
تصویر اے آئی
انسانی شعور کی تاریخ میں اگر کسی ایک تصور نے سب سے زیادہ فکری اضطراب پیدا کیا ہے تو وہ وقت ہے۔ وقت کیا ہے؟ کیا یہ مطلق حقیقت ہے یا محض انسانی ادراک کا پیمانہ؟ کیا ماضی، حال اور مستقبل واقعی الگ الگ ہیں یا یہ سب ایک ہی کُل کا حصہ ہیں؟ انہی سوالات کے بطن سے وہ عظیم مسئلہ جنم لیتا ہے جسے مذہب آخرت اور سائنس Time Beyond Observation کے نام سے پہچانتی ہے۔
Published: undefined
اسلام، جس سے مراد ہر زمانے، ہر قوم اور ہر خطے میں ایک خدا کا بھیجا گیا وہی واحد آفاقی پیغام ہے جو آدمؑ سے شروع ہو کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر مکمل ہوا، وقت کو محض گھڑی کی سوئیوں تک محدود نہیں کرتا بلکہ اسے ایک اخلاقی اور کونیاتی حقیقت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اسلام کے نزدیک وقت انسان کے لیے صرف گزرنے والا لمحہ نہیں بلکہ امانت ہے، اور ہر امانت پر جواب دہی لازم ہے۔
Published: undefined
جدید سائنس، خاص طور پر نسبیت (Relativity) کا نظریہ، اس بات کو تسلیم کر چکا ہے کہ وقت ہر جگہ یکساں نہیں۔ رفتار، کششِ ثقل اور مقام کے بدلنے سے وقت کی رفتار بھی بدل جاتی ہے۔ خلاء میں سفر کرنے والا انسان زمین کے انسان کے مقابلے میں مختلف انداز سے عمر پاتا ہے۔ یہ سائنسی حقیقت اس قدیم مذہبی تصور کی توثیق کرتی ہے کہ وقت مطلق نہیں بلکہ حالات کے تابع ہے۔ یہی نکتہ اسلامی تصورِ آخرت کو عقلی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اگر وقت ایک جگہ سست اور دوسری جگہ تیز ہو سکتا ہے، اگر وقت مشاہدے کا محتاج ہے، تو پھر یہ ماننا عقلاً ممکن بلکہ منطقی ہو جاتا ہے کہ موت کے بعد ایک ایسا مرحلہ بھی ہو سکتا ہے جہاں وقت ہماری دنیا کے پیمانوں سے ماورا ہو۔
Published: undefined
اسلام آخرت کو کسی اساطیری قصے کے طور پر نہیں بلکہ ایک کامل اخلاقی نظام کے ناگزیر تقاضے کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اگر اس دنیا میں ہر مظلوم کو انصاف نہیں ملتا، ہر ظالم کو سزا نہیں ملتی، ہر نیکی کا بدلہ نہیں ملتا—تو عقل خود مطالبہ کرتی ہے کہ کوئی اور مرحلہ ضرور ہونا چاہیے جہاں نامکمل حساب مکمل ہو۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اسلام کا تصورِ حساب و کتاب سامنے آتا ہے۔ جدید سائنس بتاتی ہے کہ کائنات میں کوئی عمل ضائع نہیں ہوتا؛ توانائی محفوظ رہتی ہے، معلومات (Information) ختم نہیں ہوتیں بلکہ شکل بدل لیتی ہیں۔ اگر کائنات کا ہر ذرہ اپنا ریکارڈ محفوظ رکھتا ہے تو پھر انسان کے اعمال، خیالات اور فیصلے کیسے بے نشان ہو سکتے ہیں؟
Published: undefined
اسلام کہتا ہے کہ انسان کا ہر عمل، ہر نیت اور ہر فیصلہ محفوظ ہے... اور ایک ایسے مرحلے پر ظاہر ہوگا جہاں وقت کا پردہ اٹھ چکا ہوگا۔ یہی مرحلہ قیامت ہے، جہاں انسان خدا کے سامنے محض جسم کے ساتھ نہیں بلکہ شعور، کردار اور اعمال کے مکمل ریکارڈ کے ساتھ حاضر ہوگا۔ جنت اور جہنم کو اسلام محض جسمانی انعام و سزا کے طور پر پیش نہیں کرتا بلکہ یہ دراصل انسان کے اندرونی انتخاب کا منطقی نتیجہ ہیں۔ سائنس یہ تسلیم کرتی ہے کہ ماحول انسان کی نفسیات پر اثر انداز ہوتا ہے؛ مثبت ماحول ذہنی سکون پیدا کرتا ہے اور منفی ماحول اذیت۔ اسلام اسی اصول کو آخری درجے تک لے جاتا ہے... جہاں انسان خود اپنے اعمال کے مطابق ایک ایسے ماحول میں داخل ہوگا جو اس کے باطن کی مکمل عکاسی ہوگا۔ یہ تصور نہ غیر عقلی ہے، نہ غیر سائنسی، بلکہ انسانی تجربے کی توسیع ہے۔
Published: undefined
شبِ معراج کے واقعے کو بھی اگر محض ایک روحانی قصہ سمجھا جائے تو اس کی فکری عظمت اوجھل ہو جاتی ہے۔ لیکن جب اسے وقت اور مکان کے سائنسی تصور کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ واقعہ انسانی شعور کو یہ پیغام دیتا ہے کہ کائنات کی حقیقت ہماری روزمرہ پیمائشوں تک محدود نہیں۔ وہ ذات جو وقت کو پیدا کرنے والی ہے، اس کے لیے وقت کی قیود کوئی معنی نہیں رکھتیں۔
Published: undefined
اسلام دراصل انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ وہ وقت کے دھوکے میں نہ آئے۔ یہ چند دہائیاں اصل زندگی نہیں بلکہ آزمائش ہیں۔ اصل زندگی وہ ہے جہاں وقت ختم ہو جائے گا اور صرف نتائج باقی رہیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تعلیمات محض عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل اخلاقی، عقلی اور سائنسی ہم آہنگ نظام ہیں، جو انسان کو جواب دہی کے شعور کے ساتھ جینا سکھاتا ہے۔ جدید دنیا جس اخلاقی بحران، ماحولیاتی تباہی اور انسانی بے معنویت کا شکار ہے، اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ انسان نے خود کو بے حساب سمجھ لیا ہے۔
Published: undefined
اسلام اس وہم کو توڑتا ہے۔ وہ کہتا ہے:
تم آزاد نہیں ہو، تم ذمہ دار ہو۔
تم بے مقصد نہیں ہو، تم مامور ہو۔
اور تمہاری زندگی وقت کا حادثہ نہیں بلکہ ایک طے شدہ امتحان ہے۔
یہی وہ حقیقت ہے جو اسلام کو محض ایک مذہب نہیں بلکہ حق بناتی ہے—عقل کے لیے بھی، سائنس کے لیے بھی، اور انسانیت کے لیے بھی۔
Published: undefined
تصویر: پریس ریلیز