
سعودی عرب کی ایک خاتون ڈاکٹر نے دنیا میں ڈاکٹروں، امراض نسواں کی ماہروں اور نرسوں کی کوششوں کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا ہے کہ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ڈاکٹر کورونا سے لڑنے اورمریضوں کے علاج معالجے کے لیے کس طرح کی محنت اور تگ و دو کر رہے ہیں۔
شاہ فہد یونیورسٹی اسپتال میں شعبہ امراض طب اور ماہر امراض قلب ڈاکٹر منیرہ الملحم نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ٹوئٹر کے ذریعہ ایک پیغام بھیجا کہ وہ خواتین اور بچوں کی پیدائش کی ماہرین، ڈاکٹروں اور طبی عملے کی طرف سے کی جانے والی زبردست کوششوں کی طرف توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی۔ پیغام کا مقصد ماں اور بچے اور زچگی جیسے مسائل کے حوالے سے طبی خدمات انجام دینے والے عملے کو عزم اور حوصلے کو بلند کرنا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بہت سی حاملہ خواتین کرونا کا شکار ہو رہی ہیں۔ ان کی زچگی کے عمل کے دوران طبی خدمات انجام دینے والے ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر طبی عملے کو کتنی جان فشانی کے ساتھ اپنی پیشہ وارانہ ڈیوٹی دینے کے ساتھ ساتھ خود کو کرونا سے بچانے میں کتنی مشکلات پیش آتی ہیں۔
ڈاکٹر منیرہ الملحم کا کہنا ہے کہ ان کے ٹوئٹر پیغام پر لوگوں نے بے پناہ اور مثبت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ جب حاملہ عورت کرونا وائرس سے متاثر ہوجاتی ہے تو یہ بیماری کسی دوسرے مریض کی طرح ہی زندہ رہتی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 23 Jun 2020, 2:46 PM IST