
مصنوعی ذہانت سے تیار علامتی تصویر
شانتی بائی پیار سے لکڑی کی چوکھٹ پر ہاتھ پھیرتی ہیں۔ فخر سے مسکراتے ہوئے وہ مٹی سے بنی اس تختی کو دیکھتی ہیں، جس پر 1999 لکھا ہے۔ یہ وہی سال ہے جب انہوں نے یہ گھر بنایا تھا۔ اب وہ اس گھر میں نہیں رہتیں، لیکن تقریباً 3 دہائیاں پہلے اپنے ہاتھوں سے محبت سے بنائے گئے اس گھر کی ان کے خاندان کی زندگی میں آج بھی خاص اہمیت ہے۔ یہ گھر اب اناج اور یادوں، دونوں کا خزانہ بنا ہوا ہے۔
60 برس کی عمر پار کر چکیں شانتی بائی نے مٹی کا گھر بنانا اپنے میکے میں بچپن کے دنوں میں سیکھا تھا۔ وہ یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’’میں مٹی گوندھنے اور دیواروں پر پلستر کرنے میں ہاتھ بٹاتی تھی۔ ہم نہ پڑھے، نہ لکھے ہیں، بس دیکھ کر ہی سیکھے ہیں۔‘‘ شانتی بائی کبھی اسکول نہیں گئیں۔ پریم سنگھ دھروے سے شادی کے تقریباً 14 سال بعد جب دونوں نے چھتیس گڑھ کے قبائل اکثریتی گاؤں بودلپانی میں اپنا گھر بنانے کا فیصلہ کیا، تب شانتی بائی کا یہی ہنر کام آیا۔ انہیں پورا یقین تھا کہ وہ دونوں مل کر روایتی گونڈ قبیلہ کے بنائے جانے والے مٹی کے گھر کو خود بنا سکتے ہیں۔
کبیردھام ضلع کی جمونپانی گرام پنچایت میں بنے اس گھر کا کوئی نقشہ کاغذ پر نہیں بنایا گیا تھا۔ شانتی بائی بتاتی ہیں کہ ’’گھر کے نقشے کے لیے ہم نے زمین میں لکڑیاں گاڑ کر کونے طے کیے، چونے سے لکیریں کھینچیں اور رسیوں سے یہ طے کیا کہ دیواریں کہاں بنیں گی۔ پھر زمین کھودی گئی اور مٹی، کودو کے پیرے (بھوسے) اور پانی کے آمیزے سے ایک فٹ موٹی دیواریں کھڑی کی گئیں۔‘‘ گھر کی تعمیر گرمیوں میں کی گئی، کیونکہ وسطی ہندوستان کی تیز گرمی میں مٹی جلد سوکھ جاتی ہے۔ اپنے ہاتھوں سے بنائی گئی بنیاد کی گہرائی دکھانے کے لیے گھٹنوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شانتی بائی کہتی ہیں کہ ’’روز چڑھا دیں 2 فٹ، سوکھ گئے تو پھر چڑھا دیں مٹی لا۔‘‘
مٹی کے گھر کے دالان میں داخل ہوتے ہوئے، جہاں ان کے بائیں طرف ایک کوٹھی بنی ہے، شانتی بائی آگے کہتی ہیں کہ ’’ہم نے صرف مزدوری کے پیسے دیے تھے۔ لکڑی ہم نے خود کاٹی، مٹی اپنی زمین سے لی اور کودو کا پیرا اپنی فصل سے ملا۔‘‘ مٹی اور بھوسے سے بنی اس کوٹھی میں اناج رکھا جاتا ہے۔ گھر کی پہلی منزل پر بھی الگ الگ سائز کی کئی کوٹھیاں بنی ہوئی ہیں۔ شانتی بائی مسکراتے ہوئے ہاتھوں سے دکھاتی ہیں کہ انہوں نے کس طرح مٹی کو شکل دے کر کوٹھی کے سامنے ’جے لکشمی ماں‘ لکھا تھا۔ ان کے گھر کی بناوٹ میں اناج رکھنے کی جگہ سب سے اہم تھی، کیونکہ خاص طور پر خشک گرمیوں کے مہینوں میں یہی خاندان کی غذائی سلامتی کو یقینی بناتی تھی۔
دیواروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شانتی کہتی ہیں کہ ’’فرش کو گوبر اور پانی سے لیپتے ہیں اور دیواروں پر چونا یا چونے والی مٹی پوتتے ہیں۔‘‘ یہ مٹی کے گھروں کی سالانہ دیکھ بھال کا حصہ ہے، جس سے دیواروں اور فرش پر دراڑیں یا کھردرا پن نہیں آتا۔ جب وہ سب اس گھر میں ساتھ رہتے تھے، تب وہ اور ان کی بہوئیں مل کر یہ کام باقاعدگی سے کرتی تھیں۔ گھر کی چھت کھپریل (مٹی کی ٹائلوں) سے بنی ہے۔ شانتی بائی بتاتی ہیں کہ ’’ہم نے لکڑی کے سانچے میں کھپریل بنائی اور یہیں بھٹے میں پکائی تھی۔‘‘ وہ آگے کہتی ہیں کہ ’’بانس کے ڈھانچے پر ان کھپریلوں کو ٹھیک سے جمانا اپنے آپ میں ایک فن ہے۔ اب بہت کم لوگوں کے پاس یہ ہنر بچا ہے۔‘‘ آخری بار یہ کام 4 سال پہلے ہوا تھا۔ آج ٹوٹی ہوئی کھپریلوں کی دراڑوں سے چھن کر آنے والی دھوپ دیواروں پر مختلف شکلیں بناتی ہے۔ اسی وقت چھت سے مسلسل آنے والی ’کچ کچ‘ کی آواز سناٹا توڑتی ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ ساگون کی لکڑی میں دیمک لگ چکی ہے۔
آہستہ آہستہ خستہ حال ہونے کے باوجود، ایسے کئی پرانے مٹی کے گھر آج بھی رہنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، خاص طور پر گرمیوں میں، کیونکہ وہ قدرتی طور پر ٹھنڈے رہتے ہیں۔ صرف درجۂ حرارت ہی نہیں، بلکہ کھانا پکانے کے لیے بھی لوگ انہیں زیادہ پسند کرتے ہیں، کیونکہ کم ہوا والے پختہ گھروں میں لکڑی کا چولہا جلانا مشکل ہوتا ہے۔ شانتی بائی کہتی ہیں کہ ’’اب وہ پختہ گھر میں تو کھانا نہیں بن سکے، لکڑی نہیں جل سکے۔‘‘ وہ آج بھی پرانے مٹی کے گھر میں رہنا اور وہیں کھانا بنانا زیادہ پسند کرتی ہیں۔ مٹی کے گھر کی باریک سوراخ دار دیواریں اور چھت چولہے پر کھانا پکانے کے لیے اسے موزوں بناتی ہیں۔ کچے گھر کی مٹی کی موٹی دیواریں پکے گھروں کے مقابلے میں درجۂ حرارت کو بہتر طریقے سے متوازن رکھتی ہیں۔ شانتی بائی کہتی ہیں کہ ’’گرمی میں بھی دقت ہووے اس میں۔ جیسی ویوستھا ہے، سب اپنے حساب سے رکھتے ہی ہیں مٹی کا گھر۔‘‘ وہ آگے کہتی ہیں کہ ’’مٹی کا گھر گرمیوں میں ٹھنڈا اور سردیوں میں گرم رہتا ہے۔ اس میں کولر یا پنکھے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔‘‘
اپنے روایتی گھر کی یاد کو سنبھالے رکھنے کے لیے اس جوڑے نے نئے گھر میں بھی اس کے کچھ حصوں کو اپنایا ہے۔ اس گھر کا درمیانی فرش لکڑی سے بنا ہے، جس پر مٹی، چونے اور گوبر سے پلستر کیا گیا ہے۔ اس فرش کو ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ شانتی بائی یہاں ایک نئی کوٹھی بنا رہی ہیں، تاکہ پرانے گھر کا اناج اس میں رکھا جا سکے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’10 سال تک اناج رکھ دیں گے، کچھ نہیں ہوگا۔‘‘
بودلپانی گاؤں چھتیس گڑھ کی میکل پہاڑیوں کے درمیان واقع ہے۔ یہ مدھیہ پردیش کی سرحد کے قریب، بھورم دیو جنگلی حیات محفوظ گاہ کے نزدیک واقع ہے۔ یہاں کے بیشتر باشندے گونڈ یا بیگا (خصوصی طور پر حساس قبائلی گروہ) ہیں۔ تقریباً 150 خاندانوں والے اس گاؤں میں روایتی مٹی کے گھر اور جدید پکے گھر، دونوں طرح کے مکانات ہیں۔ پردھان منتری آواس یوجنا-دیہی (پی ایم اے وائی-جی) اور ’پی ایم-جنمن یوجنا‘ کے تحت خصوصی طور پر حساس قبائلی گروہوں (پی وی ٹی جی) کے لیے کیے گئے انتظامات کی وجہ سے کئی خاندانوں نے پکے مکانات بنوائے ہیں، خاص طور پر وہ جن کے پاس کافی زمین ہے۔
پریم سنگھ اور شانتی بائی کے پاس یہاں تقریباً 5.5 ایکڑ زرعی زمین ہے، جس میں سے ڈیڑھ ایکڑ شانتی بائی کے نام ہے۔ دھان، موٹے اناج، ارہر، مکئی اور سبزیوں کی کاشت کر کے خاندان نے برسوں میں اتنی بچت کر لی کہ وہ ایک پختہ گھر بنا سکے۔ یہ گھر 2021 میں تقریباً 10 لاکھ روپے کے خرچ سے بنا، جبکہ پرانے مٹی کے گھر کو بنانے میں انہیں 50 ہزار روپے سے کچھ زیادہ خرچ آیا۔ شانتی بائی پرانے مٹی کے گھر کے برآمدے میں بیٹھ کر اپنی پوتی کے بالوں میں بادام کا تیل لگا رہی ہیں۔ اطمینان بھرے اس ماحول کے درمیان شانتی بائی کی آواز میں اچانک ناراضگی جھلکنے لگی۔ اپنے بڑے بیٹے کیدارناتھ کا ذکر کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ ’’کا بولبے ہم؟ اپنا زمین، اپنا مرضی۔‘‘
جب دونوں بیٹوں کے درمیان جائیداد کی تقسیم ہوئی، تو پرانا مٹی کا گھر کیدارناتھ کے حصے میں آیا۔ اس نے اپنا نیا پختہ گھر بنانے کے لیے پرانے گھر کا ایک حصہ گرا دیا۔ اس بات سے دکھی ہو کر شانتی بائی اور ان کے شوہر اپنے چھوٹے بیٹے تویندرم کے ساتھ رہنے لگے۔ تویندرم ہنستے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’کیا کریں؟ اب تو ہر کوئی پختہ گھر ہی بناتا ہے۔‘‘ لیکن ان کا ماننا ہے کہ ایسے گھر زیادہ پائیدار نہیں ہوتے۔ وہ کہتے ہیں ’’یہ 50 سال میں خستہ حال ہو جائے گا۔‘‘ ان کے مطابق ایک مٹی کا گھر 100 سال تک بھی قائم رہ سکتا ہے۔
تویندرم بتاتے ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ مٹی کے گھروں کی دیکھ بھال میں کافی محنت اور وقت لگتا ہے۔ چھت کی لکڑی میں دیمک لگ جائے یا بارش میں کھپریل ٹوٹ جائے، تو اس کی مرمت اور تبدیلی میں کافی کام کرنا پڑتا ہے۔ تویندرم، جو 38 سال کے ہیں اور دھان کی کاشت کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ ’’لکڑی کی سمسیا ہے آج کل۔‘‘ ان کا اشارہ جنگل سے ملنے والی لکڑی اور دیگر جنگلاتی پیداوار پر حالیہ برسوں میں لگائی گئی پابندیوں کی طرف ہے۔
شانتی بائی کہتی ہیں کہ ’’بہت سی چیزیں بدل گئی ہیں۔ جیسے کہ ہم کیسے گھر بناتے ہیں، کیا اگاتے ہیں، کیا کھاتے ہیں اور جنگل سے کیا ملتا ہے۔‘‘ وہ آگے کہتی ہیں کہ ’’اب ہم کودو-کٹکی نہیں اگاتے، کیونکہ اس کا اچھا دام نہیں ملتا۔ ہم دھان اگاتے ہیں، کیونکہ سرکار وہی خریدتی ہے۔ پھر مٹی کا پورا گھر بنانے کے لیے کودو کا پیرا کہاں سے آئے گا؟ یہ سب جڑے ہن۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔