’ٹرمپ امریکہ کو ایسی جنگ میں گھسیٹ رہے ہیں جو امریکی عوام نہیں چاہتے‘، ایران-امریکہ-اسرائیل جنگ پر کملا ہیرس کا ردعمل
ایران کے جوہری عزائم پر تشویش کا اعتراف کرتے ہوئے سابق نائب امریکی صدر کملا ہیرس نے واضح کیا کہ فوجی کشیدگی اس خطرے سے نمٹنے کا درست طریقہ نہیں ہے۔

سابق امریکی نائب صدر کملا ہیرس نے ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایران پر کیے گئے فضائی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اس اقدام کو ناقابل دفاع، لاپرواہ اور غیر ضروری قرار دیا ہے۔ ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں کملا ہیرس نے کہا کہ یہ حملے علاقائی استحکام اور امریکی قیادت پر عالمی اعتماد کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
کملا ہیرس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کو ایک ایسی جنگ میں گھسیٹ رہے ہیں جسے امریکی عوام نہیں چاہتے۔ میں واضح کرنا چاہتی ہوں: ’’میں ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے جنگ کی مخالفت کرتی ہوں، اور ہماری فوجوں کو اس جنگ کے لیے خطرے میں ڈالا جا رہا ہے جو ٹرمپ چاہتے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ یہ امریکی جانوں کے ساتھ ایک خطرناک اور غیر ضروری جُوا ہے، جو خطے کے استحکام اور دنیا میں ہماری ساکھ کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے۔ جو ہم دیکھ رہے ہیں وہ طاقت نہیں، بلکہ عزم کے پردے میں لپٹی ہوئی لاپرواہی ہے۔
ایران کے جوہری عزائم پر تشویش کا اعتراف کرتے ہوئے کملا ہیرس نے واضح کیا کہ فوجی کشیدگی اس خطرے سے نمٹنے کا درست طریقہ نہیں ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے ٹرمپ پر انتخابی مہم کے دوران بیرونی جنگوں کے خاتمے کے وعدے سے پھرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں ایران کے خطرے سے آگاہ ہوں، اور انہیں ہرگز جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے، لیکن اس خطرے کو ختم کرنے کا یہ طریقہ نہیں ہے۔
کملا ہیرس نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران ڈونالڈ ٹرمپ نے جنگیں ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا، شروع کرنے کا نہیں، یہ جھوٹ تھا۔ پھر گزشتہ سال انہوں نے کہا تھا کہ ہم نے ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ یہ بھی جھوٹ تھا۔ انہوں نے فوری قانون سازی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امریکی کانگریس سے اپیل کی کہ وہ مزید کشیدگی کو روکنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرے۔ امریکی آئین کے تحت صدر کو جنگ میں داخل ہونے کے لیے کانگریس کی منظوری درکار ہوتی ہے۔ لیکن اگر انہیں منظوری بھی حاصل ہو جاتی، تب بھی یہ اقدام غیر دانشمندانہ، غیر منصفانہ اور امریکی عوام کی حمایت سے محروم ہے۔
سابق نائب امریکی صدر نے زور دے کر کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی اس پسند کی جنگ کے خلاف ہمارے موقف میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے، اور کانگریس کو اس تنازع میں ہمیں مزید الجھنے سے روکنے کے لیے اپنی تمام دستیاب اختیارات استعمال کرنے چاہئیں۔ ہمارے فوجی، ہمارے اتحادی اور امریکی عوام اس سے کم کے مستحق نہیں ہیں۔
واضح رہے کہ امریکہ کی حمایت سے اسرائیل نے ہفتے کے روز ایران کی راجدھانی پر حملہ کیا، جس میں ملک کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ ایرانی سرکاری عہدیداران ہلاک ہو گئے۔ جہاں برطانیہ نے ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کا ساتھ دیا، وہیں ترکیے اور نائجیریا جیسے ممالک نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور فریقین سے مذاکرات کی میز پر واپس آنے کی اپیل کی۔