ہفتے میں پانچ دن کام کے مطالبے پر ملک گیر بینک ہڑتال، روزمرہ بینکنگ خدمات متاثر
ہفتے میں 5 دن کام کے مطالبے پر بینک ملازمین ملک گیر ہڑتال پر ہیں، جس سے بینکنگ خدمات متاثر ہوئیں۔ ملازمین نے بڑھتے دباؤ اور زندگی پر پڑنے والے اثرات کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنے مطالبات کو جائز قرار دیا

نئی دہلی: ہفتے میں پانچ دن کام کے مطالبے کو لے کر منگل کے روز ملک بھر میں عوامی شعبے کے بینکوں کے ملازمین ہڑتال پر رہے، جس کے باعث روزمرہ بینکنگ خدمات متاثر ہوئیں۔ یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز کی اپیل پر ہونے والی اس ملک گیر ہڑتال میں مختلف ریاستوں کے بینک ملازمین نے شرکت کی۔ یہ فورم 9 بینک یونینز پر مشتمل ایک مشترکہ پلیٹ فارم ہے، جو پبلک سیکٹر کے بینکوں میں کام کرنے والے افسران اور ملازمین کی نمائندگی کرتا ہے۔ ہڑتال کا فیصلہ 23 جنوری کو چیف لیبر کمشنر کے ساتھ ہونے والی میٹنگ میں کسی حل پر نہ پہنچنے کے بعد کیا گیا۔
ہڑتال کے سبب نقد رقم جمع کرانے اور نکالنے، چیک کلیئرنس اور دیگر بینکنگ خدمات متاثر رہیں۔ اس دوران اسٹیٹ بینک آف انڈیا، پنجاب نیشنل بینک اور بینک آف بڑودہ جیسے بڑے سرکاری بینکوں کی متعدد شاخوں میں کام کاج سست یا مکمل طور پر ٹھپ رہا۔ نجی شعبے کے بینکوں میں تاہم معمول کا کام جاری رہا، کیونکہ ان کے ملازمین اس ہڑتال میں شامل نہیں تھے۔
اتر پردیش، گجرات، بہار، جھارکھنڈ، چھتیس گڑھ اور مغربی بنگال سمیت مختلف ریاستوں میں بینک ملازمین نے احتجاجی مظاہرے کیے اور حکومت سے اپنے مطالبات پورے کرنے کی اپیل کی۔ اتر پردیش کے لکھنؤ میں انڈین بینک کی ملازمہ انشیکا سنگھ ویسن نے کہا کہ گزشتہ دو طرفہ معاہدے میں یہ طے پایا تھا کہ بینکوں میں پیر سے جمعہ تک کام ہوگا اور ہفتہ و اتوار کی چھٹی رہے گی، لیکن اس فیصلے پر اب تک عمل نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق دیگر نکات مان لیے گئے، مگر پانچ دن کام کے نظام کو نافذ نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر دیگر سرکاری اور مالیاتی اداروں کو دیکھا جائے تو وہاں ہفتہ اور اتوار کی تعطیل پہلے ہی نافذ ہے۔ چاہے وہ لائف انشورنس کارپوریشن ہو، ریزرو بینک ہو یا ریاستی و مرکزی حکومت کے دفاتر، سبھی جگہ دو دن کی چھٹی کا نظام موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بینکنگ شعبے میں مسلسل بڑھتے کام کے دباؤ کے باعث ملازمین کی ذاتی اور خاندانی زندگی متاثر ہو رہی ہے۔
انشیکا سنگھ ویسن نے مزید کہا کہ حکومت کی سماجی بہبود کی بیشتر اسکیمیں براہ راست بینکوں کے ذریعے نافذ کی جاتی ہیں۔ دیہی علاقوں، کسانوں اور عام شہریوں تک ان اسکیموں کو پہنچانے میں بینک ملازمین بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ جب بینک ملازمین ملک اور حکومت کے لیے اتنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں تو انہیں بھی مناسب سہولت ملنی چاہیے تاکہ وہ اپنے کام اور گھر کے درمیان توازن قائم رکھ سکیں۔
گجرات کے وڈودرا میں بھی بینک ملازمین نے ہڑتال کرتے ہوئے حکومت کے خلاف احتجاج کیا۔ یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز کے جوائنٹ سیکریٹری سنجے جھا نے کہا کہ فورم کی اپیل پر وڈودرا شہر کے قومیائے گئے بینکوں کے ملازمین نے ہڑتال میں حصہ لیا۔ ان کے مطابق ہفتے میں پانچ دن کام کے مطالبے کو لے کر حکومت کو کئی مرتبہ یادداشتیں دی جا چکی ہیں، مگر اب تک کوئی واضح فیصلہ سامنے نہیں آیا، جس کے باعث ملازمین کو ہڑتال کا راستہ اختیار کرنا پڑا۔
بہار کے پٹنہ میں پنجاب نیشنل بینک کی ملازمہ ریتیکا نے بتایا کہ شہر میں سیکڑوں بینک ملازمین ہڑتال پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز کے اعلان پر یہ احتجاج کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق بینکوں میں کام کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے، جس کے باعث ذہنی دباؤ اور صحت سے متعلق مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی سطح کی اسکیموں کو عملی شکل دینے میں بینک ملازمین کا بڑا کردار ہے، اس لیے پانچ دن کام کا مطالبہ بالکل جائز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مطالبہ تسلیم نہ کیا گیا تو احتجاج مزید سخت ہو سکتا ہے۔
چھتیس گڑھ کے رائے پور میں بھی بڑی تعداد میں بینک ملازمین نے احتجاج کیا۔ اس موقع پر آل انڈیا پنجاب نیشنل بینک کے صدر ملند مارٹے نے کہا کہ ملک بھر میں آٹھ لاکھ سے زائد بینک ملازمین اس ہڑتال میں شریک ہیں۔ ان کے مطابق یہ مطالبہ کئی برسوں سے زیر التوا ہے، جبکہ دیگر سرکاری اداروں میں پہلے ہی ہفتے میں دو دن کی چھٹی دی جا رہی ہے۔
مغربی بنگال کے کوچ بہار میں بھی بینک ملازمین کی تنظیموں نے مختلف بینک شاخوں کے سامنے احتجاج کیا اور اپنے مطالبات دہرائے۔ مختلف ریاستوں میں ہڑتال کے باعث بینک برانچوں میں نقد لین دین اور دیگر خدمات متاثر رہیں، جس سے عام صارفین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔