
علامتی تصویر / اے آئی
جب الیکشن کمیشن نے 2023 میں خاموشی کے ساتھ فارم 7 سے متعلق قواعد میں تبدیلی کی، تو شاید ہی کسی نے اس پر توجہ دی۔ فارم 7 وہ طریقۂ کار ہے جس کے تحت کوئی ووٹر کسی دوسرے شخص کے ووٹر لسٹ میں اندراج پر اعتراض کر سکتا ہے اور اس کا نام حذف کرانے کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔
پہلے یہ حق صرف اسی پولنگ اسٹیشن کے کسی پڑوسی یا رجسٹرڈ ووٹر کو حاصل تھا۔ لیکن 2023 میں قواعد بدل دیے گئے۔ نئے ضابطے کے مطابق اب کسی بھی اسمبلی حلقے کے کسی بھی بوتھ کا کوئی بھی رجسٹرڈ ووٹر فارم 7 جمع کرا سکتا ہے۔ مزید یہ کہ اب ایک شخص کو لامحدود تعداد میں فارم 7 داخل کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ ان دونوں تبدیلیوں کو کسی جانب سے چیلنج نہیں کیا گیا اور یہ 2023 کے اواخر سے نافذ العمل ہیں۔
Published: undefined
آسام میں جاری خصوصی نظرثانی (ایس آر) اور 12 ریاستوں و مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) سے یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ زیادہ تر اعتراضات کا نشانہ مسلمان، دلت اور قبائلی ووٹر بنے ہیں۔ کئی معاملات میں تو سادہ لوح مسلم ووٹروں کے نام اور ای پی آئی سی نمبروں کا غلط استعمال کرتے ہوئے اعتراضات درج کرائے گئے۔
29 جنوری کو کانگریس کے تنظیمی سکریٹری کے سی وینوگوپال نے الیکشن کمیشن کی توجہ اس جانب دلائی کہ بی جے پی بڑے پیمانے پر فارم 7 کا غلط استعمال کر رہی ہے، جس کا مقصد اپوزیشن کی حمایت کرنے والے ’مشکوک ووٹروں‘ کو ووٹر لسٹ سے خارج کرنا ہے۔ ان کے مطابق یہ عمل منظم، منصوبہ بند اور وسیع پیمانے پر کیا جا رہا ہے، جس میں خاص طور پر انتخابی ریاستوں میں پارٹی کارکنوں کو لگایا گیا ہے۔ اس مبینہ دھوکہ دہی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ جن ووٹروں کے نام پر اعتراض کیا جاتا ہے، انہیں نوٹس ہی نہ مل پائیں۔
Published: undefined
وینوگوپال کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ کسی ایک ریاست یا علاقے تک محدود نہیں۔ کیرالہ، گجرات، راجستھان، اتر پردیش، مغربی بنگال، چھتیس گڑھ اور آسام سے آنے والی رپورٹیں ایک ہی طرز کا اشارہ دیتی ہیں۔ ہر جگہ بڑی تعداد میں فارم 7 چھاپے جا رہے ہیں، جن میں غیر واضح نام، مشتبہ دستخط، غلط فون نمبر اور دوسرے ووٹروں کے ای پی آئی سی نمبروں کا استعمال ہو رہا ہے۔
گجرات کے جوناگڑھ میں لوک فنکار حاجی رام کڈو کو یومِ جمہوریہ پر پدم شری سے نوازا گیا۔ وہ گزشتہ 70 برسوں سے ایک ہی گھر میں مقیم ہیں اور ریاست بھر میں معروف ہیں۔ اس کے باوجود بی جے پی کے ایک کونسلر نے ایوارڈ کے اعلان سے سات دن قبل ان کے نام پر فارم 7 کے ذریعے اعتراض درج کرا دیا۔
Published: undefined
جب یہ خبر پھیلی اور عوامی غصہ بڑھنے لگا تو منوار نے بے شرمی سے یہ مؤقف اختیار کیا کہ فنکار کے آدھار کارڈ پر ان کا نام میر حاجی قاسم درج تھا، جبکہ ای پی آئی سی (ووٹر شناختی کارڈ) میں ان کا نام حاجی راٹھوڑ لکھا ہوا ہے۔ سرکاری دستاویزات میں پائی جانے والی ایسی معمولی مگر عام نوعیت کی بے قاعدگیوں کو اب ایک آلہ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر شادی شدہ خواتین کے لیے اپنے نام میں ہونے والی تبدیلیوں کی وضاحت کرنا نہایت مشکل ہو جاتا ہے۔ مغربی بنگال میں بھی اسی بنیاد پر اعتراضات اٹھائے گئے، جب سلمیٰ سردار اور سعیدہ مولا کے نام بدل کر سلمیٰ نسکر اور سعیدہ نسکر درج کیے گئے۔
راجستھان کے ہوا محل حلقے میں، جہاں 2023 میں بی جے پی محض 974 ووٹوں سے جیتی تھی، الزام ہے کہ پارٹی عہدیداروں نے بوتھ لیول افسران پر مسلم ووٹروں کے نام حذف کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔ ایک ویڈیو میں ایک بی ایل او یہ کہتے سنے گئے کہ وہ ایسا کرنے کے بجائے جان دے دینا بہتر سمجھیں گے۔
Published: undefined
مدھیہ پردیش میں کانگریس نے الزام عائد کیا ہے کہ بھِنڈ، سنگرولی اور سیہور میں بی جے پی کارکنان کی جانب سے بوتھ بہ بوتھ اعتراضات کے ساتھ سیکڑوں فارم جمع کرائے جا رہے ہیں۔ مغربی بنگال میں، ترنمول کانگریس نے اطلاع دی کہ بی جے پی کارکنوں کے ذریعے لے جائے جا رہے فارم 7 کی ہزاروں کاپیوں سے بھری ایک گاڑی پکڑی گئی، جس کی ویڈیو بھی جاری کی گئی۔ مرشدآباد میں، بی جے پی حامیوں کی جانب سے بڑی تعداد میں فارم 7 درخواستیں جمع کرانے کی کوشش کے بعد جھڑپیں بھی ہوئیں۔
الیکشن کمیشن کا موقف ہے کہ محض فارم 7 جمع کرانے سے کسی ووٹر کا نام خود بخود فہرست سے حذف نہیں ہوتا۔ جھوٹے یا فریب پر مبنی اعتراضات درج کرانا قابلِ سزا جرم ہے، اور جن ووٹروں کے نام اس طرح حذف کیے جاتے ہیں، وہ قانونی چارہ جوئی کا حق رکھتے ہیں۔
Published: undefined
تاہم حقیقت یہ ہے کہ آسام میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ محض تشویش ناک نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ سنگین ہے، کیونکہ وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما نے ’میاں لوگوں‘ کے خلاف مہم چھیڑ رکھی ہے—یہ اصطلاح بنگلہ دیشی مسلمانوں کے لیے تحقیر آمیز انداز میں استعمال کی جاتی ہے۔
سرما اس سے قبل بھی کھلے عام یہ کہنے سے نہیں جھجکے کہ، ’’ہاں، ہم کچھ ’میاں ووٹ‘ چرانے کی کوشش کر رہے ہیں… ہم نے ایسی ترتیب بنا دی ہے کہ وہ آسام میں ووٹ نہ دے سکیں… جب آسام میں خصوصی گہری نظرثانی ہوگی تو چار سے پانچ لاکھ میاں ووٹ کاٹے جائیں گے۔‘‘
Published: undefined
شری بھومی (سابقہ کریم گنج) ضلع کی بوتھ لیول افسر سمونا رحمان چودھری اور 14 دیگر پولنگ افسران کو 19 جنوری کو ایک تربیتی نشست کے لیے طلب کیا گیا۔ جب سمونا وہاں پہنچیں تو افسران نے انہیں اعتراضاتی درخواستوں (فارم 7) کا ایک بنڈل تھما دیا، جس میں ان کے بوتھ کے 133 ووٹروں کے اندراج پر اعتراض کیا گیا تھا۔ کچھ تفصیلات پہلے سے چھپی ہوئی تھیں جبکہ کچھ ہاتھ سے درج کی گئی تھیں۔
یہ تمام 133 اعتراضات ایک ہی شخص کی جانب سے داخل کیے گئے تھے، جس نے دعویٰ کیا تھا کہ کریم گنج شمالی اسمبلی حلقے کے شری منت کنش لائی گاؤں میں چودھری کے بوتھ کے یہ تمام ووٹر (جو سب کے سب مسلمان تھے) یا تو وفات پا چکے ہیں، مستقل طور پر کہیں اور منتقل ہو گئے ہیں یا ایک سے زیادہ مرتبہ رجسٹرڈ ہیں۔ ایک سرکاری اسکول میں تدریس انجام دینے والی سمونا ان ووٹروں سے ذاتی طور پر واقف ہیں۔
Published: undefined
فون پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’جب میں مردم شماری کے دوران ان کے گھروں پر گئی تو وہ سب موجود تھے۔ میں نے خود ان سے فارم بھروائے اور ان کے دستخط لیے۔ نام حذف کرنے کی فہرست میں میرے ہی پرنسپل کا نام بھی شامل تھا، جنہیں میں روزانہ رپورٹ کرتی ہوں۔ اس میں میرے طلبہ کے والدین بھی تھے، جنہیں میں ذاتی طور پر جانتی ہوں۔ میں انہیں سماعت کے لیے کیسے بلاتی؟ کس بنیاد پر؟ اگر وہ میرے خلاف ایف آئی آر درج کرا دیتے تو کیا ہوتا؟‘‘
تربیتی نشست میں اسی طرح کے حالات کا سامنا کرنے والی چودھری اور چار دیگر بی ایل اوز نے افسران کو صاف لفظوں میں بتا دیا کہ انہیں ووٹروں کو نوٹس بھیجنے اور سماعت کے لیے بلانے کی کوئی معقول ضرورت نظر نہیں آتی، نام حذف کرنے کی تو بات ہی الگ ہے۔ انہوں نے تمام اعتراضات کو مسترد کر دیا، کیونکہ انہیں علم تھا کہ وہ سب جعلی تھے۔
Published: undefined
لیکن ’طریقۂ کار‘ پر عمل سے انکار افسران کو گوارا نہ ہوا۔ جعلی فارم 7 جمع کرانے سے متعلق ان کے بیانات سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد، 123-کریم گنج شمالی اسمبلی حلقے کے انتخابی افسر نے 22 جنوری کو پانچوں افسران کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کر دیا۔
ان پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے میڈیا سے غیر مجاز گفتگو کی اور اعتراضات و ووٹر لسٹ سے نام حذف کیے جانے کے معاملات پر عوامی بیانات دیے۔ نوٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ان کے سوشل میڈیا ویڈیوز میں ’اصل قانونی اور طریقۂ کار سے متعلق صورتِ حال کی درست اور مکمل عکاسی نہیں کی گئی‘، خاص طور پر اس نکتے کو نظرانداز کیا گیا ہے کہ تمام دعوؤں اور اعتراضات پر قانون کے مطابق سختی سے عمل کیا جاتا ہے اور مناسب تصدیق اور مقررہ قانونی عمل مکمل کیے بغیر کسی ووٹر کے اندراج میں حذف یا ترمیم نہیں کی جاتی۔
Published: undefined
حیران کن بات یہ ہے کہ یہ تمام 133 فارم سلیم احمد کے نام اور ای پی آئی سی نمبر کے ذریعے جمع کرائے گئے تھے، جنہیں اپنے نام سے درج ان اعتراضات کے بارے میں کسی قسم کی کوئی اطلاع نہیں تھی۔ سلیم احمد نے بتایا، ’’میں بے روزگار ہوں اور مجھے اس سارے معاملے کی کوئی خبر نہیں۔ بی ایل او اور دوسرے لوگوں سے معلوم ہوا کہ میرے نام اور ای پی آئی سی نمبر کا استعمال ووٹروں کے نام حذف کرانے کے لیے کیا گیا ہے۔”
انہوں نے طنزیہ انداز میں مزید کہا، ’’ان 133 ناموں میں میرا نام بھی ایک مردہ ووٹر کے طور پر شامل ہے۔‘‘ سلیم احمد نے شری بھومی ضلع کے ڈپٹی کمشنر کے سامنے ایک حلف نامہ بھی داخل کیا ہے، جس میں اجتماعی طور پر نام حذف کرانے کے لیے ان کے نام کے غلط استعمال پر اعتراض درج کرایا گیا ہے۔
Published: undefined
ترنمول کانگریس کی راجیہ سبھا رکن اور قومی ترجمان سشمتا دیو سوال اٹھاتی ہیں، ’’اگر ہمنتا بسوا سرما کو انتخاب جیتنے کا اتنا ہی یقین ہے، تو پھر انہیں جعلی اعتراضات کے ذریعے مسلم ووٹروں کو حذف کرنے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟”
انہوں نے مزید کہا، ’’حلقہ بندی کے ذریعے اور مسلمانوں کو بے دخل کر کے مسلم ووٹروں کو 22 حلقوں تک محدود کرنے کا کام وہ پہلے ہی کر چکے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ وہ ان نشستوں پر کامیاب نہیں ہو سکتے، لیکن ان کا اصل مقصد تو ریاست کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر بانٹنا ہے!‘‘
تو کیا آسام میں بدعنوانی اور ناقص کارکردگی کے الزامات میں گھری بی جے پی آنے والے اسمبلی انتخابات میں کامیابی کے لیے ’فیک‘ ووٹر لسٹوں پر انحصار کر رہی ہے؟ یہ محض اتفاق نہیں ہو سکتا کہ آسام میں ووٹر لسٹ کا مسودہ 27 دسمبر کو شائع ہوا اور اس کے فوراً بعد فارم 7 کے ذریعے اعتراضات کا سیلاب آ گیا۔
Published: undefined
گڑبڑی کے اندیشے کو مزید تقویت دینے والی ایک اور عرضی بورکھولا اسمبلی حلقے کے 22 رہائشیوں (تمام مسلمان) کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس میں موہن لال داس کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ کاچار کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے نام دی گئی اس عرضی میں داس پر دھوکہ دہی کے ذریعے اعتراضات درج کرانے اور جھوٹا دعویٰ کرنے کا الزام لگایا گیا ہے کہ ان رہائشیوں نے خود اپنے نام ووٹر لسٹ سے حذف کرنے کی درخواست دی تھی۔
23 جنوری کو چیف الیکشن کمشنر کو لکھے گئے خط میں سشمتا دیو نے کئی اسمبلی حلقوں میں غیر معمولی طور پر زیادہ تعداد میں درج اعتراضات کی نشاندہی کی، 118-سلچر میں تقریباً 15,304، 116-کٹیگوراہ میں 9,671، 50-منگل دوئی میں 8,602،
30-جھاجھو-سوالکوچی میں 10,151 اور 38-برکھیتری میں 10,249 اعتراضات۔
انہوں نے لکھا، ’’ہر ووٹر کو نوٹس دینا اور 11 دن کے اندر سماعت مکمل کرنا ایک ناممکن کام ہے، جس کے نتیجے میں حقیقی ووٹر مؤثر سماعت سے محروم رہ جائیں گے اور بالآخر ان کے جمہوری حق کی خلاف ورزی ہوگی۔‘‘
(مضمون نگار سوربھ سین، کولکاتا کے ایک آزاد مصنف ہیں)
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined