ایندھن بحران پر ملکارجن کھڑگے کا مودی حکومت پر حملہ، قیادت کی ناکامی کو مہنگائی کی بڑی وجہ قرار دیا
کھڑگے نے ایندھن بحران اور مہنگائی کے لیے مودی حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ قیادت کی ناکامی اور ناقص پالیسیوں کا بوجھ عوام کو پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی قیمتوں کی شکل میں اٹھانا پڑ رہا ہے

نئی دہلی: کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے ایندھن بحران اور مہنگائی کو لے کر مودی حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ ملک اس وقت بین الاقوامی ایندھن بحران کے ساتھ ساتھ قیادت کے بحران، دور اندیشی کی کمی اور نااہلی کا بھی شکار ہے۔ ان کے مطابق اس صورتحال کا بوجھ براہ راست عوام پر پڑ رہا ہے اور لوگ پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی بڑھتی قیمتوں سے پریشان ہیں۔
ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ موجودہ بحران حکومت کی اپنی پیدا کردہ صورتحال ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ پورے ملک میں مہنگائی کو بڑھاتا ہے، جس کا اثر صنعتوں، گھریلو بجٹ اور کسانوں تک محسوس کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق ایندھن مہنگا ہونے سے ضروری اشیا کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور عام آدمی کی مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔
انہوں نے مغربی ایشیا میں جاری جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب خطے میں کشیدگی شروع ہوئی تھی تو حکومت نے یہ تاثر دیا کہ سب کچھ معمول کے مطابق ہے، جبکہ اپوزیشن کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کو نظر انداز کیا گیا۔ کھڑگے نے الزام لگایا کہ حکومت نے بروقت ٹھوس اقدامات نہیں کیے اور ملک کی خود مختاری کو کمزور کیا گیا۔
کانگریس صدر نے روسی تیل کی خریداری کے معاملے پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایسی صورتحال میں پہنچ گئی ہے جہاں اسے امریکہ سے رعایت میں توسیع کی امید لگانی پڑ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حکومت کی خارجہ اور معاشی پالیسی کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔
ملکارجن کھڑگے نے یہ بھی کہا کہ جب عالمی بازار میں خام تیل کی قیمتیں کم تھیں، تب حکومت نے عوام کو کوئی خاص راحت نہیں دی۔ ان کے مطابق گزشتہ دس برسوں میں مرکزی ٹیکسوں کے ذریعے بڑی رقم حاصل کی گئی، لیکن اس کے باوجود عوام کو ایندھن کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ نہیں پہنچایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت انتخابی ماحول میں یہ ظاہر کرتی رہی کہ حالات قابو میں ہیں، لیکن اب بحران بڑھنے پر عوام کو ایندھن بچانے اور گھروں سے کام کرنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔ کھڑگے نے مطالبہ کیا کہ حکومت عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈالنے کے بجائے واضح اور مؤثر معاشی حکمت عملی اختیار کرے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
