
علامتی تصویر / اے آئی
وزیر اعظم نریندر مودی نے 9 جنوری کو سہ روزہ ’سومناتھ سوابھیمان پرو‘ کے افتتاح کے موقع پر ہندوؤں کو تقسیم کرنے والی مبینہ ہندو مخالف طاقتوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے کی اپیل کی۔ اسی دوران قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈووال نے نوجوان ہندوستانیوں سے تاریخی ناانصافیوں کا بدلہ لینے کی بات کی اور مسلسل مسلم حملہ آوروں کے ہاتھوں مندروں کی مسماری کا حوالہ دیا۔
یہ تقریب محمودِ غزنوی کے ہاتھوں سومناتھ مندر کی مسماری کے ایک ہزار برس مکمل ہونے کے موقع پر منعقد کی گئی، اور کچھ عجیب انداز میں ایک سالہ تقریبات کے سلسلے کا آغاز بھی اسی ’تباہی‘ کی یاد میں کیا گیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے سومناتھ کو ہندوستانی روح کی ناقابلِ تسخیر قوت کی علامت کے طور پر پیش کیا۔ ان کے بیانیے میں غیر ملکی حملہ آوروں کے ہاتھوں بار بار کی گئی تباہی اور اس کے مقابل ہندو سماج کے مسلسل ازسرنو تعمیر کے عزم کو مرکزی حیثیت دی گئی۔ اس طرح سومناتھ محض عبادت گاہ نہیں بلکہ ایک تہذیبی زخم کی علامت بنا کر پیش کیا گیا۔
Published: undefined
لیکن تاریخی ریکارڈ پر گہری نظر ڈالنے سے ایک کہیں زیادہ پیچیدہ اور باریک حقیقت سامنے آتی ہے، جو اخباری سرخیوں سے کہیں مختلف ہے۔
یہ سوال اہم ہے کہ محمودِ غزنوی نے 1026 تک سومناتھ پر حملہ کیوں نہیں کیا؟ تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ محمود نے 1001 سے ہندوستان پر حملوں کا آغاز کر دیا تھا۔ پاکستان میں 1947 کے بعد کے نصاب میں اسے اسلام کا عظیم مجاہد اور غازی قرار دیا گیا، جبکہ ہندوستانی نصاب میں اسے ایک وحشی حملہ آور کے طور پر پیش کیا گیا۔ اگرچہ محمود کو زیادہ تر 1026 میں سومناتھ مندر کی مسماری کے لیے جانا جاتا ہے، مگر یہ بات تشنۂ وضاحت ہے کہ اس نے اتنا طویل عرصہ انتظار کیوں کیا، حالانکہ اس کے ابتدائی حملے متھرا اور گوالیار تک پہنچ چکے تھے۔
Published: undefined
کیا قرونِ وسطیٰ میں مندروں کی مسماری ایک عام روایت تھی؟ مؤرخ رچرڈ ایٹن، رومیلا تھاپر اور حالیہ دور میں روچیکا شرما جیسے محققین نے نشاندہی کی ہے کہ 1000 سے 1707 کے درمیان ہندوستان میں صرف 80 مندروں کی مسماری کے مستند تاریخی شواہد ملتے ہیں، اور یہ کارروائیاں مسلم اور ہندو دونوں حکمرانوں کے ہاتھوں ہوئیں۔ نہ سنسکرت کے ذرائع اور نہ ہی فارسی تاریخیں اس بات کی تائید کرتی ہیں کہ مندروں کی مسماری کوئی عام یا بڑے پیمانے پر ہونے والا عمل تھا۔ ان محققین نے اس تصور کو بھی رد کیا ہے کہ یہ حملے محض مذہبی جوش و جذبے کے تحت کیے گئے تھے۔ برطانوی مؤرخین نے انہیں مذہبی جنگوں کے طور پر پیش کیا، جبکہ بعد کے مؤرخین نے واضح کیا کہ سیاسی اقتدار اور طاقت کی کشمکش اس کے پیچھے زیادہ اہم عوامل تھے، اور ہندو حکمران بھی اس عمل میں شریک رہے۔
مؤرخین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مندروں کو نشانہ بنانے کی اصل وجہ ان کی دولت تھی۔ مندر صرف عبادت گاہیں نہیں تھے بلکہ ریاستی خزانے کا کردار بھی ادا کرتے تھے، جہاں سونا، زیورات اور قیمتی جواہرات جمع ہوتے تھے۔ مستقل فوج کو برقرار رکھنے کے لیے حکمرانوں کو وسائل کی مسلسل ضرورت رہتی تھی، اور اس مقصد کے لیے لوٹ مار ایک عام طریقہ تھا۔ محمودِ غزنوی کی وسطی ایشیا میں سلطنت سازی کے لیے بھی سونے کی مستقل فراہمی ضروری تھی۔ اس کے حملے دولت سے بھرپور شہری مراکز پر مرکوز تھے، جیسے سومناتھ، متھرا اور قنوج، جہاں دولت کا ارتکاز زیادہ تھا۔ مندروں کی مسماری کا مقصد اکثر شکست خوردہ حکمران کو ذلیل کرنا بھی ہوتا تھا۔ اہم بات یہ ہے کہ محمود نے ملتان میں اسماعیلی مسلمانوں کو بھی بے رحمی سے کچلا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کی تلوار کسی یک رُخی مذہبی ایجنڈے کی پابند نہیں تھی۔
Published: undefined
محمودِ غزنوی کی مسلمانوں کے خلاف مہمات کو سمجھنے کے لیے پروفیسر محمد حبیب کے کام کی طرف رجوع ضروری ہے۔ غزنوی مہمات کے تجزیے میں حبیب نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ محمود کا اصل مقصد اسلام کی تبلیغ نہیں بلکہ بے پناہ دولت کا حصول تھا۔ قرونِ وسطیٰ میں مندر روحانی مراکز ہونے کے ساتھ ساتھ ریاستی سرمائے کے بڑے ذخائر بھی تھے۔
محمود کی ریاست کا دار و مدار لوٹ مار سے حاصل ہونے والی دولت پر تھا، جس سے اس کی فوج اور دربار چلتا تھا۔ محمد حبیب کے مطابق محمود ایک طرح سے ’’سیکولر‘‘ لٹیرا تھا، جس کی توجہ وسائل کے حصول پر مرکوز تھی، نہ کہ مذہبی جنگ پر۔ مسلمانوں کے خلاف اس کی کارروائیاں، خصوصاً ملتان میں اسماعیلیوں کا قتلِ عام، اس تصور کو ناقابلِ قبول بنا دیتی ہیں کہ اس کی مہمات کو محض اسلام اور ہندومت کے درمیان جنگ کہا جائے۔
Published: undefined
آج کے سیاسی رہنماؤں کے لیے سومناتھ ایک ناقابلِ شکست روح کی علامت ہو سکتا ہے، مگر 1264ء کے ایک کتبے سے معلوم ہوتا ہے کہ محمود کے حملے کے دو سو سال بعد ایک امیر عرب جہازران، نورالدین فیروز، کو سومناتھ مندر کے قریب مسجد تعمیر کرنے کے لیے زمین دی گئی۔ یہ اجازت مندر کی انتظامیہ اور مقامی ہندو اشرافیہ کی وساطت سے دی گئی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرونِ وسطیٰ میں ’’مسلمان‘‘ کو ہمیشہ دشمن کے طور پر نہیں بلکہ ایک اہم تجارتی شراکت دار کے طور پر دیکھا جاتا تھا، خاص طور پر ایک کاسموپولیٹن بحری دنیا میں۔
اکثر کہا جاتا ہے کہ سومناتھ مندر سترہ بار تباہ ہوا اور دوبارہ تعمیر ہوا۔ مگر کیا آثارِ قدیمہ اس دعوے کی تائید کرتے ہیں؟ ’’سترہ بار کی تباہی‘‘ ایک جذباتی بیانیہ ضرور ہے، مگر اس کے حق میں کوئی مضبوط تاریخی یا آثارِ قدیمہ کا ثبوت موجود نہیں۔ ستیش چندر جیسے مؤرخین کے مطابق 1026 کا حملہ ایک اہم واقعہ ضرور تھا، مگر اس سے کوئی تہذیبی شکست یا مسلسل تباہی کا سلسلہ شروع نہیں ہوا۔
Published: undefined
اس دور کے سنسکرت کتبوں میں مندر کی مسماری کا بمشکل ذکر ملتا ہے، اور سماجی صدمے کا تو کوئی اشارہ ہی نہیں۔ 1038 تک کے یاتری ریکارڈز بتاتے ہیں کہ مندر دوبارہ فعال ہو چکا تھا۔ بعد کے ادوار میں زوال کی وجوہات زیادہ تر بحری تجارتی راستوں کی تبدیلی، قدرتی کٹاؤ یا مقامی شاہی سرپرستی کے خاتمے سے جڑی تھیں، نہ کہ مسلسل حملوں سے۔ بار بار کی تباہی کا تصور بعد کے زمانے کی ایک تعمیر ہے، جس کا مقصد مظلومیت کے احساس کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا تھا۔
جب تاریخ کو بڑے انتخابات سے عین پہلے سال بھر کی تقریبات کے ذریعے زندہ کیا جائے تو سیاسی نیت کو نظر انداز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ تاریخی حملوں کو موجودہ دور کی شکایت بنا کر پیش کرنے سے سیاسی جماعتیں معاشی بدحالی یا بے روزگاری جیسے موجودہ مسائل سے توجہ ہٹا سکتی ہیں اور عوام کو ایک جذباتی ’’تہذیبی‘‘ کشمکش میں الجھائے رکھ سکتی ہیں۔
یوں فرقہ وارانہ آگ کو سلگتا رکھا جاتا ہے، تاکہ ووٹر پالیسی اور کارکردگی کے بجائے شناخت کے سوال پر مرتکز رہے۔
(حسنین نقوی، سینٹ زیویئرز کالج، ممبئی میں تاریخ کے سابق رکنِ تدریس ہیں)
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined