’امرت کال میں آپ کا استقبال ہے‘، کئی ممالک میں پٹرول-ڈیزل کی قیمتیں گھٹنے اور ہندوستان میں بڑھنے پر کانگریس کا طنز
کانگریس ترجمان سپریا شرینیت نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ملک اس وقت شدید مہنگائی کے دور سے گزر رہا ہے، لیکن مودی حکومت عوام کو راحت دینے کے بجائے مسلسل بوجھ بڑھا رہی ہے۔

پٹرول، ڈیزل اور گھریلو استعمال کی اشیاء کی بڑھتی قیمتوں کو لے کر کانگریس کا مودی حکومت پر شدید حملہ جاری ہے۔ کانگریس ترجمان سپریا شرینیت نے آج ایک ویڈیو پیغام میں مرکزی حکومت کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’امرت کال‘ کے نام پر ملک کی عوام پر مہنگائی کا کوڑا برسایا جا رہا ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی مسلسل عوام کی جیب پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ 3 روپے کے اضافہ نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے، جبکہ اس سے قبل کمرشیل سلنڈر کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا گیا تھا، جس کے اثرات اب بازار اور روزمرہ کی اشیاء پر صاف دکھائی دینے لگے ہیں۔
سپریا شرینیت کا ویڈیو پیغام کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کیا ہے۔ اس میں وہ کہتی دکھائی دے رہی ہیں کہ ’’ملک اس وقت شدید مہنگائی کے دور سے گزر رہا ہے، لیکن مودی حکومت عوام کو راحت دینے کے بجائے مسلسل بوجھ بڑھا رہی ہے۔‘‘ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’’امرت کال میں آپ کا استقبال ہے، جہاں نریندر مودی مہنگائی کا چابک چلا رہے ہیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس کا براہ راست اثر ٹرانسپورٹ، سبزیوں، اناج، دودھ اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں پر بھی پڑتا ہے، جس سے غریب اور متوسط طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔
کانگریس ترجمان نے مودی حکومت کی پالیسیوں کا موازنہ دنیا کے دیگر ممالک سے کرتے ہوئے کہا کہ جہاں دنیا بھر کی حکومتیں اپنی عوام کو راحت پہنچانے کے لیے ایندھن پر ٹیکس کم کر رہی ہیں، وہیں ہندوستان میں عوام پر مزید بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ نیپال نے پٹرول 2 روپے اور ڈیزل 12 روپے سستا کیا، آسٹریلیا نے ایکسائز ڈیوٹی کم کر کے پٹرول تقریباً 17 روپے سستا کر دیا، جرمنی نے تیل پر ٹیکس گھٹا کر پٹرول اور ڈیزل 17 سے 19 روپے تک سستا کیا، جبکہ برطانیہ نے بجلی کے بلوں میں 100 پاؤنڈ تک کی رعایت دی اور ایندھن پر ٹیکس کم کیے تاکہ عوام کو مہنگائی سے بچایا جا سکے۔
سپریا شرینیت نے الزام عائد کیا کہ مودی حکومت نے ہندوستان کی انرجی سیکورٹی کو امریکہ کے سامنے سرینڈر کر دیا ہے۔ آج ملک کی توانائی پالیسی دہلی میں تیار نہیں ہو رہی بلکہ واشنگٹن کے اشاروں پر چل رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’آج ہندوستان کے لیے فیصلے نریندر مودی نہیں بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ لے رہے ہیں، اور اس کی قیمت ملک کی عوام ادا کر رہی ہے۔‘‘
کانگریس ترجمان نے مزید کہا کہ مودی حکومت کارپوریٹ کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے میں مصروف ہے، جبکہ عام آدمی مہنگائی کی آگ میں جل رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب عالمی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں استحکام ہے تو پھر ہندوستانی عوام پر اضافی بوجھ کیوں ڈالا جا رہا ہے؟ کانگریس نے مطالبہ کیا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فوری کمی کی جائے اور عوام کو مہنگائی سے راحت فراہم کی جائے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
