فکر و خیالات

’کار پول‘ کو قانونی جامہ پہنانے کا وقت!

ویریفائیڈ پروفائل، اِن-ایپ ٹریکنگ، خواتین اسپیشل اور خواتین ڈرائیور کے متبادل اور ایس او ایس کی سہولت والا منظم کار پولنگ نظام بغیر ویریفکیشن کے لفٹ والے سفر سے زیادہ محفوظ ہوگا۔

<div class="paragraphs"><p>کار پولنگ، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/HPCL">@HPCL</a></p></div>

کار پولنگ، تصویر ’ایکس‘ @HPCL

 

ہاردک ملک اور ویدانت چودھری

موٹر وہیکل ایکٹ، 1988 پرائیویٹ (سفید نمبر پلیٹ) اور ٹرانسپورٹ (پیلی نمبر پلیٹ) گاڑیوں کے درمیان واضح فرق کرتا ہے۔ بغیر پرمٹ کے ’تجارتی فائدے یا کرائے‘ کے لیے استعمال کی جانے والی پرائیویٹ کار پر جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے اور اس کی رجسٹریشن بھی معطل کی جا سکتی ہے۔ 2019 کی ترمیم نے ’ایگریگیٹر‘ کی ایک قانونی درجہ بندی متعارف کرائی اور لائسنسنگ کا نظام شروع کیا، لیکن اسے رائیڈ ہیلنگ (تجارتی استعمال) کے لیے تیار کیا گیا تھا، نہ کہ رائیڈ شیئرنگ (کار پولنگ یا ذاتی طور پر سفر بانٹنے) کے لیے۔

Published: undefined

سڑک نقل و حمل اور شاہراہوں کی وزارت نے 2020 میں ’موٹر وہیکل ایگریگیٹر گائیڈلائنز‘ جاری کیں، جس کے بعد 2025 میں اس کا نظرثانی شدہ ورژن آیا۔ اس میں اولا، اوبر، ریپیڈو اور ایسے دیگر پلیٹ فارمز شامل کیے گئے اور اس میں سرج پرائسنگ، ڈرائیوروں کے معاوضے، انشورنس اور شکایات کے ازالے سے متعلق تفصیلی قواعد شامل تھے۔ تاہم، ان دونوں میں مسافروں کے درمیان ہونے والا خرچ تقسیم کرنے والی کار پولنگ کے لیے کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔ نتیجتاً یہ کام بغیر کسی ٹھوس منصوبے کے کیا جا رہا ہے۔

Published: undefined

2023 کے اواخر میں ٹیکسی یونینوں کی مسلسل لابنگ کے بعد کرناٹک کے محکمۂ ٹرانسپورٹ نے ’بلابلا کار‘ اور ’کوئک رائیڈ‘ جیسے کار پولنگ ایپس پر ’سفید نمبر پلیٹ‘ والی کاروں کے استعمال کو غیر قانونی قرار دے دیا، جس کے تحت ریاستی موٹر وہیکل قواعد کے مطابق جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

Published: undefined

بنگلورو... جو ہندوستان کا سب سے مصروف (ٹریفک جام والا) شہر ہے، اور جس کے بارے میں بی جے پی رکن پارلیمنٹ تیجسوی سوریا نے بتایا ہے کہ 1990 کے بعد وہاں گاڑیوں کی تعداد 60 گنا بڑھ گئی ہے... سے یہ توقع کی گئی کہ وہ مصروف اوقات میں ٹریفک جام کم کرنے کے بجائے ٹیکسی آپریٹرز کی آمدنی کو ترجیح دے۔ مہاراشٹر کی ایگریگیٹر کیبس پالیسی 2025 اس کے برعکس طریقہ اپناتی ہے۔ یہ کار پولنگ کو تسلیم کرتی ہے، ڈرائیورز کے لیے ہر ہفتے ہر صارف کے ساتھ 14 پول ٹرپس کی حد مقرر کرتی ہے، اور شرط رکھتی ہے کہ کرایہ مقررہ بنیادی شرح سے زیادہ نہ ہو۔

Published: undefined

کچھ ریاستیں ایسے ایپس کو چلنے دیتی ہیں، جبکہ کچھ ایسی سرگرمی کو قابلِ سزا قرار دیتی ہیں۔ ٹرانسپورٹ ’مشترکہ فہرست‘ کا موضوع ہے، لیکن یہ بے ترتیب انتظام اختیارات کی کسی معقول تقسیم سے زیادہ، قانون سازی سے انکار جیسا محسوس ہوتا ہے، جس کی قیمت عام مسافروں کو چکانی پڑ رہی ہے۔ یہ بات پوری وضاحت کے ساتھ شام 6 بجے نوئیڈا-گریٹر نوئیڈا ایکسپریس وے پر نظر آتی ہے۔ 25 کلومیٹر طویل یہ راہداری روزانہ لاکھوں آئی ٹی اور کارپوریٹ ملازمین کو لاتی لے جاتی ہے، پھر بھی سیکٹر 137 کے بعد میٹرو کوریج کم ہو جاتی ہے، بس رابطہ بھی یکساں نہیں رہتا، اور کارپوریٹ شٹل زیادہ تر بڑی کمپنیوں کے ملازمین کے لیے دستیاب ہوتی ہیں۔ باقی لوگ کسی نہ کسی طرح گزارا کرتے ہیں۔

Published: undefined

غیر رسمی لفٹ لینا عام بات ہے۔ رات کی شفٹ میں آنے جانے والی خواتین اکثر اجنبیوں پر انحصار کرتی ہیں، کیونکہ ان کے پاس کوئی قابل اعتماد متبادل نہیں ہوتا۔ تصدیق شدہ پروفائلز، اِن ایپ ٹریکنگ، خواتین کے لیے خصوصی اور خاتون ڈرائیور کے اختیارات، اور ایس او ایس سہولت پر مبنی منظم کار پولنگ کا نظام، بغیر تصدیق والی لفٹ کے سفر سے زیادہ محفوظ ہوگا، جسے کمزور عوامی نقل و حمل کے نظام کی وجہ سے بہت سے مسافروں کو روزانہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔

Published: undefined

کسی مرکزی ضابطے کے نہ ہونے کی وجہ سے ہی ٹریفک پولیس ’تجارتی فائدے یا کرائے‘ کی اپنی تشریح کرتے ہوئے پول رائیڈرز پر جرمانہ عائد کر دیتی ہے۔ وہ یہ فرض کر لیتی ہے کہ اجنبیوں کے درمیان ہونے والی کسی بھی ادائیگی سے ایک پرائیویٹ گاڑی تجارتی گاڑی بن جاتی ہے۔ جب تک قانون خود ایندھن کے اخراجات میں حصہ داری اور تجارتی کرائے کے درمیان فرق واضح نہیں کرتا، تب تک یہ فرق شاہراہ پر موجود سپاہی ہی طے کرتا رہے گا۔ ایندھن کی قیمتیں شاید فوری وجہ ہوں، لیکن کار پولنگ کو منظم کرنے کی بڑی وجہ ماحولیاتی پالیسی اور تجارت میں پوشیدہ ہے۔

Published: undefined

ہندوستان کا تازہ ترین ’نیشنلی ڈیٹرمنڈ کنٹری بیوشن‘ (این ڈی سی) ملک کو 2030 تک 2005 کی سطح کے مقابلے میں 45 فیصد کم اخراج حاصل کرنے اور 2070 تک ’نیٹ زیرو‘ اخراج کا ہدف پورا کرنے کا پابند بناتا ہے۔ ہندوستان کی ’کاربن کریڈٹ ٹریڈنگ اسکیم‘ (سی سی ٹی ایس) کا پہلا مرحلہ، جس کا نوٹیفکیشن 2023 میں جاری کیا گیا تھا اور جو 2026 تک نافذ رہے گا، توانائی کے استعمال والے نو صنعتی شعبوں کا احاطہ کرتا ہے۔ اس کے ’آف سیٹ میکانزم‘ کے دائرے میں ٹرانسپورٹ بھی شامل ہے، اگرچہ ’شیئرڈ موبلٹی کریڈٹ‘ کے لیے طریقۂ کار ابھی تیار کیا جا رہا ہے۔

Published: undefined

اس دوران یورپی یونین کا نیا ایمیشن ٹریڈنگ سسٹم، ای ٹی ایس 2 (جسے گزشتہ نومبر میں ایک سال کے لیے مؤخر کر دیا گیا تھا، لیکن اب جنوری 2028 میں شروع کرنے کا منصوبہ ہے) پہلی بار سڑک نقل و حمل اور عمارتوں کے لیے ایندھن فراہم کرنے والوں پر ’اپ اسٹریم کاربن پرائس‘ عائد کرے گا۔ اس میں ایک حد مقرر ہوگی جو ہر سال 5 فیصد سے زیادہ کم ہوتی جائے گی، تاکہ 2030 تک اخراج میں 42 فیصد کمی لائی جا سکے۔ موجودہ ای یو ای ٹی ایس میں بھاری صنعتیں اور ہوا بازی شامل ہیں۔ ای ٹی ایس 2 وہ نظام ہے جو دراصل پرائیویٹ گاڑیوں میں استعمال ہونے والے پٹرول کی قیمت طے کرے گا۔

Published: undefined

ہندوستان کے سی سی ٹی ایس کو بالآخر ای ٹی ایس 2 اور ایک ’کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکانزم‘ کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ہوگا، جس کا دائرہ مستقبل میں مزید وسیع ہو سکتا ہے۔ اگر ایپ کے ذریعے ہونے والے کار پول سفر کو سی سی ٹی ایس آف سیٹ میکانزم کے تحت ایک اہل سرگرمی کے طور پر تسلیم کر لیا جائے تو لاکھوں خالی نشستیں ’ماحولیاتی اثاثوں‘ کے طور پر کام کرنا شروع کر سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستانی ٹرانسپورٹ پالیسی بھی بین الاقوامی کاربن مارکیٹ کے ساتھ جڑنے کے لیے بہتر پوزیشن میں ہوگی، چاہے ہم اس کے لیے تیار ہوں یا نہیں۔

Published: undefined

موٹر وہیکل ایکٹ میں ایک الگ باب (یا ایک آزاد ’شیئرڈ موبلٹی، کار پولنگ ضابطہ، 2026‘) کے ذریعے چند اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ سب سے پہلے اسے کمرشیل رائیڈ ہیلنگ اور حقیقی ’خرچ بانٹنے والی کار پولنگ‘ کے درمیان واضح قانونی فرق کرنا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے کار پولنگ کو ’فی کلومیٹر خرچ کی وصولی کی حد‘، ’روزانہ اور ہفتہ وار سفر کی بالائی حد‘ اور ’سخت غیر منافع بخش اصول‘ کے ذریعے متعین کیا جانا چاہیے۔ ان شرائط کے تحت چلنے والی سفید نمبر پلیٹ والی گاڑیوں کو تجارتی پرمٹ کی ضروریات سے استثنا ملنا چاہیے۔

Published: undefined

دوسرا، قانون میں 2025 کی ایگریگیٹر گائیڈلائنز میں پہلے سے موجود حفاظتی اقدامات پر عمل کیا جانا چاہیے... یعنی کے وائی سی اور پولیس تصدیق، لوکیشن ٹریکنگ، خواتین مسافروں کے لیے اختیارات، اِن ایپ ایس او ایس فنکشن اور تصدیق شدہ ایپ سیکورٹی۔ تیسرا، حکومتوں کو دہلی-میرٹھ، ممبئی-پونے اور نوئیڈا-گریٹر نوئیڈا جیسے اہم راستوں پر خصوصی ہائی آکیوپینسی وہیکل (ایچ او وی) لین کا پائلٹ منصوبہ شروع کرنا چاہیے۔ 1969 سے ایچ او وی لین کے معاملے میں امریکہ کا تجربہ، اور پیرس، لیون اور گرینوبل کے اطراف ’وائٹ ڈائمنڈ‘ لین کا فرانس میں استعمال (جہاں اکیلے گاڑی چلانے والوں پر بھاری جرمانہ عائد کیا جاتا ہے) یہ ظاہر کرتا ہے کہ جزوی اور ضرورت کے مطابق فعال ہونے والے نظام بھی کم گاڑیوں کے ذریعے زیادہ لوگوں کو منزل تک پہنچا سکتے ہیں۔

Published: undefined

آخر میں، قانون کو تصدیق شدہ پول ٹرپس کو سی سی ٹی ایس آف سیٹ میکانزم میں شامل کرنا چاہیے، جس سے ایگریگیٹرز(اور بالآخر مسافروں) کو شیئرڈ موبلٹی میں براہ راست مالی فائدہ حاصل ہو۔ اس کے خلاف پیش کیے جانے والے دلائل پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔ لائسنس یافتہ ٹیکسی اور آٹو آپریٹرز کی اپنی روزی روٹی سے متعلق تشویش فطری ہے۔ لیکن فی کلومیٹر سخت حد اور سفر کی زیادہ سے زیادہ تعداد اس بات کو یقینی بنا سکتی ہے کہ پولنگ، کسی دوسرے نام سے چلائی جانے والی غیر لائسنس یافتہ رائیڈ ہیلنگ سروس نہ بن جائے۔ خواتین کی سلامتی کے حامی بجا طور پر سخت جانچ پڑتال کا مطالبہ کرتے ہیں، اس کے لیے ضابطہ جاتی ڈھانچہ پہلے سے موجود ہے۔ ریاستی حکومتیں مشترکہ فہرست کے تحت اپنے اختیارات کا تحفظ کرتی ہیں، لیکن ایسا بنیادی قانون جو قومی سطح پر ایک بنیاد فراہم کرے اور ساتھ ہی ریاستوں کو کرایہ اور ایچ او وی لین طے کرنے کی اجازت دے، وفاقی توازن کو برقرار رکھے گا۔

Published: undefined

جس بات کا دفاع کرنا زیادہ مشکل ہے، وہ موجودہ نظام ہے۔ وزیر اعظم شہریوں سے کار پولنگ کی اپیل کرتے ہیں، جبکہ شاہراہ پر کہیں کوئی علاقائی ٹرانسپورٹ دفتر (آر ٹی او) انہیں یہی کام کرنے پر جرمانہ کر دیتا ہے۔ دہلی حکومت کا اعلان، کیرالہ کی جانب سے مقرر کردہ حدود اور خام تیل کی قیمتوں میں عالمی اضافہ... ان سب نے مل کر ایک دانشمندانہ مرکزی کار پولنگ قانون بنانے کی بنیاد فراہم کر دی ہے۔ اس سے پہلے کہ آبنائے ہرمز کے قریب کہیں کوئی اور تیل بردار جہاز پھنس جائے، یہ کام مکمل کر لینا چاہیے۔

(مضمون نگار ہاردک ملک اور ویدانت چودھری لاء کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں)

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined