دہلی: ڈاکٹر نریش کمار کا جی پی اے سرکلر واپس لینے کا مطالبہ، وزیراعلیٰ ریکھا گپتا کو مکتوب پیش
ڈاکٹر نریش کمار نے وزیراعلیٰ کو مکتوب دے کر جی پی اے سے متعلق سرکلر کو فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے عوام کو تاخیر، بدعنوانی اور غیر ضروری دفتری کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا

نئی دہلی: دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے سینئر ترجمان ڈاکٹر نریش کمار نے دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا کو ایک مکتوب پیش کرتے ہوئے جنرل پاور آف اٹارنی (جی پی اے) سے متعلق دہلی حکومت کے حالیہ سرکلر کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اسٹامپ ڈیوٹی چوری روکنے کے نام پر ایسا انتظام نافذ کیا ہے جس سے عوام کے لیے غیر ضروری دفتری رکاوٹیں، تاخیر اور مشکلات پیدا ہوں گی۔
ڈاکٹر نریش کمار نے کہا کہ سرکلر کے مطابق غیر منقولہ جائیداد سے متعلق ایسے تمام جنرل پاور آف اٹارنی، جو قریبی خونی رشتے داروں کے علاوہ کسی تیسرے شخص کے حق میں ہوں، رجسٹریشن سے قبل کلکٹر آف اسٹامپس کے پاس جانچ اور فیصلہ کے لیے بھیجے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ سرکلر میں کلکٹر آف اسٹامپس کو 30 دن کے اندر فیصلہ دینے کی ہدایت دی گئی ہے، تاہم غیر معمولی حالات میں اس مدت کو تین ماہ تک بڑھایا جا سکتا ہے، جس سے عام شہریوں کو طویل انتظار اور سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پڑ سکتے ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اس نئی شرط سے رجسٹریشن کا عمل مزید پیچیدہ ہو جائے گا اور بدعنوانی کے امکانات بھی بڑھیں گے۔ ان کے مطابق اس فیصلے کا سب سے زیادہ اثر ان شہریوں پر پڑے گا جو قانونی طریقے سے اپنی جائیداد کے معاملات نمٹانا چاہتے ہیں۔ ڈاکٹر نریش کمار نے کہا کہ اگر حکومت واقعی اسٹامپ ڈیوٹی کی چوری روکنے میں سنجیدہ ہے تو اسے زمین مافیا اور جعل سازی میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے، نہ کہ ایماندار شہریوں پر اضافی ضابطے نافذ کیے جائیں۔
انہوں نے حکومت کی پالیسی میں تضاد کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق ایک طرف حکومت نے جائیداد کی رجسٹریشن کے لیے عدم اعتراض سرٹیفکیٹ کی شرط ختم کر دی، جبکہ دوسری طرف تیسرے شخص کے حق میں جنرل پاور آف اٹارنی کے معاملات کو کلکٹر آف اسٹامپس کی منظوری سے مشروط کر دیا، جس سے عوام میں الجھن پیدا ہوگی اور رجسٹریشن کا عمل مزید سست ہو جائے گا۔
ڈاکٹر نریش کمار نے کہا کہ سرکلر میں ذیلی رجسٹراروں کو یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ہر ایسے جنرل پاور آف اٹارنی کی باریک بینی سے جانچ کریں جس میں ملکیت کی منتقلی، رقم کی ادائیگی، قبضہ کی حوالگی، ناقابل تنسیخ اختیارات یا جائیداد فروخت کرنے جیسے اختیارات شامل ہوں۔ ان کے مطابق ایسے معاملات میں رجسٹریشن اس وقت تک نہیں ہو سکے گی جب تک کلکٹر آف اسٹامپس کا فیصلہ موصول نہ ہو جائے۔
انہوں نے وزیراعلیٰ ریکھا گپتا سے مطالبہ کیا کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے اس سرکلر کو فوری واپس لیا جائے تاکہ شہری غیر ضروری تاخیر، دفتری پیچیدگیوں اور ممکنہ بدعنوانی سے محفوظ رہ سکیں۔
