
نئی دہلی: بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باوجود حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی مصنوعات کی فیس میں تین تین روپے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت نے پٹرول پر روڈ سیس ایک روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 10 روپے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا ہے۔
حکومت کی طرف سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول پر خصوصی ایکسائز ڈیوٹی کو دو روپے سے بڑھا کر آٹھ روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر چار روپے فی لیٹر کر دیا گیا ہے۔ حکومت کے اس فیصلہ کے بعد بین الاقوامی سطح پر قیمتوں کی کمی کا فائدہ صارفین کو نہیں مل پائے گا۔ کانگرس نے اس پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے بی جے پی کی طرف سے ’کھلی لوٹ‘ قرار دیا ہے۔
دہلی کانگریس کے سینئر رہنما اجے ماکن اس حوالہ سے پریس کانفرنس کی اور حکومت پر حملہ بولا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں تیل کی قیمتوں کو بازار سے منسلک کر دیا گیا ہے جس کے بعد بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمتوں کے کم ہونے اور زیادہ ہونے پر صارفین کو دئے جانے والے تیل کی قیمت بھی کم یا زیادہ ہوتی ہے لیکن حکومت نے ایکزائز ڈیوٹی زیادہ ہونے پر حکومت صارفین کو ملنے والے فائدہ کو اپنی جیب میں ڈالنا چاہتی ہے۔
انہوں نے کہا، ’’حکومت کا خیال ہے کہ ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے سے اسے ایک سال میں 40 ہزار کروڑ کا منافع ہوگا۔ پی ایم ایڈوائزری کاؤنسل کے رکن ڈاکٹر نیلیش شاہ نے کل کہا کہ خام تیل کی قیمت جو کم ہوئی ہے اس سے حکومت کو 3 لاکھ 40 ہزار کروڑ روپے کا فائدہ ہو چکا ہے۔ حیرانی کی بات ہے کہ جو حکومت مہنگائی کم کرنے کا وعدہ کر کے اقتدار میں آئی تھی اس حکومت نے ڈیزل اور پٹرول کی ایکسائز ڈیوٹی میں کئی کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔‘‘
ماکن نے کہا کہ حکومت کے اس اقدام کا نقصان کسانوں، ٹرانسپورٹروں اور ہر شخص کو ہر رہا ہے۔ موجودہ حکومت عوام سے اضافہ رقم وصول کر رہی ہے۔ کار اور موٹر سائیکل کی ٹینکی فل کرانے میں ہر شخص سے حکومت ہزاروں روپے اضافی وصول کر لیتی ہے۔
اجے ماکن نے حکومت سے تین مطالبات رکھے:
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 14 Mar 2020, 3:11 PM IST