بالی ووڈ

شمی کپور: شوخی، رقص اور رومانس سے ہندی سنیما کو نئی توانائی دینے والا اداکار

شمی کپور نے شوخی، رقص، رومانس اور بے ساختہ اداکاری سے ہندوستانی سنیما میں ہیرو کی نئی تصویر پیش کی۔ ’جنگلی‘، ’تیسری منزل‘ اور ’کشمیر کی کلی‘ جیسی فلموں میں ان کا انداز آج بھی یاد کیا جاتا ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا 

شمی کپور ہندوستانی فلموں کے ان یادگار اداکاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے منفرد انداز، بے مثال رقص، شوخ و چنچل شخصیت اور توانائی سے بھرپور اداکاری کے ذریعے پردۂ سیمیں پر ہیرو کی روایتی تعریف ہی بدل دی۔ وہ ایسے دور میں فلموں میں آئے جب سنجیدہ، خاموش اور المیہ کرداروں کو رومانوی ہیرو کی پہچان سمجھا جاتا تھا، لیکن شمی کپور نے اس روایت سے ہٹ کر خوش مزاج، بے فکر، شرارتی اور زندگی سے بھرپور نوجوان کو مرکزِ نگاہ بنایا۔ اسی وجہ سے انہیں بالی ووڈ ’ریبل اسٹار‘ بھی کہا گیا۔

شمی کپور کی اداکاری کی سب سے نمایاں خوبی یہ تھی کہ ان کے کردار صرف مکالموں سے نہیں بلکہ پورے جسم کی حرکات، چہرے کے تاثرات اور رقص کے ذریعے بھی جذبات کا اظہار کرتے تھے۔ ’بار بار دیکھو ہزار بار دیکھو‘، ’چاہے کوئی مجھے جنگلی کہے‘ اور ’آج کل تیرے میرے پیار کے چرچے‘ جیسے گیتوں میں ان کا انداز آج بھی ناظرین کے ذہنوں میں تازہ ہے۔ ان کی بے ساختہ حرکات اور شوخ اداکاری نے فلمی گیتوں کو محض نغمہ نہیں رہنے دیا بلکہ انہیں کردار کی شخصیت کا حصہ بنا دیا۔

شمی کپور 21 اکتوبر 1931 کو بمبئی (ممبئی) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد پرتھوی راج کپور ہندوستانی فلمی دنیا کے عظیم اداکاروں میں شمار ہوتے تھے، جبکہ بڑے بھائی راج کپور بھی اپنے زمانے کے بڑے فلمی ستارے تھے۔ ایسے فلمی ماحول میں پرورش پانے والے شمی کپور کا رجحان بھی اداکاری کی طرف ہوا۔ انہوں نے 1953 میں فلم ’جیون جیوتی‘ سے اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا۔

فلمی دنیا میں قدم رکھنے کے بعد ابتدائی برس شمی کپور کے لیے آسان نہیں تھے۔ 1953 سے 1957 کے درمیان انہوں نے متعدد فلموں میں کام کیا، لیکن انہیں وہ کامیابی نہیں مل سکی جس کی انہیں تلاش تھی۔ ’ٹھوکر‘، ’لڑکی‘، ’محبوبہ‘، ’چور بازار‘، ’تانگے والی‘، ’ہم سب چور ہیں‘ اور ’میم صاحب‘ جیسی فلموں کے باوجود ان کی اپنی شناخت قائم نہیں ہو پائی تھی۔ تاہم ناکامی کے اس دور نے انہیں اپنی اداکاری کا منفرد راستہ تلاش کرنے پر مجبور کیا۔

شمی کپور کی جسمانی ساخت اور ان کی مخصوص باڈی لینگویج ابتدا میں فلم سازوں کے لیے غیر روایتی محسوس ہوتی تھی، لیکن بعد میں یہی انداز ان کی سب سے بڑی شناخت بن گیا۔ انہوں نے روایتی ہیرو کی سنجیدگی کو ترک کرکے کرداروں میں بے فکری، شوخی، شرارت اور رومانوی توانائی شامل کی۔ ان کے اسلوب کے ساتھ موسیقاروں اور گلوکاروں کو بھی اپنی پیشکش میں نئی تازگی پیدا کرنا پڑی۔ محمد رفیع کی آواز نے شمی کپور کے کرداروں کو وہ توانائی دی جس نے ان کے گیتوں کو لازوال بنا دیا۔

شمی کپور کی نجی زندگی بھی فلمی دنیا کی دلچسپ داستانوں سے کم نہیں تھی۔ 1955 میں انہوں نے اداکارہ گیتا بالی سے شادی کی۔ دونوں کی قربت فلم ’مس کوکا کولا‘ اور بعد ازاں ’رنگین راتیں‘ کے دوران بڑھی۔ بتایا جاتا ہے کہ دونوں نے اچانک شادی کا فیصلہ کیا اور 4 اگست 1955 کی رات ایک مندر میں ان کی شادی ہوئی۔ یہ شادی تقریباً ایک دہائی تک قائم رہی اور 1965 میں گیتا بالی کے انتقال کے ساتھ یہ رشتہ ختم ہو گیا۔

شمی کپور کے فلمی کیریئر میں فیصلہ کن موڑ 1957 میں آیا، جب ناصر حسین کی فلم ’تم سا نہیں دیکھا‘ ریلیز ہوئی۔ فلم کی کامیابی اور اس کے مقبول گیتوں نے شمی کپور کو نمایاں ستاروں کی صف میں پہنچا دیا۔ اس کے بعد ’دل دے کے دیکھو’، ’جنگلی‘، ’پروفیسر‘، ’چائنا ٹاؤن‘، ’بلف ماسٹر‘، ’کشمیر کی کلی‘، ’راجکمار‘، ’جانور‘، ’تیسری منزل‘، ’این ایوننگ اِن پیرس‘، ’برہمچاری‘، ’تم سے اچھا کون ہے‘ اور ’پرنس‘ جیسی فلموں نے ان کی مقبولیت کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔

ساٹھ کی دہائی میں شمی کپور اپنے عروج پر تھے۔ نئی اداکاراؤں کو متعارف کرانے کے لیے بھی انہیں موزوں ہیرو سمجھا جاتا تھا۔ سائرہ بانو کے ساتھ ’جنگلی‘، آشا پاریکھ کے ساتھ ’دل دے کے دیکھو‘ اور شرمیلا ٹیگور کے ساتھ ’کشمیر کی کلی‘ ان کی مقبول فلموں میں شامل ہیں۔

14 اگست 2011 کو شمی کپور 79 برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہو گئے۔ تقریباً 5 دہائیوں پر محیط اپنے فلمی سفر میں انہوں نے لگ بھگ 200 فلموں میں کام کیا۔ انہیں گزرے 15 برس ہو چکے ہیں، لیکن ان کی اداکاری کی شوخی، رقص کی بے ساختگی اور زندگی سے بھرپور انداز آج بھی ہندی سنیما کے شائقین کو محظوظ کرتا ہے۔ شمی کپور نے صرف فلموں میں کردار ادا نہیں کیے، بلکہ ہیرو کے انداز کو ہی ایک نئی زبان دے دی، اور یہی ان کی سب سے بڑی میراث ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔