فکر و خیالات

ہند-امریکہ معاہدہ: ہندوستانی زراعت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے؟....رشمی سہگل

ہند-امریکہ تجارتی معاہدے کے تحت جی ایم سویابین تیل اور مکئی ڈی ڈی جی کی منظوری نے ہندوستانی کسانوں میں تشویش بڑھا دی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس سے زرعی بازار کھل سکتا ہے اور مقامی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے

<div class="paragraphs"><p>اے آئی</p></div>

اے آئی

 

مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان نے بالآخر ہند-امریکہ تجارتی معاہدے پر اپنی خاموشی توڑ دی۔ گزشتہ برس تک جینیاتی طور پر تبدیل شدہ (جی ایم) فصلوں کو ملک میں داخلے کی اجازت دینے میں احتیاط برتنے پر زور دینے والے چوہان نے 17 فروری کو اعلان کیا کہ ہندوستانی کسانوں کو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں، جاری مذاکرات میں ان کے مفادات کا ’مکمل تحفظ‘ کیا گیا ہے۔ تاہم جینیاتی طور پر تبدیل شدہ سویابین سے بنے تیل اور مکئی سے تیار کردہ ڈی ڈی جی (خشک اناج) کی درآمد کے بارے میں وہ زیادہ کچھ نہ بول سکے، حالانکہ ان اشیا کا ذکر عبوری تجارتی سمجھوتے کے مشترکہ خاکے میں موجود ہے۔

ماحولیات پر مرکوز بین الاقوامی جریدے ڈاؤن ٹو ارتھ کے مطابق، سائنس اینڈ انوائرنمنٹ سینٹر کی 2018 کی ایک تحقیق میں پایا گیا تھا کہ ہندوستان میں جانچے گئے 65 غذائی مصنوعات میں سے 32 فیصد میں جی ایم مواد موجود تھا، جن میں سے 80 فیصد درآمد شدہ تھے۔ اس انکشاف نے غذائی تحفظ اور نگرانی کے نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کیے تھے۔

Published: undefined

پائیدار و ہمہ گیر زراعت اتحاد (آشا-کسان سوراج) سے وابستہ محقق شری دھر کرشن سوامی کا کہنا ہے کہ ’’ڈی ڈی جی اور سویابین محض ایک شروعات ہیں، اصل مقصد ہمارے زرعی بازار کو مکمل طور پر کھولنا ہے۔‘‘ سوال یہ ہے کہ آخر امریکہ ہندوستان سے اپنی ’سخت گیر‘ تجارتی پالیسیوں میں نرمی کا مطالبہ کیوں کر رہا ہے؟

اس معاہدے کے تحت جن جی ایم غذائی مصنوعات کو منظوری دی گئی ہے ان میں سویابین کا تیل اور مکئی سے تیار شدہ ڈی ڈی جی شامل ہیں، جو بنیادی طور پر مویشیوں اور پولٹری کے چارے میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی نریندر مودی حکومت نے جی ایم غذائی فصلوں پر طویل عرصے سے عائد عملی پابندی کو نرم کر دیا ہے۔ ماحولیاتی تحفظ ایکٹ 1986 کے تحت جی ایم فصلوں کی درآمد پر قدغن عائد تھی، سوائے 2002 میں بی ٹی کپاس کو دی گئی مخصوص اجازت کے۔

Published: undefined

ہندوستان کا موقف یہ رہا ہے کہ غذائی سلسلے میں داخل ہونے والے ہر جی ایم جاندار کے لیے پیشگی منظوری ضروری ہونی چاہیے۔ نومبر 2022 تک فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا نے ایک فیصد یا اس سے زائد جی ایم مواد رکھنے والی غذائی اشیا پر لیبل لگانا لازمی قرار دیا تھا، اور یہ بھی شرط رکھی تھی کہ تمام درآمدی کھیپیں غیر جی ایم ہونے کا سرٹیفکیٹ پیش کریں۔

2009 میں جینیاتی طور پر تبدیل شدہ بینگن کی منظوری کی کوششوں کے خلاف شدید عوامی احتجاج ہوا تھا، مگر اس بار معاہدے کی تفصیلات میں ابہام کے باعث ردعمل نسبتاً مدھم دکھائی دیتا ہے۔ اس کے باوجود متعدد ماہرین کا خیال ہے کہ ہندوستان نے بڑی عالمی بیج کمپنیوں—بائر مونسانٹو، ڈوپونٹ پائنیر، سنجینٹا اور ڈاؤ—اور امریکہ کے دباؤ کے سامنے لچک دکھائی ہے، جو دنیا میں جی ایم فصلوں کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے۔

Published: undefined

جین کیمپین کی بانی سمن سہائے کے مطابق، چین کی جانب سے خرید میں نمایاں کمی کے بعد امریکہ کو اپنے سویابین اور مکئی کے لیے نئے بازاروں کی اشد ضرورت تھی۔ وہ کہتی ہیں، ’’ٹرمپ اپنے سویابین اور مکئی کے کسانوں کو ناراض کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے تھے، اسی لیے دباؤ ہم پر منتقل ہوا۔‘‘

جی ایم فصلیں وہ پودے ہیں جن کے ڈی این اے میں جینیاتی انجینئرنگ کے ذریعے تبدیلی کی جاتی ہے تاکہ ان میں کیڑوں کے خلاف مزاحمت، جڑی بوٹی مار ادویات کی برداشت اور موسمی دباؤ کے مقابلے کی صلاحیت جیسے خواص پیدا کیے جا سکیں۔ یہ طریقہ روایتی افزائش نسل سے مختلف ہے، جس میں کئی نسلوں تک ایک ہی خاندان کے اندر جینز کی قدرتی آمیزش کی جاتی ہے۔

Published: undefined

ماہرین کے مطابق ہندوستان نے اس معاہدے میں “احتیاطی اصول” کو نظرانداز کیا ہے، جو کئی ممالک جی ایم فصلوں کے استعمال سے پہلے اپناتے ہیں۔ مزید یہ کہ ہندوستان متعدد فصلوں کا آبائی مرکز اور جینیاتی تنوع کا گہوارہ ہے۔ جین کے بہاؤ، حیاتیاتی تنوع کے نقصان اور طویل مدتی ماحولیاتی اثرات جیسے خطرات کو نظرانداز کرنا مستقبل میں سنگین نتائج لا سکتا ہے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ جی ایم غذائی مصنوعات کے بالواسطہ داخلے کے ممکنہ اثرات پر شہری سماج نسبتاً خاموش دکھائی دیتا ہے۔ کیا یہ خاموشی یقین دہانیوں پر اندھا اعتماد ہے یا معلومات کی کمی کا نتیجہ؟

ہندوستان تقریباً 13.5 کروڑ ٹن سویابین اور 42 کروڑ ٹن مکئی پیدا کرتا ہے، جن میں سے تقریباً 20 فیصد ایتھنول کی تیاری میں استعمال ہوتی ہے۔ مکئی میں خود کفالت کے باوجود، خوردنی تیل کی طلب پوری کرنے کے لیے سویاتیل درآمد کیا جاتا ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ سرکاری خرید کی کمی اور کم قیمتوں کے باعث انہیں اپنی لاگت بھی پوری نہیں ہو پاتی۔

Published: undefined

ان کا خدشہ ہے کہ امریکی مصنوعات کی آمد سے مقامی بازار مزید دباؤ میں آ جائے گا۔ چونکہ ہندوستانی سویابین اور مکئی بنیادی طور پر غیر جی ایم ہیں، اس لیے عالمی بازار میں انہیں ایک الگ پہچان حاصل ہے۔ اگر امریکی جی ایم مصنوعات بڑی مقدار میں داخل ہوئیں تو غیر ملکی خریداروں کو ملاوٹ کا شبہ ہو سکتا ہے، جس سے برآمدات متاثر ہوں گی۔

کسان تنظیمیں یہ بھی کہتی ہیں کہ امریکی زرعی مصنوعات پر محصولات میں کمی سے مقامی تیلہن، باغبانی اور مویشی پروری کے شعبے متاثر ہوں گے اور درآمدی انحصار بڑھے گا۔ ایک بار دروازہ کھلنے کے بعد معاملہ صرف سویابین اور مکئی تک محدود نہیں رہے گا؛ امریکہ میں جی ایم سیب اور مچھلی بھی دستیاب ہیں۔

Published: undefined

بی ٹی کپاس کا تجربہ ایک سبق ہونا چاہیے تھا۔ 2002 میں بلند پیداوار کے وعدوں کے ساتھ متعارف کرائی گئی اس فصل کے بیج مہنگے ثابت ہوئے، پانی کی زیادہ ضرورت اور کیڑوں کی مزاحمت نے مسائل بڑھا دیے۔ کئی علاقوں میں کسان قرض کے بوجھ تلے دب گئے اور خودکشیوں کے واقعات بھی سامنے آئے۔

شری دھر کرشن سوامی کا خیال ہے کہ امریکہ نے تجارتی بات چیت میں تاخیر کر کے ہندوستان پر دباؤ بڑھایا تاکہ جی ایم فصلوں کو بالواسطہ راستہ مل سکے۔ ادھر وزیر تجارت پیوش گوئل کا کہنا ہے کہ پراسیس شدہ تیل میں جی ایم ڈی این اے کے اثرات باقی نہیں رہتے، مگر متعدد مطالعات اس دعوے سے اتفاق نہیں کرتے۔

Published: undefined

آشا-کسان سوراج کے قومی کنوینر کرن کمار وسا کہتے ہیں، ’’وزیر کا بیان سائنسی بنیادوں سے عاری اور موقع پرستانہ ہے۔ ہر مصنوعات کے لیے حیاتیاتی تحفظ کا باقاعدہ جائزہ لازمی ہے، اسی لیے ہمارے پاس قانونی اور ضابطہ جاتی ڈھانچہ موجود ہے۔ ہم ٹرمپ انتظامیہ کو خوش کرنے کے لیے اپنی پارلیمنٹ کے منظور کردہ داخلی قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ یہ کھلے عام جھک جانا ہے، اور اس کے نتیجے میں شہریوں کے مفادات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ یہ ’عبوری معاہدہ فریم ورک‘ ہندوستانی زراعت کو کھولنے کا پہلا مرحلہ ہے، جس کے بعد آئندہ مزید فصلوں اور حیوانی مصنوعات کو بھی اس میں شامل کیا جا سکتا ہے، جبکہ دعویٰ تحفظ کا کیا جا رہا ہے۔‘‘

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined