امریکی ریاستوں نے ہی ٹرمپ حکومت کے خلاف کیا مقدمہ، بچوں کے لیے ویکسین کی سفارش میں تبدیلی پر ہنگامہ

ریاستوں نے کہا کہ گزشتہ ماہ یہ اعلان کر بچوں کی جان خطرے میں ڈال دی گئی کہ وہ سبھی بچوں کو فلو، روٹاوائرس، ہپٹائٹس اے اور بی، آر ایس وی سے بچانے کے لیے ویکسین لگوانے کی صلاح دینا بند کر دے گا۔

<div class="paragraphs"><p>امریکی صدر ٹرمپ / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

بچوں کے لیے ویکسین کی سفارش میں تبدیلی معاملہ پر ٹرمپ حکومت کو تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ 10 سے زائد امریکی ریاستوں نے ہی اپنی وفاقی حکومت کے خلاف مقدمہ داخل کر دیا ہے۔ ان ریاستوں نے سفارش میں تبدیلی کو عوامی سیکورٹی کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔

مقدمہ داخل کرنے والی ریاستوں نے منگل کے روز دلیل دی کہ ’سنٹرس فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن‘ نے گزشتہ ماہ یہ اعلان کر کے بچوں کی جان خطرے میں ڈال دی ہے کہ وہ سبھی بچوں کو فلو (بخار)، روٹاوائرس، ہپٹائٹس اے، ہپٹائٹس بی، کچھ طرح کے میننجائٹس اور آر ایس وی سے بچانے کے لیے ویکسین لگوانے کی صلاح دینا بند کر دے گا۔ حکومت کی نئی ہدایات کو طبی ماہرین نے بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور اسے بچوں کے لیے مضر فیصلہ بتایا تھا۔


ایریجونا اور کیلیفورنیا سمیت درجن بھر ریاستوں کا کہنا ہے کہ نئی ویکسین کی صلاح طویل مدت سے چلی آ رہی میڈیکل گائیڈنس کو نظر انداز کرتی ہے اور اس سے ریاستوں کو بیماری پھیلنے سے روکنے کے لیے زیادہ خرچ کرنا پڑے گا۔ ایریجونا کے اٹارنی جنرل کرس میئس نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’’پورے ملک میں بچوں کی صحت اور سیکورٹی کوئی سیاسی ایشو نہیں ہے۔‘‘ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ڈپارٹمنٹ آف ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز کی پریس سکریٹری ایملی جی ہلیارڈ نے اس شکایت کو ایک پبلسٹی اسٹنٹ بتا کر خارج کر دیا۔

قابل ذکر ہے کہ وزیر صحت رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر ٹیکہ کاری کے حامی نہیں ہیں۔ اسی وجہ سے وفاقی حکومت اور اپوزیشن ڈیموکریٹک پارٹی کے درمیان رسہ کشی چلی آ رہی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ پہلے ہی وفاقی طبی ایجنسیوں سے ہزاروں ملازمین کو ملازمت سے نکال چکے ہیں۔ ساتھ ہی سائنسی ریسرچ اور فنڈنگ میں بھی تخفیف کی گئی ہے۔ کینیڈی نے گزشتہ سال ایک ویکسین ایڈوائزری کمیٹی کے سبھی رکن کو ہٹا دیا تھا اور ان کی جگہ اپنے منتخب ہوئے لوگوں کو رکھا تھا، جسے منگل کے روز کی گئی شکایت میں غیر قانونی بتایا گیا ہے۔


یہ مقدمہ کیلیفورنیا، واشنگٹن اور اوریگن کے ڈیموکریٹک گورنرس کے ذریعہ اپنی ویکسین سفارشات طے کرنے کے لیے ایک الائنس شروع کرنے کے کچھ مہینوں بعد کیا گیا ہے۔ گورنرس نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ سنٹرل ڈیزیز کنٹرول پر سیاست کاری کر لوگوں کی صحت کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ توجہ طلب ہے کہ اسکولی بچوں کے لیے ٹیکہ کاری ضروری کرنے کا حق ریاستوں کے پاس ہے، نہ کہ مرکزی حکومت کے پاس۔ حالانکہ سنٹرل ڈیزیز کنٹرول ایجنسی عام طور پر ریاست کے صحت سے متعلق اصولوں پر اثر ڈالتی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔