فکر و خیالات

پروان چڑھ رہی مزاحمت کی نئی تہذیب...میناکشی نٹراجن

سیاسی مزاحمت صرف احتجاج نہیں بلکہ محبت، عدم تشدد، برابری اور مسلسل مشق کا نام ہے۔ چرخہ اور ’پرئی‘ جیسے ثقافتی استعارے سماجی تفریق مٹاتے ہوئے نئی جمہوری اور انسانی سیاست کی بنیاد رکھ رہے ہیں

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>

تصویر اے آئی

 

گزشتہ دنوں ہندوستانی سیاست میں ایک ایسے لفظ نے دوبارہ جگہ بنائی جسے عرصے سے عملی سیاست میں کم ہی سنا جا رہا تھا۔ انڈیا اتحاد کی حالیہ نشست میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے ’ریزسٹنس‘ کا تصور پیش کیا۔ اس لفظ کا اردو مترادف ’مزاحمت‘ ہے، اگرچہ بعض لوگ اسے ’ستیہ گرہ‘ کے زیادہ قریب سمجھتے ہیں۔ اس پر بحث ہو سکتی ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ایسی مزاحمت کیسی ہو جو صرف مخالفت نہ ہو بلکہ معاشرے کو بہتر بنانے کا ذریعہ بھی بنے۔

بظاہر مزاحمت کا تصور تصادم، احتجاج اور کشمکش سے جڑا محسوس ہوتا ہے، مگر اس کا ایک دوسرا، کہیں زیادہ گہرا اور انسان دوست رخ بھی ہے۔ یہی رخ ہمیں ہندوستان کی صوفیانہ، بھکتی اور عوامی روایت میں نظر آتا ہے۔ میرا بائی کے گیت، آندال کی شاعری، سویرا بائی کے ابھنگ اور ’اوگھا رنگ ایک جھالا‘ جیسے روحانی نغموں میں محبت بھی ہے اور ظلم کے خلاف خاموش مزاحمت بھی۔ دراصل محبت خود ایک ایسی قوت ہے جس سے ہر جابرانہ نظام خوفزدہ رہتا ہے۔ شاید اسی لیے محبت سے بڑھ کر کوئی مزاحمت نہیں۔

حقیقی مزاحمت وہی ہوتی ہے جو زمینی حقیقتوں سے جنم لے اور انصاف کی جدوجہد میں تبدیل ہو جائے۔ یہی ستیہ گرہ کا بنیادی تصور بھی ہے۔ یہ محض ایک احتجاجی پروگرام یا وقتی جوش کا نام نہیں، بلکہ برسوں کی مشق، صبر اور اخلاقی تربیت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ آزادی کی تحریک میں بھی یہ سبق ملا کہ اگر عوامی جدوجہد پوری تیاری کے بغیر آگے بڑھے تو چوری چورا جیسے واقعات رونما ہو جاتے ہیں اور پھر اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ ابھی ہماری تیاری مکمل نہیں تھی۔

گزشتہ چند برسوں میں ایسی کئی نئی مشقیں سامنے آئی ہیں جو مزاحمت کو ایک مختلف رخ دیتی ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں چرخہ ہے۔ 2021 میں چرخہ دوبارہ سیاسی اور سماجی احتجاج کا حصہ بننا شروع ہوا۔ ابتدا میں کسی نے نہیں سوچا تھا کہ یہ محض علامتی چیز نہیں رہے گا بلکہ ملک بھر میں عدم تشدد پر مبنی عوامی تحریکوں کی شناخت بن جائے گا۔ شروع میں دھاگا بار بار ٹوٹتا، کبھی موٹا بنتا تو کبھی باریک، مگر اس مشق نے لوگوں کو صبر، استقامت اور خاموش جدوجہد کا سبق دیا۔

ایک موقع پر مہاراشٹر میں ایک خاتون کارکن نے عوامی دھرنے کے دوران چرخہ چلانا شروع کیا۔ پولیس نے اس سے کہا کہ نعرے لگاؤ، تقریریں کرو، لیکن چرخہ مت چلاؤ۔ یہ منظر حیران کن تھا کہ ایک بے ضرر چرخہ بھی اقتدار کے لیے خوف کی علامت بن گیا، بالکل ویسے ہی جیسے برطانوی استعمار کے زمانے میں تھا۔

اسی طرح ہماچل پردیش میں منریگا کی بحالی کے لیے جاری احتجاج میں ایک سابق خاتون سرپنچ نے خاموشی سے مہاتما گاندھی کے مجسمے کے نیچے بیٹھ کر چرخہ کاتنا شروع کردیا۔ اس نے صرف اتنا کہا کہ مزدور اور کسان کے پسینے سے ہی دھاگا بنتا ہے، اس لیے وہ انہی کے حق میں یہ مزاحمت کر رہی ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے میڈیا، انتظامیہ اور احتجاجی کارکن سب اس کے گرد جمع ہو گئے۔ بغیر شور، بغیر نعرے، ایک خاموش عمل پوری تحریک کا مرکز بن گیا۔

انتخابی بے ضابطگیوں اور اقتدار و اداروں کے گٹھ جوڑ کے خلاف ملک کے تیس شہروں میں چرخہ چلایا گیا۔ اگرچہ اس سے الیکشن کمیشن تبدیل نہیں ہوا، مگر احتجاج کا انداز ضرور بدل گیا۔ پہلے جہاں احتجاجی مقامات پر مردوں کی بالادستی اور طاقت کا اظہار غالب رہتا تھا، وہاں اب خواتین بھی برابر شریک ہونے لگیں۔ چرخے نے احتجاج کو زیادہ پُرامن، باوقار اور سب کی شمولیت والا عمل بنا دیا۔

اسی سلسلے کی ایک اور مثال جنوبی ہندوستان کی روایتی موسیقی کا آلہ ’پرئی‘ ہے۔ ڈھپلی یا ڈف سے مشابہ یہ قدیم ساز صدیوں تک صرف دلت برادری سے وابستہ رہا کیونکہ اسے مردہ گائے کی کھال سے بنایا جاتا تھا۔ اسی بنیاد پر اسے بجانے والوں کو سماجی حقارت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ وہ مندروں، کنوؤں اور مرکزی آبادی سے دور رکھے جاتے تھے اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک معمول کی بات تھی۔

اگرچہ کئی سماجی اور ترقی پسند تحریکوں نے پرئی کو مزاحمت کی علامت کے طور پر اپنایا، لیکن سیاسی میدان میں اس کا استعمال کم ہی ہوا۔ ایک خواتین کے تربیتی کیمپ میں مختلف ذات، مذہب اور طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین نے اس ساز کو سیکھنے کی کوشش کی۔ انہیں سکھانے والی خاتون خود دلت برادری سے تعلق رکھتی تھی اور صرف تمل زبان جانتی تھی، جبکہ زیادہ تر شرکا تمل نہیں سمجھتے تھے۔

ابتدا میں کئی خواتین نے مختلف بہانے بنائے۔ کسی نے کہا کہ ساز بھاری ہے، کسی نے اس کی کھال کے باعث اسے چھونے میں ہچکچاہٹ محسوس کی۔ بعض کے لیے ایک دلت خاتون سے سیکھنا بھی آسان نہ تھا۔ لیکن استاد نے خاموشی سے محبت، صبر اور احترام کے ساتھ اپنا کام جاری رکھا۔

تیسرے دن جب شرکا نے پرئی کی تاریخ پر مبنی ایک فلم دیکھی اور دیوداسی خواتین کی زندگیوں کے بارے میں گفتگو ہوئی تو برسوں کے تعصبات پگھلنے لگے۔ شام ہوتے ہوتے سب نے پرئی اپنے ہاتھوں میں اٹھا لی۔ میدان اس کی تھاپ سے گونج اٹھا اور سب نے اس کی دھن پر رقص کے ابتدائی قدم بھی سیکھے۔ زبان کی دیواریں ٹوٹ گئیں اور انسانیت کی ایک نئی زبان نے جنم لیا۔

پرئی سکھانے والی خاتون نے جذباتی انداز میں کہا کہ جب سب خواتین نے اس ساز کو دونوں ہاتھوں سے تھاما تو یوں محسوس ہوا جیسے صدیوں سے قائم تفریق کو گلے لگا کر ختم کردیا گیا ہو۔ اس لمحے آنکھیں نم تھیں، مگر دل ہلکے ہوگئے تھے۔ بعد میں کرناٹک کے ایک لوک گلوکار نے گیت سنایا جس کا پیغام تھا کہ اپنے اندر کے خوف اور غلامی کو للکارو اور ایک نڈر معاشرہ تشکیل دو۔

حقیقی بے خوفی محبت سے جنم لیتی ہے، اور یہی محبت مستقل اور پائیدار مزاحمت کی بنیاد ہے۔ آج جب دنیا کی بڑی جمہوریتیں بھی اندرونی بحرانوں کا شکار ہیں تو صرف طاقت کے مظاہرے کافی نہیں۔ انسان دوستی، مساوات، محبت اور عدم تشدد ہی وہ راستہ ہیں جو سیاست کو نئی روح دے سکتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں مزاحمت کی ایک نئی تہذیب آہستہ آہستہ پروان چڑھ رہی ہے۔ یہ شور شرابے یا وقتی نعروں کی سیاست نہیں بلکہ مسلسل اخلاقی مشق، سماجی برابری اور محبت کے ذریعے تبدیلی لانے کا سفر ہے۔ اگر یہی روایت مضبوط ہوئی تو شاید سیاست ایک بار پھر نفرت کے بجائے محبت، انصاف اور انسانیت کی زبان بولنے لگے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔