوا میں 100 فیصد اور خواتین کے اغوا میں 91 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اغوا کی دیگر اقسام کے معاملات میں 2022 سے 144 فیصد کا بھاری اضافہ ہوا ہے۔‘‘

Published: undefined

خواتین کے خلاف جرائم میں اضافہ کے ساتھ ساتھ شراب کی فروخت میں بھی غیر معمولی تیزی آئی ہے۔ محکمہ ایکسائز کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں دیوالی کے 15 روزہ عرصہ کے دوران ریاست بھر میں 6.67 لاکھ سے زائد شراب کی بوتلیں فروخت ہوئیں۔ اس سے 367 کروڑ روپے سے زیادہ کی آمدنی حاصل ہوئی، جبکہ صرف نئے سال کی آمد سے ایک دن قبل 143 کروڑ روپے کی شراب فروخت ہوئی۔ شراب ریاست کی سب سے بڑی آمدنی کا ذریعہ بن کر ابھری ہے، جس سے 3,353 کروڑ روپے کی آمدنی ہوئی ہے، جو 2024 کے مقابلے میں تقریباً 200 کروڑ روپے زیادہ ہے۔ یہ درست ہے کہ ریاستی حکومت اتراکھنڈ کے باشندوں کو بڑی تعداد میں شراب کے لائسنس جاری کر رہی ہے، لیکن 26-2025 کی نئی ایکسائز پالیسی کے تحت مذہبی مقامات کے قریب واقع شراب کی تمام دکانیں بند کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

Published: undefined

ایمس رشی کیش کی ٹیم نے 400 افراد سے گفتگو کی بنیاد پر جاری ایک مطالعے میں دہرادون اور ہریدوار اضلاع میں شراب نوشی کے بڑھتے ہوئے مسئلے کو اجاگر کیا ہے۔ 2018 میں شائع ہونے والے اس مطالعے میں پایا گیا کہ شراب استعمال کرنے والوں میں سب سے بڑا تناسب 30 سے 49 سال کی عمر کے گروپ کا تھا، جن میں 72 فیصد مرد اور 28 فیصد خواتین شراب کی لَت میں مبتلا تھیں۔

Published: undefined

گزشتہ 5 برسوں میں یہ مسئلہ مزید سنگین ہوا ہے۔ گڑھوال کے پہاڑی دیہات کی خواتین نے خود پہل کرتے ہوئے ’مہیلا منگل دل‘ قائم کیے ہیں تاکہ ان کے گاؤں میں شراب کی فروخت یا استعمال پر پابندی لگائی جا سکے۔ دسمبر 2025 میں ہلدوانی کے ایک پرائیویٹ اسکول کی ایک طالبہ کو اچانک تلاشی کے دوران پانی کی بوتل میں ووڈکا کے ساتھ پکڑا گیا۔ اسکول کے پرنسپل ڈاکٹر یوراج پنت نے اعتراف کیا کہ سینئر طلبا میں شراب نوشی اور تمباکو نوشی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

Published: undefined

یہاں کے نوجوان اور کم عمر بچے بھی نشے کے عادی بن سکتے ہیں۔ اتراکھنڈ کی جغرافیائی پوزیشن ہی ایسی ہے کہ یہاں نشہ آور اشیاء آسانی سے دستیاب ہیں، کیونکہ یہ منشیات کی اسمگلنگ کا ایک گزرگاہی راستہ بھی ہے۔ ’انٹرنیشنل جرنل آف سائنس اینڈ ریسرچ‘ میں شائع ایک مطالعہ سے معلوم ہوا ہے کہ کماؤں خطہ میں ثانوی اسکولوں کے تقریباً 26 فیصد طلبہ مصنوعی منشیات سمیت نشہ آور اشیا کے عادی ہیں۔

Published: undefined

نو عمر لڑکے اور لڑکیاں معاشی مواقع کی تلاش میں اپنے گاؤں چھوڑ کر بڑے شہروں کی طرف نقل مکانی کر رہے ہیں، جس سے خاندانی ڈھانچہ بکھر چکا ہے۔ صنفی تناسب بھی تیزی سے گرا ہے۔ اس وقت ہر 1,000 لڑکوں پر 840 لڑکیاں ہیں، جو ہندوستان میں بدترین صورتحال میں سے ایک ہے۔ تجربات بتاتے ہیں کہ جب سماج میں لڑکیوں کو اہمیت نہیں دی جاتی تو زندگی ایک کٹھن چیلنج بن جاتی ہے، جہاں تشدد، جبری شادیاں، اسمگلنگ اور محدود مواقع جیسی بے شمار برائیاں جنم لیتی ہیں۔

Published: undefined

کانگریس کی ترجمان سجاتا پال زور دے کر کہتی ہیں کہ ’’جنسی استحصال اور جنسی تجارت بڑے پیمانے پر پھیل چکے ہیں۔ وننترا کی مثال لے لیجیے۔ آریہ خاندان کو آنولہ کی مٹھائی بنانے کی فیکٹری قائم کرنے کی اجازت دی گئی تھی، لیکن وہ حکومت کی ناک کے نیچے ایک ریسورٹ چلا رہے تھے۔‘‘ سجاتا پال نے کئی سرکردہ بی جے پی رہنماؤں کے نام بھی لیے جن پر جنسی بدعنوانی کے الزامات لگے ہیں۔ دوارہاٹ سے بی جے پی کے رکن اسمبلی مہیش نیگی پر عصمت دری اور مجرمانہ دھمکی کا الزام ہے۔ ریاستی کوآپریٹو ڈیری فیڈریشن کے سربراہ مکیش بورا پر ایک بیوہ اور اس کی بیٹی کے جنسی استحصال کا الزام لگا تھا، جنہیں بی جے پی نے 2024 میں ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ اقلیتی سیل کے رکن اور بی جے پی رہنما آدتیہ راج سینی کو 2013 میں ہریدوار میں ایک 13 سالہ دلت لڑکی کے ساتھ عصمت دری اور قتل کے الزام میں گرفتار کیے جانے کے بعد عہدے سے ہٹا دیا گیا اور پارٹی سے نکال دیا گیا۔ سجاتا پال بتاتی ہیں کہ ’’موجودہ رہنماؤں کا یہی اخلاقی معیار ہے۔ ظاہر ہے وہ ہر طرح کی جنسی بدعنوانی کو فروغ دیں گے۔ سینکڑوں خواتین شکایات لے کر سامنے آ رہی ہیں، لیکن پولیس پر انہیں دبانے کا دباؤ ہوتا ہے۔‘‘

Published: undefined

نوجوانوں میں شادی کے بجائے ’لیو اِن رلیشن شپ‘ کو ترجیح دینے کا نیا رجحان ایسے تعلقات میں تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات سے میل کھاتا ہے۔ اتراکھنڈ ریاستی خواتین کمیشن کی چیئرپرسن کسم کانڈوال کہتی ہیں کہ ’’یہ رجحان تشویش ناک ہے اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے مزید بیداری اور قانونی اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔‘‘

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined