فکر و خیالات

کینسر سے بچاؤ: قسمت نہیں احتیاط و پالیسی پر منحصر

اقوام متحدہ کے مطابق، کینسر کے 40 فیصد معاملات روکے جا سکتے ہیں۔ تمباکو نوشی، انفیکشن اور الکحل بڑے خطرات ہیں۔ ویکسی نیشن، احتیاطی تدابیر اور حکومتی پالیسیوں کے ذریعے لاکھوں زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>

علامتی تصویر / اے آئی

 

کینسر کا نام سنتے ہی ذہن میں ایک انجانا خوف، بے بسی اور بدقسمتی کا احساس جاگ اٹھتا ہے۔ اکثر لوگ اسے ایک ایسی بیماری سمجھتے ہیں جو محض "خراب قسمت" کی وجہ سے لاحق ہوتی ہے، لیکن اقوامِ متحدہ کے ادارے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلو ایچ او) اور کینسر پر تحقیق کے بین الاقوامی ادارے (آئی اے آر سی) کی ایک حالیہ انقلابی تحقیق نے اس بیانیے کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ اس مطالعے کے مطابق، کینسر سے بچاؤ ہمارے اپنے ہاتھ میں اس سے کہیں زیادہ ہے جتنا ہم گمان کرتے ہیں۔ اعداد و شمار یہ انکشاف کرتے ہیں کہ کینسر کے تقریباً 37 فیصد (یعنی 71 لاکھ) نئے کیسز ایسے ہیں جن سے تھوڑی سی احتیاط اور درست معلومات کے ذریعے بچا جا سکتا تھا۔

Published: undefined

بیماری صرف قسمت کا کھیل نہیں

یہ تصور کہ کینسر ایک ناگزیر بیماری ہے، اب سائنسی طور پر پرانا ہو چکا ہے۔ دنیا کے 185 ممالک کے ڈیٹا پر مبنی یہ تحقیق ہمیں بتاتی ہے کہ ہم اپنی صحت کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ یہ مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ کینسر "قسمت" سے زیادہ ان عوامل کا مجموعہ ہے جنہیں کنٹرول کرنا ممکن ہے۔ ڈاکٹر آندرے الباوی، جو ڈبلیو ایچ او میں کینسر کنٹرول کے ٹیم لیڈ رہیں، اس بارے میں کہتے ہیں کہ "ممالک اور آبادی کے گروہوں میں بیماری کے پھیلاؤ کے نمونوں کا جائزہ لے کر، ہم حکومتوں اور افراد کو ایسی مخصوص معلومات فراہم کر سکتے ہیں جو کینسر کے بہت سے کیسز کو شروع ہونے سے پہلے ہی روکنے میں مددگار ثابت ہوں۔"

انفیکشن کا خاموش کردار

عام طور پر کینسر کا تعلق صرف سگریٹ نوشی سے جوڑا جاتا ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ تمباکو (15 فیصد) کے بعد انفیکشنز کینسر کی دوسری بڑی وجہ ہیں، جو 10 فیصد کیسز کے ذمہ دار ہیں۔ یہ بہت سے لوگوں کے لیے حیران کن حقیقت ہے کیونکہ وہ کینسر کو صرف طرزِ زندگی کی خرابی سمجھتے ہیں، جبکہ جراثیم اور وائرس اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

Published: undefined

کینسر کی چند بڑی اقسام اور ان کے بنیادی قابلِ بچاؤ محرکات درج ذیل ہیں:

1۔ پھیپھڑوں کا کینسر: اس کی بنیادی وجہ سگریٹ نوشی اور فضائی آلودگی ہے۔

2۔ معدے کا کینسر: یہ بڑی حد تک 'ہیلیکوبیکٹر پائلوری'نامی انفیکشن کی وجہ سے ہوتا ہے۔

3۔ بچے دانی کے منہ کا کینسر: اس کی سب سے بڑی وجہ ایچ پی وی وائرس ہے، جس سے ویکسین کے ذریعے بچاؤ ممکن ہے۔

4۔ جگر کا کینسر: 'ہیپاٹائٹس بی 'جیسے انفیکشن اس کا بڑا محرک بنتے ہیں۔

Published: undefined

مردوں اور عورتوں کے درمیان فرق

کینسر کے حوالے سے تحقیق میں مردوں اور عورتوں کے درمیان ایک واضح خلیج پائی گئی ہے۔ قابلِ بچاؤ کینسر کے کیسز مردوں میں 45 فیصد ہیں، جبکہ خواتین میں یہ شرح محض 30 فیصد ہے۔ یہ فرق صرف حیاتیاتی نہیں بلکہ ہمارے طرزِ عمل اور سماجی عادات کا آئینہ دار ہے۔

مردوں میں کینسر کی سب سے بڑی وجہ تمباکو نوشی (23 فیصد) ہے، جس کے بعد انفیکشنز اور الکحل کا نمبر آتا ہے۔ اس کے برعکس، خواتین میں کینسر کی سب سے بڑی وجہ انفیکشنز (11 فیصد) ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ خواتین میں ہائی باڈی ماس انڈیکس (ایچ بی ایم آئی )بھی تین فیصد کیسز کی وجہ بن رہا ہے، جو وزن کے درست انتظام کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

Published: undefined

جغرافیہ کے صحت پر اثرات

آپ دنیا کے کس حصے میں مقیم ہیں، یہ بھی کینسر کے خطرے کا تعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ مشرقی ایشیا میں 57 فیصد مردوں کے کینسر کیسز قابلِ بچاؤ ہیں، جو دنیا بھر میں سب سے زیادہ شرح ہے۔ اس کے مقابلے میں لاطینی امریکہ اور کیریبین میں یہ شرح سب سے کم یعنی 28 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

خواتین میں یہ شرح شمالی افریقہ اور مغربی ایشیا میں 24 فیصد سے لے کر ذیلی صحارا افریقہ میں 38 فیصد تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس تفاوت کی وجہ معاشی ترقی، صحت کے نظام کی گنجائش اور ماحول میں موجود خطرات ہیں۔ یہی جغرافیائی فرق اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ صحت کی سہولیات تک رسائی کس طرح زندگی اور موت کے درمیان حائل ہو سکتی ہے۔

Published: undefined

علاج سے بڑھ کر انسان پر توجہ

جغرافیائی اور معاشی رکاوٹوں کو عبور کرنے کے لیے اب ایک نئے ماڈل کی ضرورت ہے جسے 'یونائیٹڈ بائی یونیک'(منفرد سے متحد) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ نظریہ ہمیں سکھاتا ہے کہ بچاؤ صرف میڈیکل ٹیسٹ کا نام نہیں بلکہ مریض کو ایک جیتا جاگتا انسان سمجھنا ہے جس کی سماجی اور معاشی حالت اس کی صحت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ہمیں کینسر کی تشخیص سے پہلے اس "شخص" کو دیکھنا ہوگا جس کی زندگی اس بیماری کی لپیٹ میں آئی ہے۔ یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کینسر ایک طویل مدتی حالت ہے، جو نہ صرف جسمانی صحت بلکہ ذہنی، سماجی اور معاشی بہبود کو بھی متاثر کرتی ہے۔ اس کے اثرات محض فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ خاندانوں اور معاشروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لیتے ہیں۔

کینسر کے خلاف جنگ صرف ہسپتالوں میں نہیں، بلکہ تعلیم، ٹرانسپورٹ اور صاف توانائی جیسے شعبوں میں مربوط کارروائی کے ذریعے جیتی جا سکتی ہے۔ تمباکو پر کنٹرول، ویکسی نیشن اور صحت مند ماحول کی فراہمی جیسے اقدامات لاکھوں خاندانوں کو اس تکلیف دہ بیماری سے بچا سکتے ہیں۔ آج جب ہمیں معلوم ہے کہ کینسر کے 10 میں سے 4 کیسز کو بروقت اقدامات سے روکا جا سکتا ہے، تو یہ لازمی ہے کہ ہم اپنے صحت مند مستقبل کے لیے مثبت قدم اٹھائیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined