
تصویر سوشل میڈیا
20 جولائی 2026 کو ہندوستان کے نوجوان ایک منصفانہ تعلیمی نظام اور پیپر لیک کے لیے جوابدہی کا مطالبہ کرنے کے لیے ایک ساتھ آئے۔ یہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ہر ذات، طبقے، خطے اور مذاہب سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ بہادری کے ساتھ انصاف کا مطالبہ کر رہے تھے، وہ اتنے باشعور تھے کہ اپنے آئینی حقوق کو جان سکیں، اور وہ پُرعزم تھے کہ اپنی جنگ لڑ سکتے ہیں اور جیت سکتے ہیں۔
ملک نے ان نوجوان مظاہرین کو اُس وقت حیرت و تحسین کی نظر سے دیکھا، جب وہ گاتے، ناچتے، ہنستے، ایک دوسرے کا ہاتھ تھامتے اور متحد ہو کر کھڑے ہو رہے تھے۔ ان کی مزاحمت نے ان کی اپنی نسل کے ساتھ ساتھ کروڑوں ہندوستانیوں کے درد کو بھی آواز دی، جو تکلیف میں ہیں لیکن خوف کے باعث خاموش کر دیے گئے ہیں۔
ان مظاہروں نے ہندوستان کی پُرامن مزاحمت کی قابل فخر روایت کو آگے بڑھایا، وہ روایت جس نے اسے آزادی دلائی اور جسے آئین کے آرٹیکل 19 کے ذریعے تحفظ حاصل ہے۔ اس کے باوجود حکومت نے ایک وحشیانہ حملہ کے ذریعہ نوجوانوں کی آواز کو کچلنے کی کوشش کی۔ ان پر آنسو گیس کے گولے داغے گئے، کیلوں والی لاٹھیوں سے پیٹا گیا اور پیلیٹ گنوں سے گولیاں چلائی گئیں۔
19 سالہ ساحل لوچب (جن سے میں ملا) کے جسم کے اوپری حصے میں سینکڑوں سیسے کے چھرے پیوست ہو گئے تھے۔ ایک چھرا ان کی آنکھ میں لگا، جس سے ان کی بینائی جانے کا امکان ہے۔ لاٹھیاں چلانے والے پولیس اہلکاروں نے نوجوان خواتین پر بے رحمی سے حملہ کیا، جس سے کئی کے پرائیویٹ پارٹس زخمی ہوئے۔ نابالغوں کو لاٹھیوں سے پیٹا گیا، ان کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں، جسم پر گہرے زخم اور چوٹیں آئیں۔ بہار میں سیوان میں طلبا مظاہرین پر اے کے-47 سمیت آتشیں اسلحوں سے گولیاں چلائی گئیں، جس سے بہت سے لوگ شدید زخمی ہوئے۔ اس غیر قانونی اور غیر آئینی تشدد کی اجازت کس نے دی؟
نریندر مودی حکومت اپنے سنٹرلائزڈ کنٹرول پر فخر کرتی ہے۔ خواہ یہ مریخ کا مشن ہو یا اولمپک تمغہ، وہ بار بار اس کا کریڈٹ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو دیتی ہے۔ ان کی منظوری کے بغیر کچھ نہیں ہوتا۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ یہ تشدد دہلی کے قلب میں پارلیمنٹ سے محض 500 میٹر کے فاصلے پر ہوا۔ تعینات دونوں سیکورٹی فورسز، دہلی پولیس اور ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) براہِ راست وزیر داخلہ کو رپورٹ کرتی ہیں۔
ایسے میں صرف 2 امکانات ہیں۔ اول، انہوں نے طلبا پر حملے کی اجازت دی، ایسی صورت میں وہ قصوروار ہیں۔ دوم، انہیں اس بات کا کوئی علم نہیں تھا کہ یہ سب ہو رہا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ مکمل طور پر نااہل ہیں۔ دونوں صورتوں میں وزیر داخلہ کی حیثیت سے اس دن جو کچھ ہوا، اس کی ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے اور انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔
اس کے بجائے، ان کی خاموشی اور بے عملی ثابت کرتی ہے کہ انھوں نے طلبا پر حملے کی منظوری دی ہے۔ انہوں نے نہ کسی تحقیقات کا حکم دیا ہے اور نہ ہی کوئی بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ آنے سے انکار کر دیا ہے، اور اپوزیشن کی جانب سے بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے روزانہ پیش کی جانے والی تحریکوں کو سرسری طور پر مسترد کر دیا گیا ہے۔
اسی دوران وزیر اعظم مودی (جو اپنی شبیہ بچانے کے لیے بے چین ہیں) نے اپنی پروپیگنڈا مشینری اور گودی میڈیا کو سرگرم کر دیا ہے۔ نوجوان مظاہرین کو ڈرانے کے لیے ایف آئی آر اور ان کی گرفتاریاں جاری ہیں۔ بی جے پی کے آن لائن ٹرول نوجوان خواتین مظاہرین اور ان کے والدین کو دھمکیاں دے رہے ہیں، جس کے باعث انہیں عوامی طور پر معافی مانگنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے ذاتی طور پر ایک ویڈیو بنائی جس میں ہندوستان کے نوجوانوں کو اپنے اظہار کے جائز حق کا استعمال کرنے پر ’معاف‘ کیا گیا۔ یہ کتنی مضحکہ خیز بات ہے کہ ایک وزیر اعظم اپنی ہی عوام کو اس وقت معاف کرے جب وہ جوابدہی کا مطالبہ کر رہی ہو۔
چونکہ وزیر اعظم مودی واضح طور پر حقیقت سے انتہائی بے خبر ہیں، اس لیے مجھے انہیں خبردار کرنے دیجیے.. ملک بھر کے نوجوان بیدار ہو چکے ہیں۔ وزیر اعظم کی شبیہ تباہ ہو چکی ہے اور اسے دوبارہ کبھی تعمیر نہیں کی جا سکتی۔ ہندوستان کے نوجوان انہیں، وزیر داخلہ شاہ یا کسی بھی عہدیدار کو اپنے اعمال کے نتائج سے بچ نکلنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہم اپوزیشن میں نوجوانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم ان جرائم کو بغیر سزا کے گزرنے نہیں دیں گے۔
20 جولائی 2026 کو ساحل اور ہندوستان بھر کے ہزاروں نوجوانوں نے ان لوگوں سے جوابدہی کا مطالبہ کیا جنہیں انہوں نے عہدوں کے لیے منتخب کیا تھا۔ جلد یا دیر سے انہیں وہ جوابدہی ملے گی... اور ہم اسے یقینی بنائیں گے۔
(یہ مضمون انگریزی روزنامہ ’دی ہندو‘ میں شائع ہوا، جس کا ترجمہ یہاں مختلف سرخی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے)
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔