
نئی دہلی: کانگریس نے کہا کہ نوٹوں کی منسوخی کی وجہ سے ملک میں بڑا گھپلہ ہوا ہے اور اس کا کن لوگوں نے فائدہ اٹھایا، اس کی تفصیلی جانچ ہونی چاہیے۔
کانگریس کے سینئر لیڈر کپل سبل نے منگل کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس میں کہا کہ حال ہی میں نوٹوں کی منسوخی گھپلہ پر ایک اسٹنگ آپریشن سامنے آیا ہے۔ اس اسٹنگ میں کہا گیا ہے کہ کیسے اعلی سیاسی عہدے پر بیٹھے لوگوں کے اشارے پر بینکوں نے پرانے نوٹ بدلے ہیں اور خزانے کو چونا لگایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس اسٹنگ آپریشن میں انکشاف ہوا ہے کہ پرانے نوٹوں کو بدلنے کے لئے ریزرو بینک آف انڈیا کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے وزیراعظم دفتر میں ایک الگ محکمہ کھولا گیا جس میں مختلف محکموں سے لئے گئے 26 لوگوں کو رکھا گیا تھا۔ ان لوگوں کو غیرممالک میں ریزرو بینک کے دفتر میں مقرر کیا گیا تھا جو نوٹوں کے ٹرانزیکشن کے کام پر کنٹرول رکھتے تھے اور اس کی اطلاع پی ایم او میں اپنے سربراہ کو دیتے تھے۔
کانگریس لیڈر نے یہ بھی الزام لگایا کہ اسٹنگ کے مطابق جیو کے ڈاٹا کا استعمال ریزرو بینک میں نوٹوں کے ٹرانزیکشن کے لئے بار بار کیا گیا۔ اسٹنگ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ نوٹوں پر ارجیٹ پٹیل کے نوٹوں پر دستخط 8 نومبر سے چھ مہینے پہلے کرائے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹنگ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کس طرح سے نوٹوں کو بدلنے کیلئے کمیشن فیصد بڑھایا گیا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔