پاکستان: پشاور میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کے خلاف تاجروں کا احتجاج، مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں پر شدید غصہ

پشاور میں تاجروں اور ٹرانسپورٹ کاروباریوں نے اسمارٹ لاک ڈاؤن اور پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرین نے مہنگائی پر قابو پانے اور حکومتی فیصلے واپس لینے کا مطالبہ کیا

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

اسلام آباد: پاکستان کے شہر پشاور میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کے خلاف تاجروں نے سڑکوں پر نکل کر حکومت کے خلاف احتجاج کیا۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق خیبر پختونخوا ٹریڈرز آرگنائزیشن کی قیادت میں نکالی گئی ریلی میں بڑی تعداد میں دکانداروں، تاجروں اور کاروباری افراد نے شرکت کی اور حکومت سے فوری طور پر اسمارٹ لاک ڈاؤن واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

مظاہرین نے حکومت مخالف نعرے لگاتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور بڑھتی مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔ پاکستانی اخبار “دی ایکسپریس ٹریبیون” کے مطابق احتجاج کے دوران تاجر رہنماؤں نے حکومتی پالیسیوں کو معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی۔

احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے ایک مقرر نے کہا کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن سے نہ حکومت کو کوئی فائدہ ہوا اور نہ ہی تاجروں کو ریلیف ملا۔ ان کے مطابق دکانیں رات آٹھ بجے بند کرانے کا فیصلہ کاروبار کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہا ہے کیونکہ شدید گرمی کے باعث لوگ شام کے بعد ہی خریداری کے لیے بازاروں کا رخ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت توانائی بحران پر قابو پانے میں بھی ناکام رہی ہے جبکہ عوام کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی کوئی راحت نہیں ملی۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ ایندھن کی مسلسل بڑھتی قیمتوں نے عام آدمی کی زندگی مشکل بنا دی ہے اور اب بنیادی ضرورت کی اشیا خریدنا بھی دشوار ہو گیا ہے۔ تاجروں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر لاک ڈاؤن کا فیصلہ واپس لیا جائے اور مہنگائی روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔


تجارتی برادری نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاجی تحریک کو مزید وسیع کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی غلط معاشی پالیسیوں کے خلاف ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔

اس سے قبل 9 مئی کو بھی پشاور اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں ٹرانسپورٹ کاروباریوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ ’دی ایکسپریس ٹریبیون‘ کے مطابق درجنوں ٹرانسپورٹ آپریٹر پشاور کے حاجی کیمپ ٹرمینل پر جمع ہوئے تھے اور پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں فوری کمی کا مطالبہ کیا تھا۔

احتجاج کے دوران ٹرانسپورٹ رہنما زبیر احمد قریشی نے کہا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں جبکہ سی این جی بھی دستیاب نہیں۔ رپورٹ کے مطابق حالیہ ایندھن قیمتوں میں اضافے کے بعد ایک ماہ کے اندر پانچویں مرتبہ ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس سے عوامی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔