طلبہ پر پولیس بربریت: راہل گاندھی کا امت شاہ پر حملہ، کہا- ’اس جرم کا جواب دینا ہوگا‘

راہل گاندھی نے پریاگ راج میں طلبہ سے ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے جنتر منتر پر احتجاج کے دوران پولیس کارروائی پر امت شاہ کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور جواب دہی کا مطالبہ کیا

<div class="paragraphs"><p>سوشل میڈیا</p></div>
i

لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی نے سوالیہ پرچوں کے لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف دہلی پولیس کی بربریت پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ پر لاٹھی چارج اور پیلٹ گن کے استعمال کے معاملے میں حکومت سے جواب دہی کا مطالبہ جاری رہے گا اور امت شاہ کو اس معاملے پر جواب دینا ہوگا۔

راہل گاندھی نے اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں ہفتے کے روز پریاگ راج میں منعقدہ ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک طالب علم نے ان سے کہا کہ اس کے پاس اب کوئی راستہ نہیں بچا ہے۔

کانگریس رہنما نے کہا، ’’کل پریاگ راج میں ایک طالب علم نے مجھ سے یہی کہا۔ سالوں کی تیاری، گھر کی زمین بیچی، ماں باپ کا قرض، پھر بھی ہاتھ میں کچھ نہیں۔ یہ ہار اس کی نہیں ہے۔ یہ اس نظام کی ہار ہے جس نے اس کی محنت کی قیمت دینے سے انکار کر دیا۔‘‘

راہل گاندھی نے کہا کہ سوالیہ پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے طلبہ کی تحریک کو ختم ہوئے کئی دن گزر چکے ہیں، لیکن دہلی پولیس کی کارروائی کے حوالے سے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی جانب سے اب تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔


انہوں نے وزیر داخلہ پر براہ راست حملہ کرتے ہوئے کہا، ’’امت شاہ جی، یہ مت سمجھئے کہ ہم جواب مانگنا بند کردیں گے۔ راجدھانی کی سڑکوں پر بچوں پر لاٹھیاں اور پیلٹ گن چلیں اور آپ نے ایک لفظ نہیں کہا۔ آج نہیں تو کل، اس جرم کا جواب آپ کو دینا ہی پڑے گا۔‘‘ راہل گاندھی نے طلبہ کو ملک کی روشنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ پوری طاقت کے ساتھ ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ نوجوانوں کے مسائل اور ان کے مستقبل سے جڑے معاملات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

پیپر لیک کے معاملے پر 20 جولائی کو طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائی کو لے کر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بھی تعطل کی صورت حال برقرار ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وزیر داخلہ امت شاہ اس معاملے پر دونوں ایوانوں میں بیان دیں۔ ہنگامے کے درمیان پارلیمنٹ میں زیادہ تر قانون سازی کا کام کاج متاثر ہوا ہے۔

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے بھی طلبہ کے خلاف پولیس کی بربریت کے معاملے پر پارلیمنٹ میں بیان نہ دینے پر امت شاہ کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھا کرشنن کی جانب سے وزیر داخلہ کو ایوان میں بیان دینے کے لیے کہے جانے کے باوجود امت شاہ ایوان میں نہیں آئے۔

دوسری جانب پارلیمانی امور کے وزیر کیرن ریجیجو نے جمعہ کو لوک سبھا میں کہا تھا کہ اپوزیشن یہ طے نہیں کر سکتی کہ کون سا وزیر ایوان میں آ کر اس کے سوالات کا جواب دے گا۔ ان کا یہ بیان کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے اس مطالبے کے درمیان آیا تھا کہ طلبہ کے خلاف حالیہ پولیس کارروائی سے متعلق سوالات کا جواب دینے کے لیے امت شاہ ایوان میں بیان دیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔