فکر و خیالات

بنگلہ دیش کے انتخابات میں اقلیتوں اور خواتین کی سیاست...سوربھ سین

بنگلہ دیشی انتخابات میں اقلیتوں اور خواتین کے ایشوز محض نمائندگی تک محدود نہیں بلکہ سیاسی بیانیے، جماعتی مفادات اور ووٹ بینک کی سیاست سے جڑے ہوئے ہیں

<div class="paragraphs"><p>بنگلہ دیش میں انتخابی مہم کے دوران خواتین / Getty Images</p></div>

بنگلہ دیش میں انتخابی مہم کے دوران خواتین / Getty Images

 
Kazi Salahuddin Razu

بنگلہ دیش کی انتخابی سیاست میں اقلیتوں اور خواتین کا سوال ایک بار پھر مرکزِ بحث ہے۔ یہ معاملہ صرف نمائندگی یا نشستوں کی تعداد تک محدود نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں کے بیانیے، ماضی کی روایتوں اور مستقبل کے امکانات سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ ہندوستان کی طرح بنگلہ دیش میں بھی اقتدار میں رہنے والی جماعتوں اور سیاسی قوتوں پر یہ الزام عائد ہوتا رہا ہے کہ وہ اقلیتی طبقات کو اصولی برابری کے بجائے سیاسی مفادات کے تحت استعمال کرتی ہیں۔

لکشمی پور کے حلقۂ انتخاب میں پیش آنے والا ایک واقعہ اسی بحث کی علامت بن گیا۔ ایک ہندو خاتون نے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے امیدوار اور پارٹی کے مشترکہ جنرل سکریٹری چودھری عینی سے سوال کیا کہ جب بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو اس کا خمیازہ ہمیشہ ہندو برادری کو ہی کیوں بھگتنا پڑتا ہے؟ عینی نے تحمل سے جواب دیا کہ انہیں اپنے علاقے میں ایسی کسی مخصوص واردات کی اطلاع نہیں جس میں ہندوؤں کو نشانہ بنایا گیا ہو، تاہم وہ ہر اندیشے کو دور کرنے کے لیے تیار ہیں۔ خاتون نے مسکراتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو محفوظ محسوس کرتی ہیں، ان کا اشارہ پورے ملک کی صورتِ حال کی طرف تھا، نہ کہ صرف اپنے ذاتی تجربے کی طرف۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب گردش کرتی رہی، اگرچہ بنگلہ دیش کے مرکزی دھارے میں اسے زیادہ اہمیت نہیں ملی۔

Published: undefined

بنگلہ دیش میں ہندو آبادی تقریباً آٹھ فیصد کے آس پاس ہے اور سیاسی نمائندگی ہمیشہ محدود رہی ہے۔ گزشتہ تین انتخابات میں زیادہ تر ہندو امیدوار عوامی لیگ کی جانب سے میدان میں اتارے گئے تھے۔ پچھلے انتخاب میں 17 ہندو امیدوار کامیاب ہوئے اور تین کو شیخ حسینہ کی کابینہ میں شامل کیا گیا۔ مگر حسینہ کے ملک سے باہر ہونے اور عوامی لیگ پر انتخاب میں حصہ لینے کی پابندی کے بعد ہندو نمائندگی کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے تھے۔

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ قومی پارلیمنٹ کی نشستوں کے لیے تقریباً 80 ہندو امیدوار میدان میں ہیں۔ یعنی مجموعی تصویر میں بڑی تبدیلی نہیں آئی، فرق صرف یہ ہے کہ دیگر جماعتوں نے بھی اقلیتی امیدواروں کو ٹکٹ دیے ہیں۔ یہاں تک کہ جماعتِ اسلامی نے بھی کھلنا میں ایک ہندو امیدوار کرشنا نندی کو نامزد کیا ہے۔ اس کے اتحادی این سی پی نے بھی دو ہندو امیدواروں کو ٹکٹ دیا، جن میں ایک خاتون شامل ہیں۔ جماعت کے امیر شفیق الرحمٰن نے ان کے حق میں مہم چلاتے ہوئے کہا کہ اگر نندی منتخب ہوئے تو انہیں ’جمائی آدور‘ یعنی داماد کی طرح عزت و محبت ملے گی۔

Published: undefined

نمایاں امیدواروں میں برہمن باریا سے منیشا چکرورتی کا نام بھی لیا جا رہا ہے، جو بنگلہ دیش کمیونسٹ پارٹی کی امیدوار ہیں۔ اگرچہ ان کی جیت کے امکانات کم سمجھے جا رہے ہیں، لیکن انہیں غیر متوقع حلقوں سے حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ اسی طرح بی این پی کے اقلیتی محاذ کے رہنما ترون ڈے کے لیے برقع پوش خواتین کی انتخابی مہم نے بھی توجہ حاصل کی۔

12 فروری کو ہونے والے انتخابات کا انحصار بڑی حد تک 18 سے 35 سال کے تقریباً 4.5 کروڑ نئے ووٹروں پر ہوگا، جن میں سے بہت سے گزشتہ انتخابات میں ووٹ نہیں ڈال سکے تھے۔ 6.28 کروڑ خواتین ووٹر بھی ایک اہم قوت ہیں، لیکن 300 رکنی پارلیمنٹ کے لیے میدان میں موجود 1,981 امیدواروں میں صرف 80 خواتین شامل ہیں۔ یہ تفاوت خود اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خواتین کی سیاسی شرکت اب بھی محدود ہے۔

Published: undefined

کل 88 اقلیتی امیدواروں نے کاغذاتِ نامزدگی داخل کیے تھے، جن میں سے پانچ کے کاغذات مسترد ہوئے اور تین نے دستبرداری اختیار کر لی۔ 22 سیاسی جماعتوں نے اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے 68 امیدوار میدان میں اتارے۔ کمیونسٹ پارٹی نے سب سے زیادہ 17 امیدوار نامزد کیے، جب کہ بی این پی نے چھ امیدوار کھڑے کیے جن میں دو سینئر رہنما—گائیشور چندر رائے اور نتائی رائے چودھری شامل ہیں۔

بی این پی سے وابستہ تھنک ٹینک جی-9 کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر سخاوت حسین سینتھا کے مطابق بی این پی خود کو ایک معتدل جماعت کے طور پر پیش کرتی ہے اور اقلیتوں کو برابر حقوق کے حامل شہری سمجھتی ہے۔ ان کے بقول پارٹی کی سابق چیئرپرسن خالدہ ضیاء اقلیت کی اصطلاح کے استعمال پر بھی ناپسندیدگی ظاہر کرتی تھیں۔

Published: undefined

دوسری طرف جماعتِ اسلامی کے رہنما میاں غلام پوار کہتے ہیں کہ ان کی جماعت نے ہندو امیدوار کو ٹکٹ دیا اور وہ خود اس کے لیے مہم چلانے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں ہندوؤں پر مظالم کی کہانیاں بڑھا چڑھا کر پیش کی جاتی ہیں۔

درحقیقت بنگلہ دیش میں اقلیتوں کا بیانیہ نہایت پیچیدہ ہے۔ ماضی میں بی این پی پر اقلیتوں کے خلاف سخت رویے کا الزام لگایا جاتا رہا، خصوصاً 2001 سے 2006 کے دور میں جب اس نے جماعتِ اسلامی کے ساتھ اتحاد کیا۔ اس کے برعکس عوامی لیگ کو ہندوستان میں نسبتاً زیادہ روادار تصور کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم زمینی حقیقت اس سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ سیاسی تشدد اکثر جماعتی مفادات اور شناخت کی بنیاد پر ہوتا رہا، جسے مذہبی رنگ دے دیا جاتا ہے۔

Published: undefined

ڈاکٹر حسین کے مطابق اگر کسی بی این پی رہنما پر حملہ ہو تو اسے سیاسی حملہ قرار دیا جاتا ہے، لیکن اگر کسی عوامی لیگ کے رہنما—خصوصاً اقلیتی پس منظر رکھنے والے—کو نشانہ بنایا جائے تو اسے اقلیتوں پر حملہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیانیہ خود سیاسی کشمکش کا حصہ بن جاتا ہے۔

خواتین کے مسئلے نے انتخابی فضا کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ ایک انتخابی جلسے میں شفیق الرحمٰن نے کہا کہ مرد اور عورت مل کر کل کا بنگلہ دیش بنائیں گے اور خواتین کے خلاف تشدد برداشت نہیں کیا جائے گا۔ تاہم بعد میں ان کے ایک مبینہ سوشل میڈیا بیان نے تنازع کھڑا کر دیا، جس میں خواتین کی قیادت اور گھر سے باہر کام کرنے پر سوال اٹھایا گیا تھا۔ اگرچہ جماعت نے اسے ہیکنگ قرار دیا، لیکن سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی نے اس پر سخت ردِ عمل ظاہر کیا۔

Published: undefined

ہندوستان میں بنگلہ دیش کی صورتِ حال پر نظر رکھنے والے وہ لوگ جو جماعت کی بدلتی ہوئی شبیہ پر اعتماد کر رہے تھے، ابتدا میں مطمئن دکھائی دیے۔ لیکن شفیق الرحمٰن کو اپنا مؤقف بدلنے میں زیادہ وقت نہیں لگا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین قیادت کا کردار ادا نہیں کر سکتیں۔ ان کے تصدیق شدہ ایکس اکاؤنٹ سے کی گئی ایک پوسٹ، جو بعد میں حذف کر دی گئی، کے اسکرین شاٹس 31 جنوری کو وائرل ہو گئے۔ اس پوسٹ میں مبینہ طور پر کہا گیا تھا کہ خواتین کا روزگار کے لیے گھر سے باہر نکلنا اخلاقی طور پر درست نہیں اور اس سے وہ استحصال کا شکار ہو سکتی ہیں۔

رحمٰن کے بیانات پر سیاسی جماعتوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور سول سوسائٹی تنظیموں نے سخت تنقید کی۔ یکم فروری کو بی این پی کے طلبہ ونگ جاتیو تابادی چھاترا دل (جے سی ڈی) نے ڈھاکہ یونیورسٹی میں احتجاجی مارچ نکالا۔ یاد رہے کہ حالیہ طلبہ یونین انتخابات میں جماعت کی حمایت یافتہ اسلامی چھاترا شبیر نے کامیابی حاصل کی تھی۔ جے سی ڈی نے رحمٰن کے بیانات کو قابلِ اعتراض اور توہین آمیز قرار دیا۔ جماعت نے وضاحت کی کہ رحمٰن کا ایکس اکاؤنٹ ہیک ہو گیا تھا اور مذکورہ پوسٹ ان کے خیالات کی عکاس نہیں تھی۔ میاں غلام پوار نے بتایا کہ یہ ہیکنگ بنگلہ دیش کے صدر کے سرکاری رہائش گاہ بنگ بھون کے ایک ملازم کی ای میل کے ذریعے کی گئی تھی اور وہ ای میل ہندوستان سے بھیجی گئی تھی۔ بعد ازاں اس ملازم کو گرفتار کر لیا گیا۔

Published: undefined

بی این پی کی نیشنل الیکشن کمیشن کمیٹی کے ترجمان مہدی امین نے رحمٰن کے بیانات کو خواتین کے خلاف کھلی نفرت کا اظہار قرار دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ہماری خواتین محنت اور پسینہ بہا کر اشیا تیار کرتی ہیں اور ملک کے لیے زرمبادلہ کماتی ہیں۔ بنگلہ دیش کی ٹیکسٹائل صنعت کی عالمی کامیابی میں خواتین کا بنیادی کردار ہے۔

سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ رحمٰن کے بیانات انتخابات میں جماعت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ڈھاکہ کے ایک صحافی نے یاد دلایا کہ 2001 میں بیگم خالدہ ضیاء کی حکومت میں شامل ہونے میں جماعت کو کوئی ہچکچاہٹ نہیں تھی۔

اسی دوران بنگلہ دیش کے سماجی تحقیقاتی ادارے انوویژن کنسلٹنگ نے 30 جنوری کو ’پیپلز الیکشن پلس سروے‘ کا تیسرا مرحلہ جاری کیا۔ سروے کے مطابق بی این پی دیگر جماعتوں پر اپنی برتری مضبوط کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسے نہ صرف اپنے روایتی حامیوں کی حمایت حاصل ہے بلکہ وہ ان ووٹروں کو بھی اپنی طرف متوجہ کر رہی ہے جو پہلے جماعت یا این سی پی کی جانب مائل تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ عوامی لیگ کے کچھ ووٹروں کو بھی راغب کرنے میں کامیاب ہو رہی ہے۔ تاہم سروے میں شامل تقریباً 30 فیصد افراد کی ترجیحات واضح نہیں ہو سکیں، جس کا مطلب ہے کہ جماعت سے بی این پی کی جانب ممکنہ ووٹوں کا جھکاؤ واپس بھی پلٹ سکتا ہے۔

مضمون نگار سوربھ سین کولکاتا میں مقیم مصنف اور تجزیہ کار ہیں)

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined