آبنائے ہرمز کی بندش: توانائی کے بعد کھاد کا بحران، دنیا کے غذائی نظام کو خطرہ
تجارتی زراعت میں اچھی پیداوار کے لیے کھاد بہت ضروری ہے۔ ایشیائی ممالک خلیجی خطے سے آنے والی کھاد پر انحصار کرتے ہیں۔ ہندوستان کو3 یوریا پلانٹس اور دنیا کے دیگر ممالک کو بھی پیداوار کم کرنا پڑا ہے۔

امریکہ-اسرائیل-ایران جنگ اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی میں خلل کی وجہ سے جہاں تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، وہیں اب کھاد (فرٹیلائیزر) کی سپلائی میں رکاوٹ کے سبب دنیا بھر میں خوراک کی پیداوار متاثر ہوسکتی ہے۔ اس سے عالمی غذائی تحفظ پربڑا بحران پیدا ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ 2 مارچ کو ایران کے آئی آر جی سی کے کمانڈر انچیف کے سینئر مشیر ابراہیم جباری کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئیں۔
اسی دوران اب خلیجی ممالک سے عالمی سطح پر بھیجے جانے والے یوریا اور دیگر کھادوں کی سپلائی متاثر ہوگئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق دنیا کی کل یوریا کے کاروبار کا تقریباً نصف حصہ اسی خطے سے آبنائے ہرمز کے ذریعہ برآمد ہوتا ہے۔ گیس کی سپلائی اور شپنگ میں رکاوٹوں کی وجہ سے خلیجی خطے اور دیگر جگہوں پر متعدد کھاد پلانٹس کو پیداوار کم کرنا یا بند کرنا پڑا ہے۔
قطر انرجی نے بھی دنیا کے سب سے بڑے یوریا پلانٹ میں پیداوار روک دی۔ اس کی وجہ سے ہندوستان کو 3 یوریا پلانٹس اور دنیا کے دیگر ممالک کو بھی پیداوارکم کرنا پڑا ہے۔ یہ بحران ایسے وقت میں آیا ہے جب شمالی نصف کرہ میں بوائی کا موسم (وسط فروری تا مئی) چل رہا ہے۔ تجارتی زراعت میں اچھی پیداوار کے لیے کھاد بہت ضروری ہوتی ہے۔ ایشیائی ممالک خلیجی خطے سے آنے والی کھاد پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ ایشیا کو خلیج سح 35 فیصد یوریا، 53 فیصد سلفر اور 64 فیصد امونیا برآمد ہوتی ہے۔ ہندوستان، برازیل اور چین جیسے بڑے زرعی پیدا کنندگان خاص طور پر ان سپلائیز پر منحصر ہیں اور یہ متاثر ہوں گے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔