صنعت و حرفت

پبلک سیکٹر کو نیست نابود کر کے معیشت کو کیا جا رہا کھوکھلا

گھر بیچ کر اور ادھار لے کر گھی پینے کی قیمت ہندوستانی عوام کو تو ادا کرنی ہی پڑے گی اس لئے مودی جی اور نرملا جی کو ہوش کے ناخن لیتے ہوئے ہندوستانی معیشت کو سدھارنے کی حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا 

اس سے پہلے بھی کئی بار ان کالموں سمیت متعدد صحافیوں اور تبصرہ نگاروں نے لکھا ہے کہ مودی جی نے الیکشن کے دوران جارحانہ قوم پرستی کا ایسا گہرا بادل سیاست کے آسمان پر چھا دیا تھا کہ ملک کے تمام مسائل اس کے اوٹ میں دب گئے اوراس کی بارش میں ووٹوں کی ایسی شاندار فصل انہوں نے کاٹی جو اپنے آپ میں ایک مثال بن گئی۔ مگر الیکشن ختم ہونے اور دوسری بار وزیر اعظم کے عہدہ کی حلف لینے کے بعد ہی تمام تلخ معاشی مسائل ایک عفریت کی طرح ان کے سامنے منہ پھیلائے کھڑے ہیں۔

Published: undefined

اعداد و شمار کی بازی گری کے ذریعہ عوام کو بھلے ہی ورغلانے میں کامیابی مل جائے لیکن حقیقت سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی۔ یہ مودی جی کی کوئی وسیع القلبی یا بردباری نہیں ہے کہ پہلے اپنی وزیر مالیات کو بھیجنے اور بعد میں خود جا کر سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ سے ملاقات کر کے ملک کے معاشی حالات اور ان سے باہر نکلنے کی ترکیبون پر تبادلہ خیال کیا ہو۔ یہ وہی منموہن سنگھ ہیں جن کے بارے میں بیہودہ سے بیہودہ لفظ بولنے میں خود وزیر اعظم، ان کے وزرا اور ان کی پارٹی کے ترجمانوں نے رتی بھر بھی شرم نہ محسوس کی، جو دنیا کا مانا ہوا ارتھ شاستری (ماہر معاشیات) ہے لیکن جنھیں سنگھی انرتھ شاستری کہہ کر مذاق اڑاتے تھے اور جن کی ہارورڈ کی ڈگری کے مقابلہ میں اپنے ہارڈ ورک کو کھڑا کرتے تھے۔ یہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی شرافت، بردباری اور بڑپن کی ایک اور مثال ہے کہ انہوں نے ذاتی تلخی کو قومی مفاد کے اڑے نہیں آنے دیا ورنہ ہم جیسا عام آدمی تو مودی جی کی تلخ باتوں، الزامات اور توہین آمیز رویہ کو یاد کرتے ہوئے انھیں دروازہ سے ہی واپس کر دیتا۔

Published: undefined

ملک کی معاشی صورت حال کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ اپنے سابقہ مدت میں ریزرو بینک سے اس کے ریزرو فنڈ سے ایک بڑی رقم اینٹھنے کے بعد اپنی دوسری مدت میں عوام کے گاڑھے پسینہ کی کمائی سے کھڑے کیے گئے عوامی زمرہ کے اداروں کو جن کے پاس کھربوں روپیہ کا اثاثہ ہے انھیں کوڑیوں کے مول بیچنے کی تیاری چل رہی ہے۔

Published: undefined

پبلک سیکٹر کے قریب قریب سبھی بینک بربادی کے کگار پر پہنچ گئے ہیں یا جان بوجھ کر پہنچا دیئے گئے ہیں تاکہ انھیں نجی زمرہ میں دے دیا جائے یہ کرونی کیپیٹلزم کی سوچی سمجھی حکمت عملی ہے جس کے تحت پہلے عوامی زمرہ کے اداروں کی کارکردگی کو عوام کی نظروں میں معتوب کر دیا جائے اور پھر انھیں نجی زمرہ کے حوالہ کر دیا جائے اس سے کمیشن یا چندہ وغیرہ کی شکل میں اربوں روپیہ کے وارے نیارے ہو جاتے ہیں اور دھنہ سیٹھوں کی چاندی ہو جاتی ہے۔

Published: undefined

بھارت سنچار نگم (بی ایس این ایل) کی ہی مثال لے لیں بڑے منظم طریقہ سے پہلے اس کی کارکردگی برباد کی گئی پھر اس کے مقابلہ میں جیو کو اتارا گیا یہاں تک کہ اس کے سم سرکاری ڈاک خانوں سے فروخت کیے گئے اور خود مودی جی اس کے برانڈ امبیسڈر بنے اور اب اس کی حالت یہ ہو گئی ہے کہ عملہ کی تنخواہ کے لالے پڑے ہیں دیگر سہولیات تو بہت پہلے ختم کر دی گئی تھیں۔ اطلاعات کے مطابق اس پبلک سیکٹر کے ادارہ پر 13000 کروڑ روپیہ کا قرض ہے جبکہ حکومت پر اس کی دین داری 58000 کروڑ کی ہے، یعنی اگر حکومت اپنا قرض ہی ادا کر دے تو یہ ادارہ 45000 کروڑ کے سرپلس میں آ جائے گا۔

Published: undefined

اس کے علاوہ امبانی کی کمپنی جیو جو بی اس این ایل کے ٹاور استعمال کرتی ہے اس کا بھی اربوں روپیہ کرایہ کا باقی ہے اس پر بھی یہ رقم ادا کرنے کا دباؤ حکومت نہیں ڈال رہی ہے یعنی ایک منصوبہ بند طریقہ سے بی اس این ایل کو بند کرنے اور اسے نجی زمرہ کے ہاتھوں فروخت کرنے کی تیاری قریب قریب پوری ہو چکی ہے۔

Published: undefined

ایئر انڈیا بڑے ہوائی اڈہ وغیرہ پہلے ہی نجی ہاتھوں میں کوڑیوں کے مول دیئے جا چکے ہیں اور اب ریلوے کی نجکاری کا منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے۔ گزشتہ ایک ہفتہ سے زیادہ کا عرصہ گزرچکا ہے ریلوے کی نجکاری کی سازش کے خلاف ریلوے عملہ کی یونین تحریک چلا رہی ہیں جس کی کوئی خبر میڈیا میں نہیں دکھائی جا رہی ہے، بے شرمی کی سبھی حدیں پار کرتی ہماری میڈیا خاص کر ٹی وی چینل اداکارہ زائرہ، ممبر پارلیمنٹ نصرت جہاں اور فرقہ وارانہ جیسے مسائل عوام کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔

Published: undefined

حکومت نے پارلیمنٹ میں بتایا کہ عوامی زمرہ کی 28 کمپنیوں سے سرمایہ نکاسی کا فیصلہ کیا گیا ہے یعنی حکومت ان کمپنیوں میں اپنے حصص (شیئر) فروخت کر کے انھیں نجی زمرہ کے ہاتھوں میں سونپ دے گی۔ کانگرس کے رکن پارلیمنٹ پرکاش نے بھاری صنعتوں کی وزارت سے پبلک سیکٹر کمپنیوں کا بیورہ مانگا تھا جس کے جواب مین متعلقہ وزیر نے ان کمپنیوں کا بیورہ دیا جن سے سرمایہ نکاسی کا فیصلہ کیا جا چکا ہے، ان کمپنیوں کی تعداد 28 ہے اس کے علاوہ 19 دیگر کمپنیوں سے بھی سرمایہ نکاسی پر غور کیا جا رہا ہے ان میں وہ کمپنیاں بھی شامل ہیں جو کبھی نو رتن کہلاتی تھیں۔

Published: undefined

کمپنیوں کو نجی زمرہ میں دینے کی سب سے بڑی قیمت عام آدمی کو ادا کرنی پڑتی ہے، ہو سکتا ہے پہلے ان کمپنیوں کولینے والے سرمایہ کار کچھ بہتر اور سستی خدمات دیں لیکن بعد میں سود سمیت وہ اسے عوام سے ہی واپس لے لیں گے، ان کمپنیوں میں کام کرنے والے عملہ کا خون کیسے چوسا جاتا ہے یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے یہی وجہ ہے کی سرمایہ کار اور کارپوریٹ سیکٹر حکومت پر دباؤ ڈال کر سب سے لیبر قوانین اپنے حق میں تبدیل کرواتے ہیں تاکہ ان کا عملہ انہیں کے رحم و کرم پر رہے اسے کوئی قانونی تحفظ حاصل نہ ہو۔ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر حزب اختلاف کے کمزور ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت کارپوریٹ سیکٹر اور دھنا سیٹھوں کو خوش کرنے کے لئے لیبر قوانین میں تبدیلیاں کر رہی ہے اور مخالفت کی بہت نحیف آواز ہی سنائی پڑ رہی ہے۔

Published: undefined

نا خلف اولادوں کی طرح مودی حکومت باپ دادا کے بنائے ہوئے اثاثہ کو فروخت کر کے عیش کر رہی ہے وہ یہ نہیں سمجھ رہی ہے کہ یہ عوامی زمرہ کے ادارہ ہماری معیشت کے مضبوط ترین ستون ہیں اگر یہ ادارہ نہ ہوتے تو 2008-13 کے درمیان کی عالمی کساد بازاری نے جب امریکہ تک کی معیشت کی چولیں ہلا دی تھیں تب ہندستانی معیشت نہ صرف مستحکم رہی بلکہ تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہی تھی، گھر بیچ کر اور ادھار لے کر گھی پینے کی قیمت ہندوستانی عوام کو ادا کرنی پڑے گی اس لئے مودی جی اور نرملا جی کو ہوش کے ناخن لیتے ہوئے تکڑم بازی اور اعداد و شمار کی بازیگری کے بجائے معیشت کو سدھارنے کی حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined