فکر و خیالات

دہلی کو سہارا دینے والے شہری گاؤں خود بے سہارا..پونیت سنگھ سنگھل

دہلی کے شہری گاؤں لاکھوں لوگوں کو سستی رہائش اور روزگار فراہم کرتے ہیں، لیکن غیر منصوبہ بند تعمیرات، ناقص بنیادی سہولیات اور سرکاری بے توجہی انہیں مستقل خطرات سے دوچار کر رہی ہے

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>

علامتی تصویر / اے آئی

 

سعیدالعجائب میں عمارت گرنے اور حوض رانی میں ایک بیڈ اینڈ بریک فاسٹ ہوٹل میں آگ لگنے جیسے واقعات بظاہر ساکیت اور مالویہ نگر جیسے بڑے علاقوں سے وابستہ دکھائی دیتے ہیں، لیکن ان حادثات کا اصل جغرافیہ دہلی کے شہری گاؤں ہیں۔ یہ وہ بستیاں ہیں جو پرانی آبادی کے ڈھانچوں کے ساتھ ایک ایسے شہر کا بوجھ اٹھا رہی ہیں جو اپنی منصوبہ بندی کی حدوں سے کہیں آگے نکل چکا ہے۔

کسی عمارت کے گرنے یا آگ لگنے کے دن سے سانحہ شروع نہیں ہوتا بلکہ اس کی بنیاد ان خاموش برسوں میں پڑتی ہے جب اضافی منزلوں کی تعمیر معمول بن جاتی ہے، رہائشی گلیوں میں تجارتی سرگرمیاں داخل ہو جاتی ہیں، بجلی کا استعمال کئی گنا بڑھ جاتا ہے، سیڑھیاں تنگ ہو جاتی ہیں اور مختلف ادارے اپنی ذمہ داریوں سے نظریں چرانے لگتے ہیں۔

Published: undefined

دہلی کے شہری گاؤں ایک منفرد تاریخی پس منظر رکھتے ہیں۔ آزادی کے بعد جب شہر پھیلنے لگا تو زرعی زمینیں سرکاری منصوبوں کے تحت حاصل کر لی گئیں، لیکن لال ڈورا کے علاقے ایک الگ قانونی اور انتظامی حیثیت کے ساتھ باقی رہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ چھوٹے گھروں نے پہلے کرائے کے کمروں، پھر 1990 کی دہائی میں گیسٹ ہاؤسوں، کیفوں، کلینکوں اور دکانوں کی شکل اختیار کر لی۔ جو گلیاں کبھی صرف مقامی رہائشیوں اور مویشیوں کے لیے تھیں، آج وہی گاڑیوں، ڈلیوری بائیکوں، ایمبولینسوں اور فائر بریگیڈ کے لیے واحد راستہ بن چکی ہیں۔

میں یہ مضمون جنوبی دہلی کے شہری گاؤں دیولی سے لکھ رہا ہوں، جہاں یہ تضاد روزانہ دکھائی دیتا ہے۔ پرانے باشندے اس زمانے کو یاد کرتے ہیں جب گھروں میں صحن ہوا کرتے تھے، مویشیوں کے لیے جگہ موجود ہوتی تھی اور ہوا کی آمدورفت کے لیے کشادگی میسر تھی۔ اب ایک ہی جملہ سننے کو ملتا ہے کہ ’’زمین تو وہی ہے لیکن ضرورتیں بڑھ گئی ہیں‘‘۔ ہر نئی تعمیر انفرادی طور پر مناسب محسوس ہوتی ہے، لیکن جب انہیں پورے شہر کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہی تعمیرات بڑے خطرات کو جنم دیتی ہیں۔

Published: undefined

ان شہری گاؤں کو صرف غیر قانونی تعمیرات کے زاویے سے دیکھنا درست نہیں ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ علاقے وہ سہولتیں مہیا کرتے ہیں جنہیں دہلی کا باقاعدہ شہری ڈھانچہ فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ یہاں طلبہ، مزدوروں اور بیرونی ریاستوں سے آنے والے افراد کے لیے سستی رہائش دستیاب ہے۔ اسپتالوں کے قریب مریضوں اور ان کے تیمارداروں کے لیے عارضی قیام کا انتظام موجود ہے۔ چھوٹے کاروباروں کو جگہ ملتی ہے اور ایسے سماجی روابط قائم ہوتے ہیں جو محدود وسائل رکھنے والوں کے لیے زندگی آسان بناتے ہیں۔

ایک مزدور غیر ہوادار کمرے کو صرف اس لیے قبول کرتا ہے کہ وہ اس کی استطاعت میں ہے اور میٹرو کے قریب واقع ہے۔ ایک طالب علم تنگ پی جی میں اس لیے رہتا ہے کہ وہ کالج سے قریب اور کم خرچ ہے۔ ایک دکاندار اپنے گھر کے نچلے حصے میں کاروبار کرتا ہے کیونکہ کسی شاپنگ مال میں دکان لینا اس کے لیے ناممکن ہے۔ یہ انتخاب اکثر مجبوریوں کا نتیجہ ہوتے ہیں، لیکن ان مجبوریوں کو خطرناک حالات کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔

Published: undefined

حوض رانی کے حالیہ واقعے کی تفصیلات تشویش پیدا کرتی ہیں کیونکہ یہ کوئی منفرد مثال نہیں۔ اطلاعات کے مطابق دو منزلہ اجازت رکھنے والی عمارت کئی منزلوں تک بلند کر دی گئی، جبکہ نہ مناسب نقشہ منظور تھا اور نہ ہی آگ سے تحفظ کا سرٹیفکیٹ موجود تھا۔ یہی صورتحال شہر کے متعدد شہری گاؤں میں دہرائی جا رہی ہے۔ زیادہ منزلیں، زیادہ کرایہ دار، زیادہ کرایہ، بجلی کا زیادہ استعمال اور بڑھتے ہوئے خطرات۔ منصوبہ بندی کے اصولوں کے مطابق عمارت کی اونچائی کا تعلق سڑک کی چوڑائی، ہوا کی آمدورفت، ہنگامی راستوں اور تعمیراتی مضبوطی سے ہوتا ہے، لیکن کئی علاقوں میں یہ رشتہ ٹوٹ چکا ہے۔

مسئلہ پیچیدہ ہے۔ اگر اچانک سخت کارروائی کی جائے تو ہزاروں لوگ بے گھر ہو سکتے ہیں جو ان علاقوں پر انحصار کرتے ہیں۔ کرایہ دار ان خرابیوں کی قیمت چکائیں گے جن میں ان کا کوئی کردار نہیں۔ دوسری طرف غیر محفوظ تعمیرات کو مسلسل برداشت کرنا اس اگلے سانحے کا انتظار کرنے کے مترادف ہے جو ایک بار پھر اس کھلے راز کو بے نقاب کر دے گا۔

Published: undefined

دہلی کو اپنے شہری گاؤں کے ساتھ رویہ بدلنا ہوگا۔ ضرورت پڑنے پر انہیں غیر قانونی قرار دینا، سہولتوں کے مطالبے پر نظر انداز کرنا اور صرف حادثات کے بعد انہیں مجرموں کی بستیوں کے طور پر پیش کرنا مسئلے کا حل نہیں۔ ان علاقوں کو وقتی کارروائیوں نہیں بلکہ دیرپا منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ اس میں عمارتوں کی تصدیق، ملکیت کے واضح ریکارڈ، قابل عمل تعمیراتی ضابطے، ہنگامی رسائی کے راستے، آگ کے خطرات کے نقشے، ساختی معائنہ، پرانی عمارتوں کی مضبوطی کے لیے معاونت اور ایسے مقامی ادارے شامل ہیں جو کسی سانحے سے پہلے جواب دہ ہوں۔

مقصد یہ نہیں کہ شہری گاؤں کو مٹا کر انہیں جدید کالونیوں میں تبدیل کر دیا جائے یا انہیں ماضی کی رومانوی یادگار بنا کر دیکھا جائے۔ یہ گنجان، بدلتے ہوئے، غیر مساوی مگر انتہائی اہم شہری علاقے ہیں۔ کسی بھی سنجیدہ حکمت عملی کو ان کی معاشی اہمیت اور ان کی کمزوری، دونوں کو تسلیم کرنا ہوگا۔

Published: undefined

سعیدالعجائب اور حوض رانی میں ہونے والی اموات محض حادثات نہیں بلکہ اس نظام کی ناکامی کی علامت ہیں جو رعایتوں، شارٹ کٹس اور ادارہ جاتی بے حسی پر قائم ہے۔ دہلی کے شہری گاؤں میں خطرات کو معمول سمجھ لیا گیا ہے، انہیں کرائے پر دیا جا رہا ہے، ان سے محصول وصول کیا جا رہا ہے اور خاموشی سے برداشت کیا جا رہا ہے۔

دہلی پر اپنے شہری گاؤں کا بڑا قرض ہے، لیکن افسوس کہ ان بستیوں کے حصے میں اب تک صرف غفلت، لاپروائی اور خانہ پُری آئی ہے۔

(مضمون نگار پونیت سنگھ سنگھل معذوری کی شمولیت اور موسمیاتی انصاف کے وکیل ہیں۔ وہ گرین ڈس ایبلٹی اور دہلی رورل پروجیکٹ کے بانی/کیوریٹر ہیں)

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined