
یو این او انسانی حقوق کونسل / تصویر: آئی اے این ایس
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل اپنے قیام کی بیسویں سالگرہ ایک ایسے تشویشناک عالمی تناظر میں منا رہی ہے جہاں بین الاقوامی قانون اور انسانی وقار کے بنیادی اصول شدید "یلغار" کی زد میں ہیں۔ ایک ایسی دنیا میں جہاں طاقت کا توازن بدل رہا ہے اور کثیر الجہتی کو کمزور کیا جا رہا ہے، یہ سنگ میل محض ایک تقریب نہیں بلکہ ایک تزویراتی جائزے کا متقاضی ہے۔ انسانی حقوق کی نو منتخب ڈپٹی ہائی کمشنر، آوا ڈابو نے اس موقع کی اہمیت کو ان الفاظ میں واضح کیا ہے: "انسانی حقوق ایسے ہی لمحات کے لیے وضع کیے گئے تھے جب حقوق دباؤ کا شکار ہوں، جب لوگوں کو تحفظ کی ضرورت ہو اور جب اصولوں کو عملی اقدامات میں بدلنا ناگزیر ہو جائے۔" کونسل کا یہ سفر، جو 2006 میں پرانے 'کمیشن آن ہیومن رائٹس' کی جگہ لینے سے شروع ہوا، عالمی سطح پر احتساب اور انصاف کی فراہمی کی ایک مسلسل جدوجہد کی عکاسی کرتا ہے۔
Published: undefined
کمیشن سے کونسل تک کا ادارہ جاتی ارتقاء
سال 2006 میں انسانی حقوق کے عالمی ڈھانچے میں لائی گئی تبدیلی ایک "تزویراتی تغیر" کی حیثیت رکھتی تھی۔ پرانا کمیشن اپنی سیاسی جانبداری اور غیر موثر ساخت کی وجہ سے اپنی ساکھ کھو چکا تھا۔ 19 جون 2006 کو اس وقت کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے 47 رکن ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ اس نئے فورم کو "سیاسی پوائنٹ اسکورنگ یا معمولی جوڑ توڑ" سے پاک رکھیں۔ کونسل کے پہلے صدر، لوئس الفونسو ڈی البا گونگورا، ان مشکل ایام کی یاد دہانی کرواتے ہیں جب اس ادارے کی بنیاد رکھی جا رہی تھی۔ ان کے بقول، رکن ممالک کے درمیان اس بات پر شدید اختلافات تھے کہ پرانے نظام کی کن خصوصیات کو برقرار رکھا جائے اور کن کو حذف کیا جائے۔ اس وقت کے عالمی بحران، بالخصوص غزہ اور لبنان کے تنازعات، نے اس تزویراتی تعمیر کو مزید پیچیدہ بنا دیا تھا۔
تزویراتی تجزیہ اور اثرات :کونسل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ایک "ذیلی ادارے" کا درجہ دینا محض ایک انتظامی تبدیلی نہیں تھی، بلکہ اس نے کونسل کو اپنے پیشرو کے مقابلے میں کہیں زیادہ عالمی اتھارٹی اور سیاسی وزن عطا کیا۔ اس حیثیت نے کونسل کو براہِ راست جنرل اسمبلی سے جوڑ دیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ انسانی حقوق کی پامالیاں اب عالمی سفارت کاری کے سب سے بڑے فورم پر براہِ راست زیرِ بحث آتی ہیں۔ یہ ڈھانچہ جاتی تبدیلی ہی ہے جو آج عالمی سطح پر مظلوموں کی آواز کو ریاستوں کی خود مختاری کے پردوں سے نکال کر عالمی فورم پر لانے کا باعث بنتی ہے۔
Published: undefined
کمزور اور پسماندہ طبقات کا تحفظ اور جوابدہی
انسانی حقوق کونسل کا سب سے نمایاں پہلو اس کا وہ پلیٹ فارم ہے جہاں پسماندہ طبقات کی آواز کو سنا جاتا ہے۔ ہائی کمشنر وولکر ترک کے مطابق، کونسل نے مقامی باشندوں، بچوں، نوجوانوں اور بدترین مظالم کا شکار ہونے والے بچ جانے والے افراد (سروائور) کے لیے ایک منفرد اور ناگزیر جگہ بنائی ہے۔ یہ فورم سول سوسائٹی کے ان کارکنوں کے لیے بھی ایک ڈھال ہے جو اپنی ریاستوں کے اندر قید اور جبر کا سامنا کرتے ہیں۔ جنیوا میں ہونے والی بحثیں محض الفاظ نہیں بلکہ عالمی ضمیر کی آواز ہیں۔ تاہم، یہاں بات کرنے والے کارکنوں کو اکثر "مہلک انتقامی کارروائیوں" کا خطرہ رہتا ہے، جس سے اس فورم کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔
کونسل کی جوابدہی (اکاؤنٹیبلیٹی) کئی میکانزم کے ذریعےکی جاتی ہے۔ عالمی متواتر جائزے؛ جنیوا اجلاس اور مخصوص قراردادیں؛ آزاد تفتیش کاروں کا نیٹ ورک اورکونسل کے خصوصی نمائندے اس میں شامل ہیں جو عالمی بحرانوں کا گہرا تجزیہ (کیس اسٹڈیز) کرتے ہیں اور دنیا بھر کے لیے ایک "کھڑکی" کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ غیر تنخواہ دار اور آزاد ماہرین ہوتے ہیں جو ان حقائق کو منظرِ عام پر لاتے ہیں جنہیں حکومتیں چھپانے کی کوشش کرتی ہیں۔
Published: undefined
نومبر 2025 تک، کونسل کے پاس 46 موضوعاتی اور 13 ملکی مینڈیٹ موجود ہیں۔ ذیل میں تین اہم کیس اسٹڈیز اس تزویراتی کام کی گہرائی کو ظاہر کرتی ہیں:
افغانستان: خواتین کے حقوق کی منظم پامالی جاری رکھتے ہوئے اپریل 2026 میں طالبان کی وزارتِ انصاف نے "علیحدگیِ زوجین" حکمنامہ جاری کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس حکمنامے میں شامل "بلوغت کی شق" درحقیقت بچوں کی شادیوں کو قانونی جواز فراہم کرتی ہے۔ یہ قانون خواتین کے لیے تشدد آمیز تعلقات سے نکلنے کے تمام راستے بند کر دیتا ہے اور انہیں برسوں تک جسمانی، نفسیاتی اور معاشی استحصال کا قیدی بنا دیتا ہے۔
نکاراگوا: سیاسی جبر اور صنفی تشدد کا گٹھ جوڑ ۔ نکاراگوا میں حکومت نے صنفی تشدد کو سیاسی مخالفت کچلنے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔ ایریلا پیرالٹا ڈیسٹیفانو کی رپورٹ کے مطابق، 2018 سے جاری اس مہم کا مقصد خواتین کی سیاسی شرکت کو ختم کرنا ہے۔ اگرچہ حکومت صنفی برابری کا دعویٰ کرتی ہے، لیکن حقیقت میں وہاں خواتین عہدیداروں کو محض احکامات کی تعمیل کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ اختلافی آوازوں کو بدترین صنفی امتیاز کے ذریعے خاموش کیا جاتا ہے۔
Published: undefined
ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور آزادیِ اظہار کا بحران : خصوصی نمائندہ آئرین خان نے خبردار کیا ہے کہ ہم "میڈیا کے صحراؤں" کے دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ یہاں طاقت کا ایک خطرناک عدم توازن پایا جاتا ہے۔ ایک واحد ٹیک کمپنی کی آمدنی دنیا کے 130 ممالک کی مجموعی جی ڈی پی سے بھی زیادہ ہے، جو انہیں ریاستوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقتور بناتی ہے۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے کمزور فریم ورک اور "ٹیک اولیگارکس" کے منافع بخش ایجنڈوں نے خواتین اور اقلیتوں کے خلاف آن لائن نفرت کو ایک ہتھیار بنا دیا ہے، جس سے جمہوری مکالمے کی جگہ سکڑتی جا رہی ہے۔
تجزیاتی اہمیت: یہ رپورٹیں تجریدی خلاف ورزیوں کو ٹھوس عالمی شواہد میں تبدیل کرتی ہیں۔ جب ایک آزاد ماہر کسی بحران پر رپورٹ پیش کرتا ہے، تو وہ اسے عالمی سفارت کاری کے ایجنڈے پر لاتا ہے، جس سے مستقبل میں بین الاقوامی عدالتوں میں قانونی چارہ جوئی کی بنیاد فراہم ہوتی ہے۔
Published: undefined
مالی بحران اور سیاسی اثر و رسوخ کی آمیزش
اپنے بیس سالہ سفر کے باوجود، کونسل کو ایک "وجود کے خطرے" کا سامنا ہے، جو اقوام متحدہ کا مجموعی مالیاتی بحران ہے۔ فنڈز کی کمی کی وجہ سے کونسل کے آپریشنز کو "ریشنلائز" کرنے پر مجبور کیا گیا ہے؛ مندوبین کے بولنے کا وقت کم کر دیا گیا ہے اور ترجمے کی سہولیات میں کٹوتی کی گئی ہے۔یہ مالی بحران محض انتظامی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ کونسل کو سیاسی طور پر مزید کمزور کر دیتا ہے۔ جب فنڈز کم ہوتے ہیں، تو کونسل ان طاقتور ریاستوں کے اثر و رسوخ کے سامنے زیادہ غیر محفوظ ہو جاتی ہے جو سیاسی سرمایہ رکھتی ہیں۔
سال 2025 میں جب امریکہ نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ، فرانچسکا البانیز پر پابندیاں عائد کیں، تو اس سے یہ واضح ہوا کہ آزاد ماہرین کو کس طرح سیاسی دباؤ کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یوکرین اور اسرائیل جیسے معاملات پر ووٹنگ کے دوران پائے جانے والے شدید اختلافات اس ادارے کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھاتے ہیں، لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ مالی اور سیاسی حملوں کے باوجود یہ فورم "ناگزیر"ہے۔
Published: undefined
مشترکہ عالمی عزم کی ضرورت
انسانی حقوق کونسل کا بیس سالہ ریکارڈ ثابت کرتا ہے کہ آج کی تقسیم شدہ دنیا میں ایک مشترکہ پلیٹ فارم کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ گریم ریڈ اور آئرین خان جیسے ماہرین نے ریاستوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ صرف بیانات تک محدود نہ رہیں بلکہ "ڈیٹا کے خلا" (ڈیٹا گیپ) کو پر کرنے اور اپنی ذمہ داریوں کو عملی طور پر نبھانے کے لیے تعاون کریں۔
مستقبل کا لائحہ عمل یہ ہونا چاہیے کہ کونسل کو محض ایک سفارتی اکھاڑہ نہیں، بلکہ انسانیت کے وقار کا ضامن بنایا جائے۔ یہ ادارہ بین الاقوامی برادری کے اس "تجدید شدہ عزم" کا مظہر ہے کہ طاقتور کا احتساب اور مظلوم کی داد رسی عالمی ایجنڈے کا حصہ رہے گی۔ اگرچہ مالی اور سیاسی رکاوٹیں حائل ہیں، لیکن کونسل کا استحکام آنے والی نسلوں کے تحفظ اور عالمی امن کے لیے ناگزیر ہے۔ یہ فورم اس امید کا نشان ہے کہ جہاں کہیں بھی انسانی حقوق پر حملہ ہوگا، وہاں عالمی ضمیر خاموش نہیں رہے گا۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined