انسانی وحدت اور اسلام کا آفاقی پیغام...ایف اے مجیب

اگر کوئی پیغام خود کو محض ایک قبیلے یا خطے تک محدود نہ رکھے بلکہ پوری انسانیت کو مخاطب کرے، تو یہ محض مذہبی دعویٰ نہیں بلکہ تاریخی تقاضا بن جاتا ہے، لہذا اسلام کے عالمگیر تصور کو سمجھنا ضروری ہے

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>
i
user

ایف اے مجیب

گلوبل ولیج کا تصور جدید دور کی پیداوار سمجھا جاتا ہے، مگر درحقیقت یہ انسانی تاریخ کے ایک طویل ارتقائی سفر کا نتیجہ ہے۔ آج انٹرنیٹ، سیٹلائٹ اور تیز رفتار ذرائع ابلاغ نے دنیا کو ایک گاؤں کی شکل دے دی ہے، مگر اگر ہم ساتویں صدی عیسوی کے عالمی منظرنامے پر نگاہ ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ انسانیت پہلی بار حقیقی معنوں میں باہم جڑنے لگی تھی۔ رومی اور فارسی سلطنتیں وسیع جغرافیوں پر محیط تھیں، شاہراہِ ریشم مشرق و مغرب کو ملاتی تھی، بحری تجارت عرب، افریقہ اور ایشیا کو قریب لا رہی تھی، اور علمی و فکری تبادلہ بڑھ رہا تھا۔ دنیا مکمل طور پر مربوط نہیں ہوئی تھی، مگر “عالمی شعور” کی بنیادیں رکھ دی گئی تھیں۔

ایسے دور میں اگر کوئی پیغام خود کو محض ایک قبیلے یا خطے تک محدود نہ رکھے بلکہ پوری انسانیت کو مخاطب کرے، تو یہ محض مذہبی دعویٰ نہیں بلکہ تاریخی تقاضا بن جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اسلام کے عالمگیر تصور کو سمجھنا ضروری ہے۔

اسلام کا لفظی معنی “سلامتی” اور “اطاعت” ہے — یعنی انسان کا اپنے خالق کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دینا، تاکہ وہ داخلی اور خارجی امن حاصل کر سکے۔ یہ کسی خاص نسل یا قوم کا مذہب نہیں بلکہ وہی ابدی دین ہے جو حضرت آدمؑ سے شروع ہو کر حضرت نوحؑ، ابراہیمؑ، موسیٰؑ اور عیسیٰؑ تک جاری رہا۔ قرآن مجید اس تسلسل کو واضح کرتے ہوئے اعلان کرتا ہے کہ تمام انبیاء کا بنیادی پیغام ایک تھا: توحید، عدل، اخلاق اور آخرت کی جواب دہی۔

ساتویں صدی میں انسانیت ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی تھی۔ زبانوں کی تدوین ہو چکی تھی، کاغذ سازی چین سے ہوتی ہوئی عالمِ اسلام تک پہنچ رہی تھی، اور تحریری مواد محفوظ کرنے کے بہتر ذرائع میسر آ رہے تھے۔ بعد کے ادوار میں طباعت کی ایجاد نے علم کو ناقابلِ تحریف بنا دیا۔ ایسے میں اگر کوئی آسمانی کتاب اپنے محفوظ رہنے کا دعویٰ کرے تو یہ تاریخی اعتبار سے ممکن نظر آتا ہے۔ قرآن مجید کے بارے میں مسلمانوں کا ایمان ہے کہ نزول وحی کے ساتھ اسے نہ صرف لکھا گیا بلکہ ہزاروں افراد نے اسے زبانی یاد کیا، یوں تحریف کے امکانات کم سے کم ہو گئے۔


یہ نکتہ قابلِ غور ہے کہ سابقہ کتب زیادہ تر مخصوص قوموں کے لیے تھیں، اور ان کی حفاظت کا نظام محدود تھا۔ چنانچہ وقت کے ساتھ اختلافات اور اضافے پیدا ہوئے۔ بائبل کی مختلف تراجم اور نسخے اس تاریخی عمل کی مثال ہیں۔ اس کے برعکس، اسلام کا دعویٰ ہے کہ اب ہدایت مکمل ہو چکی ہے اور قیامت تک محفوظ رہے گی۔

دنیا کے کئی مذہبی متون میں ایک آنے والے رہنما یا مصلح کا ذکر ملتا ہے۔ انجیل یوحنا میں “مددگار” یا “پیرکلیطوس” کا تصور، بھوشیہ پران اور اتھرو وید میں بعض اشارات، اور تری پٹک میں مستقبل کے “میتریہ” کا خیال — یہ سب انسانی شعور میں ایک کامل رہنما کی امید کو ظاہر کرتے ہیں۔ اگرچہ ان کی تفسیری جہات مختلف ہیں، مگر ایک مشترک پہلو یہ ہے کہ انسانیت کسی حتمی رہنمائی کی منتظر تھی۔

اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ “خاتم النبیین” ہیں۔ اس تصور کا مطلب یہ نہیں کہ ہدایت کا دروازہ بند ہو گیا، بلکہ یہ کہ نبوت کی تکمیل ہو چکی ہے اور اب اصولی پیغام مکمل صورت میں موجود ہے۔ اس کے بعد انسانی عقل اور اجتہاد کو اسی جامع اصول کے دائرے میں رہ کر رہنمائی حاصل کرنی ہے۔

اگر دنیا ایک گاؤں بن رہی تھی تو اخلاقی قانون بھی ایسا ہونا چاہیے تھا جو عالمی ہو۔ اسلام کا پیغام یہی ہے کہ تمام انسان برابر ہیں، کسی عربی کو عجمی پر اور کسی گورے کو کالے پر فضیلت نہیں مگر تقویٰ کی بنیاد پر۔ یہ اعلان اُس دور میں ہوا جب نسلی اور قبائلی تفاخر عام تھا۔ اسلام نے بین الاقوامی تعلقات کے اصول، جنگ و امن کے ضابطے، تجارت کے قواعد، اور انسانی حقوق کے بنیادی تصورات پیش کیے۔ یہ سب ایسے وقت میں جب دنیا مختلف سلطنتوں کے زیرِ اثر تھی اور ایک عالمی اخلاقی معیار کی ضرورت شدت سے محسوس ہو رہی تھی۔


تقریباً تمام مذاہب آخرت اور جواب دہی کا تصور پیش کرتے ہیں۔ اگر انسانی زندگی کا ایک حتمی انجام ہے تو رہنمائی کا بھی ایک مکمل مرحلہ ہونا چاہیے۔ ایک لامتناہی سلسلۂ نبوت انسانی ذہن کو غیر یقینی میں رکھتا، مگر ایک آخری اور جامع پیغام انسان کو واضح سمت دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام ختمِ نبوت کو فکری استحکام کا ذریعہ قرار دیتا ہے۔

آج جب ہم ڈیجیٹل عہد میں جی رہے ہیں اور دنیا حقیقی معنوں میں گلوبل ولیج بن چکی ہے، تو اسلام کا عالمگیر پیغام مزید نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے۔ ایک خدا، ایک انسانی خاندان، ایک اخلاقی معیار — یہ تصورات عالمی ہم آہنگی کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ قرآن “یا ایہا الناس” کہہ کر پوری انسانیت کو مخاطب کرتا ہے، نہ کہ کسی خاص قوم کو۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا پیغام جغرافیائی حدود سے ماورا ہے۔

تاریخ کا مطالعہ، مذہبی متون کا تقابل، اور انسانی ارتقاء کا جائزہ — یہ سب ایک مربوط تصویر پیش کرتے ہیں۔ دنیا ایک ہونے لگی تھی، اس لیے پیغام بھی عالمگیر ہوا۔ تحریری ذرائع محفوظ ہو چکے تھے، اس لیے کتاب محفوظ رہی۔ انسانیت انجام کی طرف بڑھ رہی تھی، اس لیے ہدایت مکمل ہوئی۔

یوں گلوبل ولیج کا ابتدائی تصور اور ختمِ نبوت کا عقیدہ ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ ایک ہی تاریخی و فکری تسلسل کے دو پہلو معلوم ہوتے ہیں۔ اسلام کا مفہوم — سلامتی، اطاعت اور عالمگیر وحدت — اسی تسلسل کا عملی اظہار ہے۔