آدم و حوا: ایک مذہبی و سائنسی سوال...ایف اے مجیب
مذہب اور سائنس دونوں انسان کی ایک ہی حقیقت کو مختلف زاویوں سے بیان کرتے ہیں۔ مذہب انسان کو اس کی ذمہ داری یاد دلاتا ہے، جبکہ سائنس اسے اس کی حیاتیاتی تاریخ سمجھاتی ہے

انسان کی ابتدا کا سوال انسانی شعور کے قدیم ترین سوالات میں سے ہے۔ یہ محض ایک مذہبی عقیدہ یا اساطیری داستان نہیں، بلکہ فلسفہ، سائنس، تہذیب اور اخلاقی فکر کا مشترکہ نقطۂ آغاز ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جوں جوں سائنسی تحقیق آگے بڑھتی گئی، انسان کے آغاز سے متعلق سوال ختم ہونے کے بجائے مزید گہرا ہوتا چلا گیا۔ آج اکیسویں صدی میں، جب جینیات، حیاتیات اور بشریات غیر معمولی ترقی کر چکی ہیں، آدم و حوا یا پہلے انسان کا تصور نہ صرف مذہبی مباحث میں بلکہ علمی اور فکری حلقوں میں بھی دوبارہ زیرِ بحث ہے۔
مذہبی روایت انسان کی ابتدا کو کسی اندھے اتفاق یا محض حیاتیاتی حادثے کے طور پر نہیں دیکھتی۔ اسلام کے مطابق حضرت آدمؑ پہلے انسان اور پہلے نبی تھے، جنہیں اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا کیا، علم عطا کیا اور زمین پر خلافت کا منصب دیا۔ قرآن آدمؑ کی تخلیق کو محض جسمانی عمل نہیں بلکہ ایک شعوری اور اخلاقی ذمہ داری کے آغاز کے طور پر پیش کرتا ہے۔ یہاں انسان کو اختیار دیا جاتا ہے، لغزش کی گنجائش رکھی جاتی ہے، مگر ساتھ ہی توبہ، اصلاح اور اخلاقی ارتقا کا دروازہ بھی کھلا رکھا جاتا ہے۔ یہی پہلو اسلامی تصورِ انسان کو سادہ اساطیر سے الگ کر کے ایک زندہ اخلاقی بیانیہ بناتا ہے۔
یہودی اور عیسائی روایت بھی بنیادی طور پر اسی تصور سے جڑی ہوئی ہے۔ توریت آدم و حوا کو پہلے انسان قرار دیتی ہے، جبکہ باغِ عدن کا واقعہ انسانی آزادی، آزمائش اور اخلاقی انتخاب کی علامت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ عیسائیت میں اگرچہ “Original Sin” کا نظریہ انسان کی فطرت کو خطاکار قرار دیتا ہے، تاہم جدید عیسائی مفکرین کی ایک بڑی تعداد اس بیانیے کو علامتی اور اخلاقی تناظر میں سمجھنے پر زور دیتی ہے، نہ کہ اسے سادہ تاریخی واقعہ ماننے پر۔
غیر ابراہیمی مذاہب میں بھی انسان کی ابتدا کا سوال مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ ہندومت میں منو کو پہلا انسان اور پہلا قانون ساز کہا گیا ہے، جبکہ زرتشتی مذہب گیومرت کو انسانی نسل کا آغاز قرار دیتا ہے۔ بدھ مت اگرچہ کسی پہلے انسان کے تصور پر زور نہیں دیتا، مگر انسان کو اخلاقی ذمہ داری، کرم اور اعمال کے نتائج سے جوڑتا ہے۔ یوں مختلف مذاہب میں نام بدل جاتے ہیں، مگر انسان کو ایک بااختیار اور جواب دہ وجود ماننے کا تصور مشترک رہتا ہے۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ سائنس اس معاملے میں کہاں کھڑی ہے؟ جدید سائنس، خصوصاً ارتقائی حیاتیات اور جینیات، یہ بتاتی ہے کہ انسان ایک طویل حیاتیاتی عمل کے نتیجے میں وجود میں آیا۔ تاہم یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ سائنس ابھی تک یہ وضاحت نہیں کر سکی کہ انسانی شعور، اخلاقی حس اور معنوی سوالات کیسے اور کیوں پیدا ہوئے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مذہبی بیانیہ سائنسی خامیوں کو پُر کرتا دکھائی دیتا ہے۔
جدید جینیاتی تحقیق اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ تمام انسان ایک ہی مشترک آبادی (Common Ancestry) سے تعلق رکھتے ہیں۔ انسانی ڈی این اے میں پائی جانے والی حیرت انگیز مماثلت اس تصور کو تقویت دیتی ہے کہ انسانیت کی اصل ایک ہے۔ یہ نتیجہ مذہبی تصورِ آدم سے ٹکراتا نہیں بلکہ اس کے ساتھ ہم آہنگ نظر آتا ہے۔ آدم کو اگر ایک فرد کے ساتھ ساتھ انسانی شعور کے آغاز کی علامت سمجھا جائے تو مذہب اور سائنس کے درمیان تصادم کی دیوار خود بخود کمزور ہو جاتی ہے۔
کئی جدید مفکرین کے نزدیک آدم و حوا کا تصور محض تاریخی سوال نہیں بلکہ اخلاقی اور فکری علامت ہے۔ یہ تصور اس لمحے کی نمائندگی کرتا ہے جب انسان نے خود کو محض حیاتیاتی مخلوق کے بجائے ایک ذمہ دار، باشعور اور جواب دہ وجود کے طور پر پہچانا۔ سائنس یہ بتا سکتی ہے کہ انسان کا جسم کیسے بنا، مگر یہ نہیں بتا سکتی کہ انسان کو “صحیح اور غلط” کا شعور کب اور کیوں حاصل ہوا۔ مذہب اسی خلا کو پُر کرتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جدید تقابلی مذہبیات اور فلسفۂ مذہب میں آدم و حوا کی کہانی کو سائنسی تاریخ کے بجائے اخلاقی تاریخ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ وہ تاریخ ہے جو انسان کو یہ سکھاتی ہے کہ علم کے ساتھ ذمہ داری آتی ہے، آزادی کے ساتھ جواب دہی جڑی ہوتی ہے، اور طاقت کے ساتھ اخلاقی حدود لازم ہوتی ہیں۔
اکیسویں صدی میں، جب انسان سائنسی ترقی کے عروج پر ہے مگر اخلاقی بحران سے دوچار ہے، آدم و حوا کا تصور ایک نئے معنی کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ ماحولیاتی تباہی، جنگیں، عدم مساوات اور اخلاقی زوال اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ علم اگر ذمہ داری سے خالی ہو تو تباہی کا باعث بن جاتا ہے۔ قرآن میں آدمؑ کو علم دیے جانے کا ذکر دراصل اسی نکتے کی طرف اشارہ ہے کہ علم، اخلاق کے بغیر نامکمل ہے۔
اگر مذہبی اور سائنسی بیانیے کو تصادم کے بجائے مکالمے کی نظر سے دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ دونوں انسان کی ایک ہی حقیقت کو مختلف زاویوں سے بیان کر رہے ہیں۔ مذہب انسان کو اس کی ذمہ داری یاد دلاتا ہے، جبکہ سائنس اسے اس کی حیاتیاتی تاریخ سمجھاتی ہے۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں ایک کو دوسرے کی نفی کے لیے استعمال کیا جائے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ آدم و حوا یا انسان کی ابتدا کا سوال جہاں مذہب سے ثابت ہوتا ہے وہیں سائنس مختلف مفروضوں پر غوروخوض کے بعد تمام انسانوں کے ایک جدامجد کی حقیقت پر آکر ٹھہر جاتی ہے۔ بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر یہ کہا جائے کہ دونوں مل کر انسانی ابتدا کا ایک زیادہ جامع اور بامعنی تصویر پیش کرتے ہیں۔ لھٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ انسان محض ارتقا کی پیداوار نہیں بلکہ شعور، اخلاق اور مقصد کا حامل ایک وجود ہے۔ یہاں، شاید اصل سوال یہ نہیں کہ آدم تاریخی فرد تھے یا علامت، بلکہ یہ ہے کہ کیا آج کا انسان آدم کی دی گئی ذمہ داری کا حق ادا کر پا رہا ہے؟ یہی سوال مذہب بھی پوچھتا ہے اور سائنس بھی—اور یہی سوال انسان کو واقعی انسان بناتا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔