
علامتی تصویر / اے آئی
انٹرنیٹ پر جب کسی کو کوئی غیر معمولی پرکشش ملازمت کی پیشکش یا کوئی جذباتی پیغام موصول ہوتا ہے، تو وہ ایک لمحے کے لیے بھی یہ نہیں سوچتا ہے کہ اسکرین کے پیچھے ٹائپ کرنے والے ہاتھ شاید کسی زنجیر میں جکڑے شخص کے ہوں اور اس پیغام کے پیچھے اس کی مجبوری، آنسو اور خون شامل ہوں۔
تصور کریں کہ ایک نوجوان کو سوشل میڈیا پر کسی نامور غیر ملکی کمپنی میں 'ڈیجیٹل مارکیٹنگ' کی پرکشش ملازمت کا اشتہار نظر آتا ہے۔ پرتعیش مراعات اور ڈالر میں تنخواہ کے خواب اسے سات سمندر پار لے جاتے ہیں، لیکن منزل پر قدم رکھتے ہی حقیقت کا رنگ بدل جاتا ہے۔ اس کا پاسپورٹ چھین لیا جاتا ہے، اسے ایک آہنی باڑھ والے کمپاؤنڈ میں قید کر دیا جاتا ہے اور پھر اسے ایک 'ڈیجیٹل غلام' بنا کر دنیا بھر کے معصوم لوگوں کو لوٹنے کے کام پر لگا دیا جاتا ہے۔
Published: undefined
یہ کسی سنسنی خیز فلم کا اسکرپٹ نہیں بلکہ 20 فروری کو جاری ہونے والی اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کی ہولناک سچائی ہے جس کا عنوان ہے 'اے وِکیڈ پرابلم' (ایک سنگین و پیچیدہ مسئلہ)۔ یہ حقیقت صرف چند افراد کا المیہ نہیں بلکہ کم از کم 66 ممالک کے 3 لاکھ سے زائد افراد اس وقت ان مراکز میں جبری مشقت کی بھٹی میں 'انسانی ہارڈ ویئر' کے طور پر جھونک دیے گئے ہیں۔ ذیل میں درج حقائق اس منظم عالمی نیٹ ورک کی کالی دنیا کو بے نقاب کرتے ہیں۔
ان اسکیم سینٹرز یا دھوکہ دہی مراکز کی سب سے پہلی اور خوفناک حقیقت ان کی مادی ساخت ہے۔ رپورٹ کے مطابق، یہ سینٹرز 500 ایکڑ تک پھیلے ہوئے وسیع و عریض احاطوں پر مشتمل ہیں، جو کسی جدید قصبے کا گمان دیتے ہیں۔ سیٹلائٹ تصاویر سے انکشاف ہوا ہے کہ ان میں سے 74 فیصد مراکز جنوب مشرقی ایشیا کے 'میکونگ' خطے میں واقع ہیں۔
Published: undefined
یہ محض دفاتر نہیں بلکہ "ریاست کے اندر ایک ریاست" ہیں۔ بلند و بالا دیواروں، خاردار تاروں اور جدید ہتھیاروں سے لیس گارڈز کے پہرے میں ان کمپاؤنڈز کے اندر کیسینو (جوا خانے)، ہوٹل اور یہاں تک کہ قحبہ خانے بھی موجود ہوتے ہیں۔ یہاں ملکی قانون نہیں بلکہ مجرمانہ گروہوں کا جنگل کا قانون چلتا ہے، جہاں باہر کی دنیا صرف خواب بن کر رہ جاتی ہے۔
ان مراکز میں انسانی حقوق کی پامالی اس درجے پر ہے کہ روح کانپ جائے۔ اگر کوئی متاثرہ شخص یومیہ ہدف پورا نہ کر سکے یا فرار کی کوشش کرے، تو اسے ایسی عبرت ناک سزائیں دی جاتی ہیں جو دوسروں کے لیے خوف کا باعث بن جاتی ہیں۔ رپورٹ میں ایک سری لنکائی متاثرہ شخص کا ذکر ہے جسے 'واٹر پریزن' (آبی جیل) میں گھنٹوں ڈبو کر رکھا گیا۔ بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے بتایا کہ اسے مجبور کیا گیا کہ وہ اپنے ہی ساتھیوں کو ڈنڈوں سے پیٹے تاکہ نظم و ضبط برقرار رہے۔ جبکہ 2024 سے خواتین کے خلاف جنسی تشدد، جبری اسقاط حمل اور بجلی کے جھٹکوں کے واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے ان حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مظالم کی یہ فہرست روح فرسا اور لرزہ خیز ہے۔
Published: undefined
اس مکروہ صنعت کا معاشی حجم اس قدر بڑا ہے کہ یہ کئی ممالک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) سے بھی تجاوز کر چکا ہے۔ عالمی سطح پر اس اسکیم انڈسٹری کی سالانہ آمدنی کا تخمینہ 64ارب ڈالر لگایا گیا ہے، جبکہ صرف میکونگ خطے میں یہ 43.8 ارب ڈالر سالانہ ہے۔ ماہرین اسے 'ایک وِکیڈ پرابلم' اس لیے کہتے ہیں کیونکہ اس کا کوئی سادہ حل موجود نہیں ہے۔ اتنی بڑی رقم مجرموں کو یہ طاقت دیتی ہے کہ وہ ریاستوں کے اندر اثر و رسوخ خرید سکیں اور جدید ترین کرپٹو ٹیکنالوجی کے پیچھے چھپ سکیں۔ اگر ان مراکز پر چھاپہ مارا جائے تو متاثرین ہی کو مجرم سمجھ کر گرفتار کر لیا جاتا ہے، اور اگر انہیں چھوڑ دیا جائے تو یہ گروہ کسی دوسری جگہ منتقل ہو جاتے ہیں۔ یہ ایک ایسا شیطانی چکر ہے جسے توڑنا عالمی اداروں کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
متاثرین کا المیہ ان مراکز سے رہائی پر ختم نہیں ہوتا۔ اردو کی ایک مثال 'شیر کے منہ سے نکل کر مگرمچھ کے پاس جانا' یہاں پوری طرح صادق آتی ہے۔ جب کوئی شخص جان بچا کر نکلتا ہے، تو اسے تحفظ دینے کے بجائے اکثر امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی یا ان جرائم کی سزا دی جاتی ہے جو اس سے بندوق کی نوک پر کروائے گئے تھے۔ انسانی حقوق کے ماہرین یہاں 'غیر سزا کے اصول'کی وکالت کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانی اسمگلنگ کا شکار ہونے والے افراد کو ان مجرمانہ افعال کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے جو انہوں نے جبر کے تحت کیے۔ بدقسمتی سے، معاشرے کی بدنامی اور قانونی کارروائی انہیں ایک بار پھر صدمے و مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیل دیتی ہے۔
Published: undefined
یہ مراکز کسی خلا میں کام نہیں کر رہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، یہ گھناؤنا کاروبار "انتہائی گہری کرپشن" کی بنیاد پر کھڑا ہے۔ متاثرین کے بیانات سے انکشاف ہوا ہے کہ سرحدی حکام اور امیگریشن افسران ان مجرمانہ گروہوں کے ساتھ ملے ہوتے ہیں، جو متاثرین کو 'فاسٹ ٹریک' کے ذریعے سرحد پار کروانے میں سہولت فراہم کرتے ہیں۔ کئی مقامات پر پولیس اہلکاروں کے ان مراکز کے اندر داخل ہو کر مینیجرز سے باقاعدہ 'ادائیگیاں' وصول کرنے کے شواہد ملے ہیں۔ جب تک ریاست کے ستونوں کے اندر موجود یہ کالی بھیڑیں اس نظام کو تحفظ فراہم کرتی رہیں گی، ان اسکیم سینٹرز کا خاتمہ ناممکن ہے ۔
جنوب مشرقی ایشیا کے یہ دھوکہ دہی مراکز ڈیجیٹل دور کے جدید غلام خانے بن چکے ہیں۔ اقوام متحدہ نے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ متاثرین کی بحالی کے لیے محفوظ راستے فراہم کریں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ساتھ مل کر بھرتی کے اس عمل کو روکیں جو معصوم لوگوں کو ’انسانی ایندھن‘ میں تبدیل کر رہا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined