
مرکزی بجٹ 2026
مالی سال 2026-27 کے لیے وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن کا بجٹ خطاب طویل بھی تھا اور اعلانات سے بھرپور بھی لیکن اس کے باوجود مجموعی معیشت کے لیے ایک صاف اور ہمہ گیر وژن کی کمی نمایاں نظر آئی۔ بجٹ تقریر مختلف شعبوں، اسکیموں اور پروگراموں میں بٹی ہوئی دکھائی دی، جس سے یہ تاثر ابھرا کہ حکومت نے بڑے اسٹریٹجک فیصلوں کے بجائے انتظامی سرگرمیوں اور جزوی اصلاحات پر زیادہ توجہ دی ہے۔
Published: undefined
بجٹ کا مرکزی زور ایک بار پھر سرمایہ جاتی اخراجات پر رہا۔ حکومت نے 2026-27 کے لیے 12.2 لاکھ کروڑ روپے کے کیپیٹل ایکسپینڈیچر کی تجویز دی ہے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اس میں انفراسٹرکچر، مینوفیکچرنگ اور سروس سیکٹر کو ترجیح دی گئی ہے۔ بایوفارما شکتی پروگرام، سیمی کنڈکٹر مشن 2.0، الیکٹرانکس کمپوننٹس اسکیم اور مختلف مینوفیکچرنگ انسینٹیوز کا اعلان اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان بکھری ہوئی اسکیموں کو جوڑنے والا کوئی واضح معاشی بیانیہ بھی موجود ہے؟
تقریر میں حکومت کی ترجیحات اور ممکنہ سمجھوتوں پر خاطر خواہ روشنی نہیں ڈالی گئی۔ عالمی سطح پر بڑھتی جغرافیائی سیاست کی غیر یقینی صورتحال اور سرحدی تناؤ کے باوجود بجٹ خطاب میں دفاع کا براہِ راست ذکر نہ ہونا قابلِ توجہ ہے۔ اسی طرح دیہی معیشت کی ریڑھ سمجھی جانے والی منریگا اسکیم، جسے اب نئے نام سے پیش کیا جا رہا ہے، بجٹ تقریر میں سرے سے شامل ہی نہیں تھی۔ یہ خاموشی اس وقت زیادہ نمایاں محسوس ہوتی ہے جب دیہی علاقوں میں روزگار، حقیقی اجرتوں کی جمود اور مہنگائی ایک سنجیدہ مسئلہ بنی ہوئی ہے۔
Published: undefined
زرعی شعبے کے حوالے سے بجٹ میں تنوع (ڈائیورسی فیکیشن) پر زور دیا گیا ہے اور ناریل، کوکو، چندن اور میوہ جات جیسی ’اعلیٰ قدر والی فصلوں‘ کی بات کی گئی ہے۔ یہ حکمتِ عملی کچھ مخصوص خطوں اور تجارتی کسانوں کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے، مگر ان کروڑوں اناج پیدا کرنے والے کسانوں کے مسائل، جو ملک کی غذائی سلامتی کی بنیاد ہیں، بجٹ تقریر میں نظرانداز دکھائی دیتے ہیں۔ کم از کم امدادی قیمت، سرکاری خرید، بڑھتی لاگت اور فارم گیٹ قیمتوں میں عدم استحکام جیسے بنیادی سوالات پر کوئی واضح موقف سامنے نہیں آیا۔
تنخواہ دار اور متوسط طبقے کے لیے بھی بجٹ فوری طور پر کسی خاص راحت کا باعث نہیں بنتا۔ حکومت نے یکم اپریل 2026 سے نئے انکم ٹیکس قانون کے نفاذ کی بات کی ہے اور عمل کو آسان بنانے پر زور دیا ہے لیکن ٹیکس کی شرحوں یا اسٹینڈرڈ کٹوتی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ یہاں بھی توجہ آمدنی میں اضافے کے بجائے قواعد کو آسان بنانے تک محدود رہی۔
Published: undefined
مالیاتی نظم و ضبط کے حوالے سے حکومت نے خسارہ کم رکھنے کے ہدف کو ضرور دہرایا ہے اور مالی خسارہ جی ڈی پی کے 4.3 فیصد تک محدود رکھنے کی بات کہی گئی ہے، تاہم یہ اعداد و شمار کسی طویل مدتی معاشی حکمتِ عملی کے بجائے محض حسابی احتیاط کا تاثر دیتے ہیں۔ غیر قرضہ جاتی آمدنی اور مجموعی اخراجات کے تخمینے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت کے پاس پالیسی سطح پر فیصلوں کی گنجائش محدود ہے، مگر بجٹ میں یہ واضح نہیں ہو پاتا کہ مستقبل کے ممکنہ سخت فیصلے کن ترجیحات کی بنیاد پر کیے جائیں گے۔
مجموعی طور پر بجٹ 2026-27 ایک ایسے دستاویز کے طور پر سامنے آتا ہے جس میں اسکیموں اور اعلانات کی کمی نہیں، مگر معیشت کے بڑے سوالات، دیہی بحران، زرعی عدم تحفظ، روزگار اور متوسط طبقے کی قوتِ خرید، پر ایک واضح اور مربوط وژن کی کمی محسوس ہوتی ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined