ایچ ڈی ایف سی بینک کو بڑا جھٹکا، چیئرمین اتنو چکرورتی مستعفی، حصص میں تیز گراوٹ
ایچ ڈی ایف سی بینک کے چیئرمین اتنو چکرورتی کے اچانک استعفے کے بعد حصص میں 8 فیصد تک گراوٹ دیکھی گئی۔ بینک نے کیکی مستری کو عبوری چیئرمین مقرر کیا، جبکہ سرمایہ کاروں میں غیر یقینی بڑھ گئی ہے

ہندوستان کے سب سے بڑے نجی بینکوں میں شمار ہونے والے ایچ ڈی ایف سی بینک کو ایک بڑے دھچکے کا سامنا کرنا پڑا ہے، جہاں چیئرمین اتنو چکرورتی نے اچانک اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ بینک کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ استعفیٰ 18 مارچ سے مؤثر ہو چکا ہے۔ اس غیر متوقع فیصلے نے نہ صرف بینک کے اندر قیادت کے حوالے سے سوالات کھڑے کر دیے ہیں بلکہ اسٹاک مارکیٹ میں بھی اس کے فوری اثرات دیکھنے کو ملے۔
استعفے کے فوراً بعد ایچ ڈی ایف سی بینک کے حصص میں نمایاں گراوٹ درج کی گئی۔ ابتدائی کاروبار کے دوران شیئر کی قیمت 8 فیصد سے زیادہ گر کر 772 روپے تک پہنچ گئی، جو 52 ہفتوں کی کم ترین سطح ہے۔ اس کے علاوہ بینک کے امریکی حصص میں بھی تقریباً 3 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی سرمایہ کار بھی اس پیش رفت سے مطمئن نہیں ہیں۔
اتنو چکرورتی نے اپنے استعفے میں “اخلاقی وجوہات” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران بینک کے اندر کچھ ایسی طریقۂ کار سامنے آئے جو ان کی ذاتی اقدار اور اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ ان کے مطابق اسی بنیاد پر انہوں نے عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ بینک نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ استعفے کی وجہ وہی ہے جس کا ذکر چکرورتی نے اپنے خط میں کیا۔
اس اچانک پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد بینک نے فوری طور پر قیادت کے خلا کو پُر کرنے کی کوشش کی ہے۔ کیکی مستری کو 19 مارچ سے تین ماہ کے لیے عبوری پارٹ ٹائم چیئرمین مقرر کیا گیا ہے، جس کی منظوری ریزرو بینک آف انڈیا نے بھی دے دی ہے۔ یہ قدم بینک کے انتظامی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے اہم مانا جا رہا ہے۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اتنو چکرورتی 2021 میں بینک کے بورڈ میں شامل ہوئے تھے اور ان کے دور میں ایچ ڈی ایف سی بینک اور ایچ ڈی ایف سی لمیٹڈ کا تاریخی انضمام مکمل ہوا۔
مالی لحاظ سے بھی بینک کی حالیہ کارکردگی مضبوط رہی ہے، جہاں تیسری سہ ماہی میں منافع 11.5 فیصد بڑھ کر 18,654 کروڑ روپے تک پہنچ گیا، جبکہ خالص سودی آمدنی میں بھی 6.4 فیصد اضافہ ہوا۔
اس کے باوجود، قیادت میں اچانک تبدیلی نے سرمایہ کاروں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ ماہرین کے مطابق قلیل مدت میں اس طرح کے واقعات حصص پر دباؤ بڑھاتے ہیں، جبکہ طویل مدت میں سرمایہ کار بینک کی حکمت عملی اور نظم و نسق پر گہری نظر رکھتے ہیں۔