فکر و خیالات

آئی پیک پر ای ڈی کی کارروائی: کیا اسکرپٹ پہلے ہی لیک ہو چکا تھا؟

آئی پیک پر ای ڈی کی کارروائی نے قانونی جانچ کو سیاسی تنازعہ میں بدل دیا ہے۔ بی جے پی کی ابتدائی پوسٹ، ممتا بنرجی کی مداخلت اور انتخابی وقت نے اس چھاپے کو ’لیک شدہ اسکرپٹ‘ کے بیانیے میں بدل دیا

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>

تصویر اے آئی

 

آئی-پیک (انڈین پولیٹیکل ایکشن کمیٹی) کے کولکاتا دفتر پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی کارروائی یوں تو ایک تفتیشی قدم کے طور پر کی گئی، لیکن اس نے ایک بڑے سیاسی بیانیے کو جنم دیا ہے۔ اس پورے معاملے کا مرکزی نکتہ کسی ایک الزام یا قانونی شق سے زیادہ ٹائم لائن بن کر سامنے آیا ہے، یعنی یہ کہ کس نے، کب اور کس زبان میں سب سے پہلے بات کی۔ ای ڈی کے باضابطہ بیان سے قبل بی جے پی کی مغربی بنگال یونٹ کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ آ جانا ہی وہ لمحہ تھا جسے ترنمول کانگریس نے اپنے بیانیے کی بنیاد بنایا۔

ترنمول کانگریس کا دعویٰ ہے کہ اگر ای ڈی کا بیان بعد میں آیا اور سیاسی جماعت پہلے بول پڑی، تو اس کا مطلب یہی ہے کہ کارروائی کی کہانی پہلے سے لکھی جا چکی تھی۔ پارٹی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’’ای ڈی کا بیان؟ بی جے پی پہلے ہی اسکرپٹ لیک کر چکی تھی۔‘‘ اس دعوے کے ذریعے ترنمول نے یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی کہ مرکزی تفتیشی ایجنسیاں اور حکمراں جماعت کا سیاسی و ابلاغی نظام محض ہم آہنگ ہی نہیں بلکہ باقاعدہ طور پر ہم وقت ہیں۔

Published: undefined

کاغذی اور قانونی اعتبار سے دیکھا جائے تو ای ڈی کی یہ کارروائی کسی تازہ سیاسی فیصلے کا نتیجہ نہیں تھی۔ اس کی جڑیں سنہ 2020 کے اواخر میں درج ہونے والے ایک کوئلہ اسمگلنگ معاملے میں پیوست ہیں، جسے سی بی آئی نے درج کیا تھا۔ اس کیس میں بڑے پیمانے پر کوئلے کی غیر قانونی منتقلی، حوالہ کے ذریعے رقوم کی ترسیل اور اسمگلنگ نیٹ ورک کے مالی فائدوں کا الزام تھا۔ اسی ایف آئی آر اور بعد ازاں ای ڈی کے ای سی آئی آر کی بنیاد پر کئی برسوں سے پوچھ گچھ، گرفتاریاں اور مالی سراغ رسانی جاری رہی۔ منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون کے تحت یہ کارروائیاں ایک طویل تفتیشی سلسلے کا حصہ تھیں۔

تاہم سیاست میں قانونی منطق سے زیادہ وقت بولتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سوال اٹھا کہ اگر جانچ تین برس سے زیادہ عرصے سے چل رہی تھی تو جنوری 2026 میں، جب مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہے، اچانک آئی پیک کے سالٹ لیک دفتر پر کارروائی کیوں کی گئی؟ سیدھی سادی وضاحتیں—جیسے نئے شواہد کا سامنے آنا، گواہوں کے تعاون میں پیش رفت یا مالی لین دین کے سراغ کا قابلِ عمل مرحلے تک پہنچ جانا—اپنی جگہ ممکن ہیں۔ مگر سیاسی فضا میں ان وضاحتوں کے ساتھ ساتھ یہ تاثر بھی پنپتا ہے کہ اس وقت کی گئی کارروائی نے مرکز اور ریاست کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید نمایاں کر دیا۔

Published: undefined

ترنمول کانگریس کے لیے اصل ہتھیار بی جے پی کی وہ سوشل میڈیا پوسٹ بنی جو ای ڈی کے بیان سے پہلے سامنے آئی۔ قانونی سطح پر یہ ثابت کرنا شاید مشکل ہو کہ ای ڈی اور بی جے پی کے درمیان کوئی غیر رسمی رابطہ تھا، مگر عوامی تاثر کی سیاست میں ایسے ثبوتوں کی ضرورت بھی نہیں پڑتی۔ بنگال کی سیاست میں ’کس نے پہلے کہا‘ بذاتِ خود ایک دلیل مانا جاتا ہے۔ اگر ایجنسی کے بولنے سے پہلے سیاسی جماعت بیانیہ طے کر دے، تو عوامی ذہن میں پسِ پردہ معلومات کا تصور خود بخود جنم لیتا ہے۔

یہی وہ مقام تھا جہاں پورا تصادم ایک طے شدہ اسکرپٹ کی صورت اختیار کر گیا: ای ڈی چھاپہ مارتی ہے، بی جے پی اس کی تشریح کرتی ہے، اور ترنمول اس تشریح کو کارروائی کے اصل مقصد کا ثبوت قرار دیتی ہے۔ اس بیانیے کو مزید تقویت اس بات سے ملی کہ کارروائی کسی گمنام کارپوریٹ دفتر پر نہیں بلکہ آئی پیک کے سالٹ لیک دفتر پر ہوئی، جو وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور ترنمول کانگریس کی انتخابی حکمت عملی، ڈیٹا اور سروے کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔

Published: undefined

چھاپہ کے دن فیصلہ کن موڑ اس وقت آیا جب خود ممتا بنرجی منظر پر آئیں۔ وہ بغیر کسی پیشگی اطلاع کے پہلے آئی پیک کے ڈائریکٹر پرتیک جین کی رہائش اور پھر آئی پیک کے دفتر پہنچیں۔ وہ خاصا وقت اندر رہیں اور بعد میں ایک لیپ ٹاپ اور متعدد فائلوں کے ساتھ باہر آئیں، ان کے ساتھ پولیس اور انتظامیہ کے افسران بھی موجود تھے۔ ای ڈی کے نزدیک یہ ایک جاری تلاشی میں مداخلت تھی، جبکہ ممتا بنرجی نے اسے حفاظتی قدم قرار دیا۔

مقامی اخبارات کی زمینی رپورٹنگ کے مطابق ممتا بنرجی نے کہا کہ ای ڈی نے ان کی پارٹی کی انتخابی حکمت عملی اور اندرونی مواد ’اٹھا لیا‘ ہے، جسے انہوں نے انتخابات سے پہلے ’لوٹ‘ سے تعبیر کیا۔ ان کے مطابق حکمت عملی چرانا بذاتِ خود ایک جرم ہے۔ انہوں نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ آئی پیک کوئی نجی کنسلٹنسی نہیں بلکہ ترنمول کانگریس کی مجاز ٹیم ہے، اس لیے اس کے دستاویزات کو کسی تیسرے فریق کے عام کاغذات سمجھ کر ضبط نہیں کیا جا سکتا۔

Published: undefined

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ای ڈی نے ہارڈ ڈسک، مالی ریکارڈ، امیدواروں کی فہرستیں اور پارٹی کی منصوبہ بندی سے متعلق مواد لینے کی کوشش کی، اور اسے ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرِ ثانی جیسے اقدامات سے جوڑ کر ایک بڑے انتخابی مداخلت کے بیانیے میں ڈھال دیا۔ انہوں نے ’کاپی‘ اور ’ٹرانسفر‘ جیسے الفاظ استعمال کر کے یہ تاثر دیا کہ معلومات محض دیکھی نہیں گئیں بلکہ منتقل کی گئیں۔ پھر انہوں نے براہِ راست بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی ایجنسیاں سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہی ہیں، اور سوال اٹھایا کہ اگر یہی کارروائی بی جے پی کے دفتر پر ہوتی تو ردعمل کیا ہوتا۔

جب ممتا بنرجی روانہ ہوئیں اور ای ڈی نے بالآخر اپنا بیان جاری کیا، تب تک بحث کوئلہ اسمگلنگ یا منی لانڈرنگ سے آگے بڑھ چکی تھی۔ اب مرکزِ نگاہ انتخابی ڈیٹا، پارٹی خودمختاری اور وفاقی نظام میں تفتیشی اختیارات کا استعمال تھا۔ بی جے پی کی ابتدائی پوسٹ ترنمول کے بیانیے میں ایک علامتی ثبوت کے طور پر شامل ہو چکی تھی۔

Published: undefined

ای ڈی نے اپنے مؤقف میں کہا کہ کارروائی شواہد پر مبنی تھی، کسی پارٹی دفتر پر چھاپہ نہیں مارا گیا اور انتخابات کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ مگر مغربی بنگال کی سیاسی روایت میں دہلی کے اختیارات کو تاریخی اور وفاقی عینک سے دیکھا جاتا ہے، جہاں قانونی وضاحتیں اکثر سیاسی تشریحات کو خاموش نہیں کر پاتیں۔ ممتا بنرجی نے اسی حقیقت کو سمجھتے ہوئے ریاست گیر احتجاج کا اعلان کیا اور اس معاملے کو محض قانونی تنازعہ آگے عوامی تحریک کی شکل دے دی۔

اب ای ڈی نے کلکتہ ہائی کورٹ میں یہ الزام عائد کیا ہے کہ ممتا بنرجی نے آئینی اختیار کا غلط استعمال کرتے ہوئے تفتیشی مواد ہٹایا۔ یہ قانونی لڑائی اپنی رفتار سے آگے بڑھے گی، مگر سیاسی بیانیہ پہلے ہی عدالت سے آگے نکل چکا ہے۔ ایک چھاپہ، ایک لیک، ایک اسکرپٹ—اور پھر یہ دعویٰ کہ انتخابات اب جلسوں میں نہیں بلکہ ڈیٹا اور وفاقی دفاتر میں لڑے جا رہے ہیں۔ اس دعوے کی قانونی جانچ ادارے کریں گے، مگر سیاست میں اس کی قوت اس سادہ حقیقت سے آتی ہے کہ چند گھنٹوں کے لیے بی جے پی ای ڈی سے پہلے بولتی دکھائی دی۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined