طلبہ پر پولیس کارروائی پر کانگریس کا سخت اعتراض، امت شاہ سے دونوں ایوانوں میں وضاحت کا مطالبہ

کانگریس نے دہلی میں احتجاجی طلبہ پر پولیس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے امت شاہ سے پارلیمنٹ میں وضاحت کا مطالبہ کیا۔ پارٹی نے پیپر لیک، نوجوانوں کی خودکشی اور امتحانی نظام پر بھی بحث کا مطالبہ کیا

<div class="paragraphs"><p>تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

نئی دہلی: پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران کانگریس نے دہلی میں احتجاج کرنے والے طلبہ پر مبینہ لاٹھی چارج، آنسو گیس کے استعمال اور پولیس کارروائی کو لے کر مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر داخلہ امت شاہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں حاضر ہو کر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت پیش کریں اور طلبہ سے متعلق اہم مسائل پر سنجیدہ بحث کرائی جائے۔

کانگریس رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ملک کے نوجوانوں کا مستقبل، امتحانی نظام کی شفافیت اور طلبہ کے جمہوری حقوق ایسے موضوعات ہیں جن پر پارلیمنٹ میں کھل کر گفتگو ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق، اگر پارلیمنٹ ان اہم مسائل پر بحث کا مناسب فورم نہیں بن سکتی تو پھر ملک میں ان پر گفتگو کہاں ہوگی؟

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دہلی میں طلبہ کے احتجاج، ان کی بھوک ہڑتال، پولیس کارروائی اور اس کے نتیجے میں پیش آنے والے واقعات پر پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث ہونی چاہیے۔ انہوں نے لوک سبھا اسپیکر سے اپیل کی کہ وہ ایوان میں جاری تعطل کو ختم کرانے کے لیے مداخلت کریں اور اس معاملے پر تمام فریقوں کو اپنی بات رکھنے کا موقع فراہم کریں۔

ششی تھرور نے دعویٰ کیا کہ پولیس کارروائی کے دوران بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے اور تقریباً 100 افراد کو رام منوہر لوہیا اسپتال میں داخل کرانا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ محض ایک احتجاج تک محدود نہیں بلکہ نوجوانوں کے جمہوری حقوق اور اظہارِ رائے کی آزادی سے بھی جڑا ہوا ہے۔


کانگریس کے سینئر رہنما پون کھیڑا نے پارلیمنٹ کی کارروائی کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکمراں جماعت کے اراکین نے راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے کو اپنی بات رکھنے سے روکا۔ ان کے مطابق، کھڑگے طلبہ کے خلاف مبینہ پولیس تشدد کا معاملہ ایوان میں اٹھانا چاہتے تھے۔

پون کھیڑا نے کہا کہ کانگریس کا واضح مطالبہ ہے کہ وزیر داخلہ امت شاہ دونوں ایوانوں میں اس معاملے پر بیان دیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف پولیس کارروائی ہی نہیں بلکہ ملک میں مسلسل سامنے آنے والے پیپر لیک کے واقعات، نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی، خودکشی کے واقعات اور امتحانی نظام پر اٹھنے والے سوالات پر بھی سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔

کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرنیتی شندے نے کہا کہ طلبہ کا احتجاج پُرامن تھا، اس کے باوجود ان پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال ناقابل قبول ہے۔ ان کے مطابق، احتجاج کرنے والے نوجوان اسی ملک کے شہری ہیں اور ان کے ساتھ ایسا برتاؤ جمہوری اقدار کے منافی ہے۔

ادھر کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کارتی چدمبرم نے ملک کے امتحانی نظام کی ساکھ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایک مضبوط، شفاف اور قابلِ اعتماد امتحانی نظام قائم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسلسل پیپر لیک کے معاملات سامنے آنے کے باوجود کسی بھی سطح پر جواب دہی طے نہیں کی جا رہی۔ ان کے مطابق، نہ وزراء کو جواب دہ ٹھہرایا جا رہا ہے اور نہ ہی متعلقہ افسران اور قومی امتحانی ایجنسی کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی کی جا رہی ہے۔


کانگریس کے رکن پارلیمنٹ دیپیندر سنگھ ہڈا نے کہا کہ یہ معاملہ سیاسی فائدے یا نقصان کا نہیں بلکہ ملک کے کروڑوں طلبہ اور نوجوانوں کے مستقبل سے وابستہ ہے۔ انہوں نے گزشتہ بارہ برسوں کے دوران مختلف امتحانات میں پیپر لیک کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کا صبر اب جواب دے چکا ہے اور حکومت کو ان سے بات چیت کر کے ان کا اعتماد بحال کرنا چاہیے۔

انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ دہلی میں طلبہ کے خلاف لاٹھی چارج، آنسو گیس اور دیگر طاقت کے استعمال کے احکامات کس کی جانب سے دیے گئے تھے۔ کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اس معاملے میں مکمل شفافیت کا مظاہرہ کرے اور پارلیمنٹ میں جواب دہی کو یقینی بنائے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔