
راجندر کمار / آئی اے این ایس
ہندی سنیما کی تاریخ میں چند فنکار ایسے گزرے ہیں جنہوں نے اپنی غیر معمولی اداکاری، دلکش شخصیت اور ایک سے بڑھ کر ایک کامیاب فلموں کے ذریعے ایسا مقام حاصل کیا جو وقت گزرنے کے باوجود مدھم نہیں پڑا۔ انہی عظیم اداکاروں میں ایک نام راجندر کمار کا بھی ہے، جنہیں پوری فلمی دنیا محبت سے ’جوبلی کمار‘ کہتی تھی۔ یہ لقب انہیں کسی اتفاق سے نہیں ملا بلکہ اس کی وجہ ان کی وہ غیر معمولی کامیابی تھی جس کے تحت ان کی فلمیں مہینوں بلکہ کئی بار سال بھر تک سنیما گھروں میں چلتی رہیں اور سلور، گولڈن اور ڈائمنڈ جوبلی مناتی رہیں۔ 12 جولائی 1999 کو ان کے انتقال کے ساتھ ہندی سنیما کے سنہری دور کا ایک روشن باب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا، لیکن ان کا نام آج بھی اسی شان سے زندہ ہے۔
راجندر کمار 20 جولائی 1927 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے، جو تقسیم ہند کے بعد پاکستان کا حصہ بن گیا۔ تقسیم کے المیے کے بعد ان کا خاندان ہندوستان منتقل ہو گیا اور ممبئی میں نئی زندگی کا آغاز کیا۔ یہیں انہوں نے فلمی دنیا میں قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا۔ ابتدا میں انہوں نے معروف ہدایت کار ایچ ایس رویل کے معاون کے طور پر کام کیا، جہاں انہوں نے فلم سازی کے مختلف پہلوؤں کو قریب سے سمجھا اور عملی تجربہ حاصل کیا۔
1950 کی دہائی میں انہوں نے بطور اداکار فلمی سفر شروع کیا۔ اگرچہ ابتدائی برسوں میں انہیں جدوجہد کرنا پڑی، لیکن 1957 میں ریلیز ہونے والی شہرۂ آفاق فلم ’مدر انڈیا‘ نے انہیں ملک بھر میں پہچان دلائی۔ اس کامیابی کے بعد انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور جلد ہی وہ ہندی سنیما کے صفِ اول کے اداکاروں میں شمار ہونے لگے۔
1960 کی دہائی راجندر کمار کے کیریئر کا سب سے تابناک دور ثابت ہوئی۔ اس زمانے میں ان کی فلمیں ایک کے بعد دوسری کامیابی حاصل کرتی رہیں اور سنیما گھروں میں طویل عرصے تک چلتی رہیں۔ اسی مسلسل کامیابی نے انہیں ’جوبلی کمار‘ کا لازوال لقب عطا کیا۔ اس دور میں ان کی کئی فلموں نےناظرین کے دلوں پر راج کیا، جن میں ’میرے محبوب‘، ’سنگم‘، ’دل ایک مندر‘، ’آرزو‘، ’سورج‘، ’آئی ملن کی بیلا ‘اور ’دھول کا پھول‘ خاص طور پر شامل ہیں۔ یہ فلمیں نہ صرف باکس آفس پر کامیاب رہیں بلکہ آج بھی کلاسیکی ہندوستانی سنیما کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہیں۔
راجندر کمار کی اداکاری کا سب سے نمایاں پہلو ان کے جذبات سے بھرپور کردار تھے۔ محبت، قربانی، خاندانی ذمہ داری، وفاداری اور انسانی احساسات سے جڑے کرداروں کو وہ اس قدر فطری انداز میں نبھاتے تھے کہ ناظرین خود کو ان کے کرداروں کے ساتھ جڑا ہوا محسوس کرتے تھے۔ ان کی اداکاری میں بناوٹ کے بجائے سادگی، وقار اور خلوص نمایاں ہوتا تھا، یہی وجہ تھی کہ وہ ہر عمر کے ناظرین میں یکساں مقبول رہے۔
اداکاری کے علاوہ راجندر کمار نے فلم سازی کے میدان میں بھی قدم رکھا اور کئی منصوبوں سے وابستہ رہے۔ انہوں نے اپنے صاحبزادے کمار گورو کے فلمی کیریئر کو آگے بڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ فلمی صنعت میں انہیں نہ صرف ایک کامیاب اداکار بلکہ خوش اخلاق، نرم مزاج اور مضبوط تعلقات رکھنے والی شخصیت کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے۔
ہندی سنیما کے لیے ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں حکومتِ ہند نے انہیں پدم شری سے نوازا۔ تقریباً چار دہائیوں پر محیط فلمی سفر میں انہوں نے 80 سے زیادہ فلموں میں اداکاری کی اور بے شمار ایسے کردار چھوڑے جو آج بھی شائقینِ سنیما کے ذہنوں میں تازہ ہیں۔
12 جولائی 1999 کو ممبئی میں ان کا انتقال ہوا، مگر ان کی اصل میراث صرف کامیاب فلمیں نہیں بلکہ وہ جذباتی رشتہ بھی ہے جو انہوں نے لاکھوں ناظرین کے دلوں سے قائم کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی جب ہندی سنیما کے سنہری دور کا ذکر ہوتا ہے تو ’جوبلی کمار‘ راجندر کمار کا نام احترام، محبت اور کامیابی کی ایک لازوال علامت کے طور پر لیا جاتا ہے۔ ان کی فلمیں نئی نسل کو بھی اس دور کی سادگی، رومانویت اور خالص اداکاری کی یاد دلاتی رہیں گی۔
ان پٹ آئی اے این ایس
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔