ایران کے سخت مخالف، اسرائیل کے حامی اور ٹرمپ کے قریبی اتحادی امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کا انتقال
امریکہ کے ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم کا 71 برس کی عمر میں مختصر علالت کے بعد انتقال ہو گیا۔ وہ ٹرمپ کے قریبی ساتھی، اسرائیل کے حامی اور ایران کے خلاف سخت مؤقف رکھنے والے نمایاں امریکی سیاست دان تھے

امریکہ کی ریپبلکن پارٹی کے سینئر رہنما، جنوبی کیرولائنا سے سینیٹر اور صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے قریبی اتحادی لنڈسے گراہم کا 71 برس کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ ان کے دفتر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وہ ہفتے کی شام مختصر اور اچانک علالت کے بعد دنیا سے رخصت ہوئے۔ تاہم بیماری کی نوعیت یا مزید طبی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔
ان کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا کہ لنڈسے گراہم کے اہل خانہ اس مشکل وقت میں عوام سے دعاؤں کی اپیل کرتے ہیں اور ان کی نجی زندگی اور غم کے اس مرحلے کا احترام کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔
لنڈسے گراہم گزشتہ دو دہائیوں سے امریکی سیاست کی نمایاں شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ وہ پہلی مرتبہ 2002 میں جنوبی کیرولائنا سے امریکی سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے تھے، جس کے بعد 2008، 2014 اور 2020 میں دوبارہ کامیابی حاصل کی۔ اس سے قبل وہ 1994 میں امریکی ایوانِ نمائندگان کے رکن بھی منتخب ہوئے تھے، جہاں انہوں نے جنوبی کیرولائنا کے تیسرے انتخابی حلقے کی نمائندگی کی۔
وہ حالیہ عرصے میں سینیٹ کی بجٹ کمیٹی کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ اس کے علاوہ وہ سینیٹ کی مالیاتی کمیٹی، عدلیہ کمیٹی اور ماحولیات و عوامی تعمیرات سے متعلق کمیٹی کے بھی رکن رہے۔
خارجہ پالیسی کے معاملات پر لنڈسے گراہم کا مؤقف ہمیشہ سخت سمجھا جاتا تھا۔ وہ 2003 میں عراق پر امریکی حملے کے بھرپور حامی تھے اور کئی برسوں تک ایران کے خلاف سخت اقتصادی پابندیوں اور فوجی کارروائی کی وکالت کرتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کا جوہری پروگرام، مشرقِ وسطیٰ میں اس کی سرگرمیاں اور اس سے وابستہ مسلح گروہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے سنگین چیلنج ہیں۔
لنڈسے گراہم اسرائیل کے مضبوط ترین امریکی حامیوں میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے اسرائیل کی حمایت میں مسلسل آواز بلند کی اور ایران کے خلاف ڈونالڈ ٹرمپ کی سخت پالیسیوں کی بھی بھرپور تائید کی۔ ان کے انتقال پر اسرائیل کی وزارتِ دفاع نے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لنڈسے گراہم نے مشکل ترین اوقات میں اسرائیل کا بھرپور ساتھ دیا۔
اگرچہ 2016 میں انہوں نے ریپبلکن صدارتی نامزدگی کے لیے انتخابی مہم شروع کی تھی اور ابتدائی مرحلے میں ڈونالڈ ٹرمپ پر سخت تنقید بھی کی، تاہم بعد میں وہ ٹرمپ کے قریبی ترین سیاسی اتحادیوں میں شامل ہو گئے اور کانگریس میں ان کی پالیسیوں کے اہم حامی بنے رہے۔
سیاست میں آنے سے پہلے لنڈسے گراہم نے چھ برس سے زیادہ عرصہ امریکی فضائیہ میں وکیل کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں وہ فضائیہ کے ریزرو دستے میں بھی شامل رہے اور تقریباً دو دہائیوں تک خدمات انجام دینے کے بعد کرنل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
