
تصویر آئی این سی
کانگریس نے ملک کی معیشت کی حالت اور بڑھتی ہوئی معاشی عدم مساوات کو سنگین مسئلہ قرار دیتے ہوئے منگل کے روز الزام لگایا کہ بی جے پی کی قیادت والی مودی حکومت کی جانب سے پیش کیے جا رہے معاشی اعداد و شمار کی ساکھ پر سنگین سوالات پیدا ہو چکے ہیں۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں ملک کو تشہیری سرخیوں کے بجائے ایماندار، شفاف اور قابلِ اعتماد ڈیٹا کی ضرورت ہے۔
پارٹی کے تحقیقاتی شعبے کے سربراہ راجیو گوڑا اور مواصلاتی شعبے میں تحقیقی امور کے انچارج امیتابھ دوبے نے معیشت کی صورت حال پر مبنی ایک رپورٹ جاری کی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ معاشی ترقی کے سرکاری دعوے زمینی حقیقت سے میل نہیں کھاتے۔ ان کے مطابق ملک میں کارپوریٹ منافع میں اضافہ ضرور ہوا ہے، مگر عام شہریوں کے لیے روزگار کے مواقع اور سماجی تحفظ میں بہتری نظر نہیں آ رہی۔
Published: undefined
رپورٹ جاری کرتے ہوئے راجیو گوڑا نے کہا کہ معیشت کی حقیقی حالت حکومت کی ترجیحات کو واضح طور پر ظاہر کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے وقت میں جب معاشی عدم مساوات مسلسل بڑھ رہی ہو اور بڑی آبادی روزگار کے بحران سے دوچار ہو، حکومت کی جانب سے فلاحی اخراجات میں کٹوتی تشویش ناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت غریبوں، نوجوانوں، کسانوں اور خواتین کے لیے سماجی تحفظ کے دائرے کو محدود کر رہی ہے، جس کے اثرات طویل مدت میں مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔
کانگریس رہنما نے یہ بھی کہا کہ بھارت کے معاشی اعداد و شمار کی ساکھ پر عالمی سطح پر بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق بین الاقوامی اداروں کی جانب سے بھارتی ڈیٹا کے معیار پر دی گئی درجہ بندی اس بات کا اشارہ ہے کہ شفافیت اور طریقۂ کار میں خامیاں موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو ایسے ترقیاتی ماڈل کی ضرورت ہے جو صرف تشہیر تک محدود نہ ہو بلکہ روزگار پیدا کرے اور معاشی شمولیت کو فروغ دے۔
Published: undefined
امیتابھ دوبے نے کہا کہ وہ ترقی جو صرف محدود طبقے تک فائدہ پہنچائے، اسے کامیابی نہیں کہا جا سکتا۔ ان کے مطابق بڑھتی عدم مساوات اور عوامی بہبود کے دائرے کا سکڑنا بڑے پیمانے پر معاشی بدانتظامی کی علامت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اچھی پالیسی کی بنیاد ایماندار ڈیٹا ہوتا ہے اور حکومت کو عوام کے سامنے حقیقی معاشی اعداد و شمار پیش کرنے چاہئیں، نہ کہ ایسے اعداد جو تصویر کو مسخ کریں۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ قومی آمدنی اور دولت کا بڑا حصہ آبادی کے ایک چھوٹے سے طبقے کے پاس مرتکز ہو چکا ہے، جبکہ نچلے طبقے کو اس کا نہایت محدود فائدہ مل رہا ہے۔ کانگریس کے مطابق ملک کی ایک بڑی آبادی انتہائی کم یومیہ آمدنی پر گزارہ کرنے پر مجبور ہے، جو معیشت کی کمزور بنیادوں کو ظاہر کرتا ہے۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ موجودہ پالیسیوں کے نتیجے میں نوجوانوں کے مستقبل کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے اور حکومت کو فوری طور پر شفافیت، جواب دہی اور سماجی انصاف پر مبنی معاشی پالیسی اپنانا چاہئے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined