صنفی مساوات: حقیقت میں ایک سراب

اقوام متحدہ کے اجلاس میں عدم مساوات، جنگی جنسی تشدد اور عالمی دوہرے معیار کو بے نقاب کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق حقیقی صنفی مساوات کے لیے بنیادی نظامی تبدیلی اور انصاف تک مؤثر رسائی ناگزیر ہے

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>
i
user

مدیحہ فصیح

آج کی بظاہر جدید اور روشن خیال دنیا میں، جہاں انسانی ترقی کے بلند بانگ دعوے ہر سو سنائی دیتے ہیں، وہاں کروڑوں خواتین اور لڑکیوں کے لیے 'صنفی مساوات' محض ایک سراب یا ادھورا خواب معلوم ہوتی ہے۔ اقوام متحدہ کے خواتین کی صورتحال سے متعلق کمیشن (سی ایس ڈبلیو) کے 70ویں اجلاس نے ایک بار پھر ہمیں اس تلخ حقیقت کا آئینہ دکھایا ہے کہ عالمی سطح پر ہونے والی پیش رفت محض سطحی ہے اور اس کی تہوں میں ناانصافی کی جڑیں نہایت گہری ہیں۔ یہ اجلاس محض اعداد و شمار کی نمائش نہیں، بلکہ انسانی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی ایک پکار ہے کہ ہم ظاہری چمک دمک سے ہٹ کر اس استحصال کو دیکھیں جو خاموشی سے جاری ہے۔

عدم مساوات کوئی حادثہ نہیں

عالمی سطح پر فراہم کردہ قانونی حقوق کے اعداد و شمار انسانی حقوق کی پامالی کا وہ نوحہ ہیں جسے اب مزید نظر انداز کرنا ناممکن ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میں خواتین کو مردوں کے مقابلے میں محض 64 فیصد قانونی حقوق حاصل ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے اس جانب دوٹوک اشارہ کیا کہ یہ تفاوت کوئی اتفاقی یا حادثاتی عمل نہیں، بلکہ یہ "ساختی" (اسٹرکچرل) نوعیت کا ہے، جسے شعوری طور پر خواتین کے مواقع کو محدود کرنے کے لیے برقرار رکھا گیا ہے۔ یہ تسلط صدیوں پر محیط پدرانہ روایات کا نتیجہ ہے جسے گرانے کے لیے اب محض اصلاحات نہیں بلکہ بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ گوتیرس کے مطابق، دنیا میں اب بھی مردانہ بالادستی کا ماحول برقرار ہے۔ اس وقت جس قدر صنفی مساوات ہمیں کہیں نظر آتی ہے، وہ محض خواتین اور لڑکیوں کی نسل در نسل کٹھن جدوجہد کا ثمر ہے۔

جنسی تشددمیں بڑھتی سفاکی

گزشتہ دو برسوں کے دوران مسلح تنازعات کے شکار علاقوں میں جنسی تشدد کے واقعات میں 87 فیصد کا ہوش ربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ محض ایک عدد نہیں بلکہ ان ہزاروں خواتین کی چیخیں ہیں جنہیں جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ جب انصاف کا نظام مفلوج ہو جائے اور مجرموں کو سزا کا خوف نہ رہے، تو بربریت کا یہ سیاہ سلسلہ معاشروں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ انصاف کی عدم موجودگی دراصل تشدد کی ایک اور بدترین شکل بن جاتی ہے، جہاں متاثرین کی آوازوں کو دبا کر ظلم کو ایک مستقل روایت بنا دیا جاتا ہے۔


عالمی برادری کا دوہرا معیار

نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے افغانستان میں جاری خواتین کی منظم سرکوبی کو "منظم صنفی عصبیت" (سسٹمیٹک جینڈر اپارتھائیڈ ) کا نام دیتے ہوئے عالمی برادری کے دوہرے معیار کو بے نقاب کیا ہے۔ لڑکیوں کے لیے تعلیم کے دروازے بند کرنا اور خواتین کو عوامی زندگی سے بے دخل کرنا انسانیت کے ایک بڑے حصے کو زندہ درگور کرنے کے مترادف ہے۔ ملالہ کا موقف واضح ہے — عالمی انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ حقوق کا معیار ہر جگہ یکساں ہو؛ غزہ، ایران یا افغانستان کے بچوں کی انسانیت کو جغرافیائی بنیادوں پر مختلف سمجھنا عالمی انصاف کی سب سے بڑی ناکامی ہے۔ اس موقع پر، افغان طالبہ و موسیقار سنبل ریحا نے کہا، " موسیقی میری زندگی ہے... میں بخوبی جانتی ہوں کہ کسی لڑکی کی آواز دبانے کا کیا مطلب ہوتا ہے کیونکہ میں نے اس کرب کو خود اپنی روح پر محسوس کیا ہے۔"

انصاف تک رسائی لازمی شرط

کمیشن کی چیئرپرسن ماریزا چن والوردے نے ایک نہایت اہم نکتہ اٹھایا کہ انصاف تک رسائی محض ایک قانونی سہولت نہیں، بلکہ یہ انسانی وقار اور بااختیاری کی بنیاد ہے۔ ان کے مطابق، جب تک ہم "مقامی سطح پر انصاف فراہم کرنے والے کرداروں کو تسلیم نہیں کرتے اور ڈیجیٹل انصاف و مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ابھرتے ہوئے ڈھانچوں میں صنفی نقطہ نظر کو شامل نہیں کرتے، تب تک مساوات کا حصول ناممکن رہے گا۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں روایتی سرگرمی کو تکنیکی اور حکومتی فریم ورک کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

خاموشی توڑنے کی طاقت

اس اجلاس میں جہاں تلخی تھی، وہاں خواتین کے "خاموش رہنے سے انکار" کی طاقت کا جشن بھی منایا گیا۔ معروف اداکارہ این ہیتھاوے نے ان تمام جرات مند خواتین کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے تشدد اور جبر کے سامنے سر جھکانے سے انکار کیا۔ یو این ویمن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سیما بحوث اور مشیل ولیمز کی پر اثر پرفارمنس نے اس 70 سالہ طویل جدوجہد کی یاد تازہ کی جو اقوام متحدہ کے خواتین کی صورتحال سے متعلق کمیشن (سی ایس ڈبلیو) کے قیام سے اب تک جاری ہے۔ یہ فن اور انفرادی ہمت کا وہ سنگم ہے جو ثابت کرتا ہے کہ جب تک آواز بلند کرنے کا حوصلہ زندہ ہے، تبدیلی کی شمع بجھ نہیں سکتی۔

مساوات اجتماعی ذمہ داری

اقوام متحدہ کے اس اجلاس سے اٹھنے والے سوالات ہمیں ایک ایسے موڑ پر لے آئے ہیں جہاں اب غیر جانبداری کی کوئی گنجائش نہیں۔ اگر ہمارے موجودہ عالمی ڈھانچے، قوانین اور معاشرتی رویے شعوری طور پر عدم مساوات کو پروان چڑھانے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں، تو کیا ہم ان بوسیدہ اور ظالمانہ ڈھانچوں کو مکمل طور پر گرانے کے لیے تیار ہیں؟ یا پھر ہم محض رسمی بیانات کے پیچھے چھپ کر اس ’خواب‘ کے خود بخود پورا ہونے کا انتظار کرتے رہیں گے؟ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ مساوات کوئی تحفہ نہیں جو وقت کے ساتھ مل جائے، بلکہ یہ وہ حق ہے جسے انصاف کے مضبوط ستونوں پر تعمیر کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔