آن لائن دنیا میں بچوں کی حفاظت کیسے ممکن؟ والدین کے لیے 5 مؤثر مشورے
انٹرنیٹ بچوں کی تعلیم اور تفریح کا اہم ذریعہ بن چکا ہے، مگر اس کے ساتھ کئی خطرات بھی موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق والدین چند آسان احتیاطی تدابیر اپنا کر بچوں کو محفوظ ڈیجیٹل ماحول دے سکتے ہیں

ڈیجیٹل دور میں بچوں کی زندگی کا بڑا حصہ اب انٹرنیٹ سے جڑ چکا ہے۔ تعلیم، کھیل، ویڈیوز، دوستوں سے رابطہ اور نئی چیزیں سیکھنے کے لیے بچے روزانہ گھنٹوں آن لائن وقت گزارتے ہیں۔ اگرچہ انٹرنیٹ علم اور تفریح کا ایک مفید ذریعہ ہے لیکن اس کے ساتھ سائبر بُلنگ، غلط معلومات، نامناسب مواد اور پرائیویسی سے جڑے کئی خطرات بھی موجود ہیں۔ ایسے میں والدین کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے کہ وہ بچوں کو ایک محفوظ اور مثبت آن لائن ماحول فراہم کریں۔
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف نے والدین کے لیے چند اہم مشورے دیے ہیں، جن پر عمل کر کے بچوں کو آن لائن دنیا کے خطرات سے بچایا جا سکتا ہے اور انہیں متوازن ڈیجیٹل زندگی گزارنے میں مدد دی جا سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق سب سے ضروری بات بچوں کے ساتھ کھل کر گفتگو کرنا ہے۔ والدین کو یہ جاننے کی کوشش کرنی چاہیے کہ بچے آن لائن کس سے بات کرتے ہیں، کون سی ویب سائٹس یا ایپس استعمال کرتے ہیں اور سوشل میڈیا پر کیا شیئر کرتے ہیں۔ بچوں کو یہ سمجھانا بھی ضروری ہے کہ انٹرنیٹ پر پوسٹ کی گئی تصویر، ویڈیو یا تبصرہ ایک مستقل “ڈیجیٹل نشان” چھوڑ دیتا ہے، جو بعد میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اسی لیے بچوں کو ذمہ داری کے ساتھ آن لائن برتاؤ کی تعلیم دینا بہت اہم ہے۔
یونیسیف کے مطابق والدین کو گھر میں گیجٹس کے استعمال کے واضح اصول بنانے چاہئیں۔ بچوں کے سونے، پڑھنے اور کھیلنے کے اوقات متاثر نہ ہوں، اس کا خاص خیال رکھا جائے۔ اگر بچے کو آن لائن کسی بات سے خوف، دباؤ یا بے چینی محسوس ہو تو اسے یہ اعتماد ہونا چاہیے کہ وہ بلا جھجھک والدین سے بات کر سکتا ہے۔
ماہرین نے ٹیکنالوجی کے محفوظ استعمال پر بھی زور دیا ہے۔ بچوں کے فون، ٹیبلٹ یا کمپیوٹر کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ رکھنا ضروری ہے تاکہ سکیورٹی خامیوں سے بچا جا سکے۔ پرائیویسی سیٹنگز فعال رکھنا، ویب کیم کو ضرورت نہ ہونے پر بند یا ڈھانپ دینا اور کم عمر بچوں کے لیے پیرنٹل کنٹرول کا استعمال مفید مانا جاتا ہے۔ والدین کو بچوں کو یہ بھی سکھانا چاہیے کہ وہ اپنا نام، پتہ، اسکول یا ذاتی تصاویر کسی اجنبی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ والدین اگر بچوں کے ساتھ آن لائن وقت گزاریں تو وہ ان کی دلچسپیوں اور سرگرمیوں کو بہتر انداز میں سمجھ سکتے ہیں۔ ایک ساتھ ویڈیوز دیکھنا، کھیل کھیلنا یا تعلیمی مواد تلاش کرنا نہ صرف رشتہ مضبوط بناتا ہے بلکہ بچوں کو غلط معلومات اور نقصان دہ مواد سے دور رکھنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق بچوں کو یہ سکھانا بھی ضروری ہے کہ اشتہارات، جعلی خبروں اور منفی پیغامات کو کیسے پہچانا جائے۔ عمر کے مطابق مناسب ایپس اور کھیلوں کا انتخاب بھی والدین کی نگرانی میں ہونا چاہیے تاکہ بچے غیر مناسب مواد تک رسائی حاصل نہ کر سکیں۔
یونیسیف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بچے والدین کو دیکھ کر سیکھتے ہیں۔ اگر گھر کے بڑے خود موبائل یا سوشل میڈیا کا متوازن اور ذمہ دارانہ استعمال کریں گے تو بچے بھی وہی عادت اپنائیں گے۔ بچوں کی تصاویر یا ویڈیوز شیئر کرتے وقت احتیاط کرنا اور آن لائن گفتگو میں شائستگی اختیار کرنا بھی مثبت مثال قائم کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے کا ایک بہترین ذریعہ بن سکتا ہے۔ بچوں کو ایسے پلیٹ فارمز استعمال کرنے کی ترغیب دینی چاہیے جہاں وہ نئی مہارتیں سیکھ سکیں، اپنی دلچسپیوں کو آگے بڑھا سکیں اور مثبت سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں۔ تاہم اس کے ساتھ جسمانی کھیل، خاندانی وقت اور آف لائن سرگرمیوں کا توازن برقرار رکھنا بھی بے حد ضروری ہے۔
یونیسیف نے والدین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اسکولوں کی ڈیجیٹل پالیسیوں اور مقامی ہیلپ لائنز کے بارے میں بھی معلومات رکھیں تاکہ کسی ناخوشگوار صورتحال میں فوری مدد حاصل کی جا سکے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
