
تصویر اے آئی
انسانی تاریخ کا سب سے قدیم، سب سے بنیادی اور سب سے مسلسل سوال خدا کا سوال ہے۔ انسان نے جب پہلی بار آسمان کی وسعت کو دیکھا ہوگا، سورج کو طلوع و غروب ہوتے محسوس کیا ہوگا، رات کی خاموشی میں ستاروں کی گردش، زندگی کی پیدائش اور موت کے اسرار پر غور کیا ہوگا، تب اس کے دل میں لازماً یہ سوال پیدا ہوا ہوگا کہ اس عظیم کائنات کی تخلیق کے پیچھے کوئی ہستی ضرور ہے۔ تہذیبیں بدلتی رہیں، زبانیں تبدیل ہوتی رہیں، سلطنتیں مٹتی رہیں، مگر ایک چیز کبھی ختم نہ ہوئی: انسان کا یہ یقین کہ اس کائنات کے پیچھے کوئی ایک عظیم، قادر، برتر اور ماورائی ہستی ضرور موجود ہے۔
کسی نے اسے اللہ کہا، کسی نے God، کسی نے Elohim، کسی نے برہمن، کسی نے واہگرو اور کسی نے اہورا مزدا، مگر اگر ان تمام ناموں، ان کے لسانی پس منظر اور مذہبی مفاہیم کا غیر جانب دارانہ مطالعہ کیا جائے تو حیرت انگیز طور پر ایک ہی حقیقت سامنے آتی ہے: انسانی مذہبی شعور بنیادی طور پر ہمیشہ ایک خدا کے تصور کی طرف مائل رہا ہے۔ گویا مذاہب کے ظاہری اختلافات کے پیچھے ایک مشترک روح موجود ہے، اور وہ روح وحدانیتِ الٰہی کی روح ہے۔
Published: undefined
اسلام اسی حقیقت کو سب سے واضح انداز میں بیان کرتا ہے۔ اسلام کسی نئے مذہب کا نام نہیں بلکہ وہی اولین اور فطری دین ہے جو ابتدا ہی سے انسانیت کو دیا جاتا رہا۔ اسلام کا مطلب ہی اپنے آپ کو ایک خدا کے سامنے جھکا دینا ہے۔ قرآن کے مطابق حضرت آدمؑ سے لے کر حضرت نوحؑ، حضرت ابراہیمؑ، حضرت موسیٰؑ، حضرت عیسیٰؑ اور آخر میں حضرت محمدؐ تک تمام انبیاء کا بنیادی پیغام ایک ہی تھا: ایک خدا کی عبادت کرو، اسی کو خالق مانو، اسی کے سامنے جھکو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ وقت گزرنے کے ساتھ جب انسان خدا کو بھولنے لگتا، یا اس کی وحدانیت اور اختیارات میں دوسروں کو شامل کرکے شرک میں مبتلا ہوجاتا، تو اللہ انسانیت کی رہنمائی کے لیے ایک اور نبی بھیج دیتا تاکہ انسان دوبارہ اپنی اصل فطرت کی طرف لوٹ آئے۔ حضرت محمدؐ اسی سلسلے کی آخری اور مکمل کڑی بن کر آئے، اور اسلام نے اسی ابدی پیغام کو اپنی محفوظ ترین اور خالص ترین شکل میں دنیا کے سامنے پیش کیا۔
اگر دنیا کی مختلف زبانوں میں خدا کے لیے استعمال ہونے والے الفاظ کا مطالعہ کیا جائے تو بھی یہ حقیقت مزید واضح ہوجاتی ہے کہ انسانی ذہن بنیادی طور پر ایک اعلیٰ ترین ہستی ہی کو تلاش کرتا رہا ہے۔ عربی کا لفظ “اللہ” سامی زبانوں کے اس قدیم جذر سے تعلق رکھتا ہے جس سے عبرانی زبان کے “ایل” (El)، “الوہ” (Eloah) اور “الوہیم” (Elohim) جیسے الفاظ نکلے۔ آرامی اور سریانی زبان میں یہی لفظ “الٰہا” (Alaha) بن گیا۔ یہ تمام الفاظ ایک ایسی ہستی کے لیے استعمال ہوئے جو خالق، قادر، عبادت کے لائق اور انسان سے برتر ہو۔ یہی وجہ ہے کہ عرب عیسائی آج بھی خدا کے لیے “اللہ” کا لفظ استعمال کرتے ہیں، اور عربی بائبل میں God کے لیے “اللہ” ہی لکھا جاتا ہے۔
Published: undefined
قدیم عبرانی زبان میں “یہوواہ” (YHWH) یا “یہوہ” خدا کے ذاتی نام کے طور پر استعمال ہوا، جس کے معنی ہیں “ہمیشہ موجود رہنے والا”۔ فارسی میں “خدا” کا لفظ مالک، آقا اور پروردگار کے معنی دیتا ہے۔ سنسکرت میں “ایشور” حاکمِ اعلیٰ اور “برہمن” مطلق اور ازلی حقیقت کے مفہوم میں استعمال ہوا۔ سکھ روایت میں “اک اونکار” کا مطلب ہی “حقیقت ایک ہے” ہے۔ زرتشتی مذہب میں “اہورا مزدا” کا مطلب “عظیم دانا خدا” ہے۔
انگریزی کا لفظ “God” اور جرمن زبان کا “Gott” قدیم جرمنک زبانوں کے اس لفظ سے نکلے ہیں جس کے معنی ہیں “وہ ہستی جسے پکارا جائے” یا “جس کی طرف دعا کی جائے”۔ یونانی زبان میں “Theos” خدا کے لیے استعمال ہوا، جبکہ قدیم یونانی فلسفے میں “The One” یعنی “ایک مطلق حقیقت” کا تصور موجود تھا۔ لاطینی زبان میں “Deus” خدا کے لیے بولا گیا، جس سے فرانسیسی “Dieu”، ہسپانوی “Dios” اور اطالوی “Dio” جیسے الفاظ وجود میں آئے۔ چینی روایت میں “شانگ دی” آسمانی حاکمِ اعلیٰ کے لیے استعمال ہوا، جبکہ “تاؤ” کائنات کی عظیم اور حتمی حقیقت کی علامت بنا۔ افریقی روایات میں “Great Spirit” اور جاپانی تہذیب میں “کامی” جیسے تصورات بھی کسی نہ کسی صورت ایک برتر اور ماورائی قوت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
Published: undefined
یہ حیرت انگیز مماثلت محض اتفاق نہیں ہوسکتی۔ زبانیں الگ ہیں، قومیں الگ ہیں، تہذیبیں الگ ہیں، مگر خدا کے لیے استعمال ہونے والے الفاظ کے بنیادی معانی تقریباً ایک جیسے ہیں۔ ہر مذہب خدا کو خالق، رازق، قادرِ مطلق، ازلی، ابدی اور انسان سے برتر ہستی قرار دیتا ہے۔ یہ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ انسانیت کی مذہبی یادداشت کی بنیاد ایک ہی سرچشمے سے جڑی ہوئی ہے۔
یہودیت کی بنیادی دعا “شماع” اعلان کرتی ہے: “اے اسرائیل سن! خداوند ہمارا خدا ایک ہی خداوند ہے۔” حضرت موسیٰؑ نے بنی اسرائیل کو ایک خدا کی عبادت کی دعوت دی۔ حضرت عیسیٰؑ کی تعلیمات کا مرکز بھی ایک ہی خدا تھا۔ انجیل میں وہ بار بار آسمانی باپ کی عبادت کی دعوت دیتے ہیں۔ بعد میں مذہبی تعبیرات میں اختلافات پیدا ہوئے، مگر اصل دعوت خدا کی وحدانیت ہی تھی۔ قرآن اسی سلسلے کو مکمل کرتے ہوئے اعلان کرتا ہے: “کہہ دو، اللہ ایک ہے۔” اسلام نے توحید کو نہایت خالص، واضح اور غیر مبہم انداز میں پیش کیا، جہاں خدا نہ کسی کا بیٹا ہے، نہ کسی سے پیدا ہوا، نہ اس کا کوئی شریک ہے اور نہ اس جیسی کوئی مثال۔
Published: undefined
تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ انسان اکثر خدا کو مانتے ہوئے بھی اس کے اختیارات میں دوسروں کو شریک کرتا رہا۔ کبھی بادشاہوں کو خدائی اختیارات دے دیے گئے، کبھی بتوں کو وسیلہ سے بڑھا کر معبود بنا لیا گیا، کبھی طاقت، نسل، دولت اور خواہشات انسان کے نئے خدا بن گئے۔ یہی وہ مقام تھا جہاں انبیاءِ کرام بار بار آئے تاکہ انسان کو اس کی اصل فطرت یاد دلائیں۔ ان کا پیغام ایک ہی تھا: عبادت صرف ایک خدا کی، اطاعت صرف ایک خدا کی، اقتدارِ حقیقی صرف ایک خدا کا۔
آج کی دنیا مذہبی نفرت، قومیت، مادہ پرستی اور روحانی خلا کا شکار ہے۔ انسان چاند تک پہنچ گیا، مصنوعی ذہانت بنا لی، مگر اس کے دل کا سب سے بڑا سوال آج بھی وہی ہے: “میں کون ہوں، اور اس کائنات کا اصل مالک کون ہے؟” شاید انسانیت کو دوبارہ اسی بنیادی حقیقت کی طرف لوٹنے کی ضرورت ہے جسے تمام انبیاءِ کرام لے کر آئے تھے۔ وہ حقیقت یہ ہے کہ خالق ایک ہے، اقتدار ایک ہے، عبادت کا حق ایک ہے، اور انسانیت کی اصل بھی ایک ہی ہے۔ یہی وہ مشترک پیغام ہے جو مختلف زبانوں، مختلف قوموں اور مختلف زمانوں میں بار بار دہرایا جاتا رہا، اور یہی وہ حقیقت ہے جس پر انسانی روح ہمیشہ گواہی دیتی رہی ہے: خدا ایک ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined